حدیث نمبر: 2675
ثنا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ الْفَقِيهُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ ذَكَرَ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ يُطْلَبُ وَلَكِنْ عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے: ”جمرات کو اس وقت تک کنکریاں نہ مارو، جب تک سورج نہ نکل آئے۔“
حدیث نمبر: 2676
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَخْرُجْنَ مِنْ جَمْعٍ لَيْلَةَ جَمَعَ فَيَرْمِينَ الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ تُصْبِحُ فِي مَنْزِلِهَا فَكَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَتْ " . قَالَ عَطَاءٌ : وَلَمْ أَزَلْ أَفْعَلُهُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی روانہ ہو جائیں اور جمرات کو کنکریاں مار لیں، پھر صبح کے وقت اپنی قیام گاہ پر واپس آ جائیں، تو وہ خواتین ایسا ہی کرتی رہیں، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوا (یعنی وہ زندگی بھر اسی طرح کرتی رہیں)۔ عطاء بیان کرتے ہیں: ہم بھی اسی طرح کرتے رہیں گے۔
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الأَشَجِّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَضَى حَجَّهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا حج مکمل کر لیا، تو آپ کے طواف افاضہ کرنے سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 2678
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْجَوْهَرِيُّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بَعْدَمَا يَذْبَحُ وَيَحْلِقُ ، قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، جب آپ نے جانور ذبح کر لینے کے بعد سر منڈوا لیا تھا، اس وقت آپ نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2679
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالا : نا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے سے پہلے آپ کے احرام پر خوشبو لگائی تھی اور آپ کے احرام کھولنے کے وقت طواف افاضہ کرنے سے پہلے (آپ کو خوشبو لگائی تھی)۔
حدیث نمبر: 2680
ثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزْدَادَ الْكَاتِبُ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِ النَّحْرِ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ وَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلَّ جَمْرَةٍ سَبْعَ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الأُولَى وَعِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کے آخری دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ واپس تشریف لے گئے اور ایام تشریق کی راتیں منی میں بسر کیں، آپ سورج ڈھل جانے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارا کرتے تھے، آپ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارا کرتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، آپ نے پہلے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا، دوسرے جمرہ کے پاس بھی وقوف کیا تھا اور وہاں کھڑے ہو کر کافی دیر گریہ و زاری (کے ساتھ دعا) کرتے رہے تھے، پھر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مارنے کے وقت وہاں پر وقوف نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2681
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، نا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَمْشِي فِي رَمْيِهِ الْجِمَارَ ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ، وَلا يَرْكَبُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا " . وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلانِ ذَلِكَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنکریاں مارنے کے لیے پیدل تشریف لے گئے تھے اور پیدل ہی واپس تشریف لائے تھے، اس دوران آپ کسی سواری پر سوار نہیں ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2682
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : " رَمَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، فَأَمَّا بَعْدَهُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے زوال کے وقت اس کو کنکریاں ماریں۔ ابن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں: جمرہ عقبہ کو قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں ماری جائیں گی اور اس سے اگلے دن اس وقت ماری جائیں گی، جب سورج ڈھل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2683
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ، نا عمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2684
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ ، مَسْجِدَ مِنًى ، يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ وَيَدْعُو ، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّالِثَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو کنکریاں ماریں، جو مسجد منی کے قریب ہے، تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ہر ایک کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ اس جمرہ کے آگے آئے اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا مانگنا شروع کی، آپ خاصی دیر وہاں کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمرہ کے پاس تشریف لائے اور اسے بھی سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ تھوڑا سا بائیں طرف ہٹ گئے، جو وادی والا حصہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا مانگنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے جمرہ کے پاس تشریف لے گئے، جو عقبہ کے پاس ہے، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی، پھر آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے، پھر آپ نے اس کے پاس وقوف نہیں کیا۔ زہری نے یہ بات بیان کی ہے: میں نے سالم بن عبداللہ کو اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2685
ثنا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيُّ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ ، نا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، نا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ ، وَأَيَّ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ شَاءُوا " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے چرواہوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ رات کے وقت کنکریاں مار سکتے ہیں، یا دن کے وقت کسی بھی وقت میں ایسا کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2686
ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَزَّازُ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَمَى وَحَلَقَ وَذَبَحَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ ، إِلا النِّسَاءُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب آدمی کنکریاں مارے اور سر منڈوا لے اور زبانی کر لے، تو وہ ہر چیز کے لیے حلال ہو جاتا ہے، البتہ بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ وَذَبَحْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ ، إِلا النِّسَاءُ ، وَحَلَّ لَكُمُ الثِّيَابُ وَالطِّيبُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم کنکریاں مار لو، سر منڈوا لو، قربانی کر لو، تو تم ہر چیز کے لیے حلال ہو جاؤ گے (البتہ عورت کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتے)، تمہارے لیے سلے ہوئے لباس پہننا اور خوشبو لگانا حلال ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2688
وَثنا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، نا أَبُو الْعَلاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَسْبَاطِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ وَذَبَحْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلا النِّسَاءُ " . وَعَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم کنکریاں مار لو، سر منڈوا لو، قربانی کر لو، تو تم ہر چیز کے لیے حلال ہو جاتے ہو، البتہ عورت کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2689
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نا أبِي ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي يَكُونُ عِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو پیغام بھیجا، انہوں نے صبح صادق سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر وہ گئیں اور انہوں نے طواف افاضہ کر لیا، یہ اس دن کی بات ہے، جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں قیام کرنا تھا۔
حدیث نمبر: 2690
نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُغَلِّسُ ، نا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ . ح وَثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالُوا : نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا نَفَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ، إِلا الْحُيَّضُ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ " . وَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلا الْحُيَّضُ رَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص واپس جانے لگے، تو سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف کرے، البتہ حیض والی عورتوں کے لیے یہ حکم نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی ہے (وہ آخری مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیے بغیر واپس جا سکتی ہیں)۔ ابوعمار نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: جو شخص بیت اللہ کا حج کرے، اسے سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیے، البتہ حیض والی عورتوں کا حکم مختلف ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی ہے (کہ وہ طواف وداع کیے بغیر واپس جا سکتی ہیں)۔
حدیث نمبر: 2691
ثنا ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الأَشْعَثِ ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ . يَعْنِي الْحَائِضَ تَنْفِرُ ، فَقَالَ : " تُقِيمُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ " . قَالَ طَاوُسٌ : فَلا أَدْرِي ابْنُ عُمَرَ نَسِيَهُ أَمْ لَمْ يَسْمَعْ مَا سَمِعَ أَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ عَامًا أَوْ عَامَيْنِ شَهِدْتُهُ وَسُئِلَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " نُبِّئْتُ أَنَّهُ رُخِّصَ لَهُنَّ ".
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، یعنی حیض والی عورت کے واپس جانے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ وہیں ٹھہری رہیں گی، جب تک وہ آخری مرتبہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر لیتی۔ طاؤس نے بیان کیا: مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس روایت کو بھول گئے یا انہوں نے اس روایت کو سنا ہی نہیں، جو ان کے دوسرے ساتھیوں نے سنا تھا، اس کے بعد ایک یا دو سال بعد میں ان کے پاس موجود تھا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے بتایا: مجھے یہ بات بیان کی گئی ہے، ان خواتین کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے (وہ طواف وداع کیے بغیر واپس جا سکتی ہیں)۔