حدیث نمبر: 2673
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ الْمُقَوِّمِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اخْتَلَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَسْأَلُهُ كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ " فَصَبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا " .
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ حالت احرام والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ تو ان حضرات نے مجھے حصہ ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں یہ دریافت کروں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے دیکھا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو حالت احرام میں دھو لیتے تھے (یا نہیں)، تو سیدنا ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے سر پر پانی بہایا، اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے کی طرف لے کر گئے اور پیچھے سے واپس لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 2674
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُمُّهُ كَبْشَةُ بِنْتُ مَعْدِي كَرِبَ عَمَّةُ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي آلَيْتُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَبْوًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طُوفِي عَلَى رِجْلَيْكَ سَبْعَيْنِ ، سَبْعًا عَنْ يَدَيْكِ وَسَبْعًا عَنْ رِجْلَيْكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ ان کی والدہ کبشہ بنت معدی کرب موجود تھیں، ان کی والدہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے یہ نذر مانی ہے، میں سیرین کے بیت اللہ کا طواف کروں گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے پاؤں پر چل کر طواف کرو، سات مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف سے اور سات مرتبہ دونوں پاؤں کی طرف سے۔“