حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، فَمِنْ قَائِلٍ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا ، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ : " لا حَرَجَ إِلا رَجُلٌ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ ، فَذَاكَ الَّذِي خَرَجَ وَهَلَكَ " . وَلَمْ يَقُلْ : سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ إِلا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کوئی یہ کہہ رہا تھا: ”یا رسول اللہ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی ہے۔“ یا میں نے ایک چیز کو موخر کر دیا ہے، یا ایک رکن کو پہلے کر لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرما رہے تھے: ”کوئی حرج نہیں ہے، ماسوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچائے اور وہ زیادتی کرنے والا ہو، یہ شخص حرج کا شکار ہو جائے گا اور ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔“ صرف جریر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی۔“
حدیث نمبر: 2566
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ آخَرُ : ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کی: ”میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک اور شخص بولا: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ہے!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو! کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2567
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْحَرْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا ، إِلا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْهُ وَلا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ٹھہر گئے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنا شروع کیے، ان میں سے کسی نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے یہ پتا نہیں تھا، قربانی سے پہلے کنکریاں مارنی ہیں، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ دوسرے شخص نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے پتا نہیں تھا، قربانی سر منڈوانے سے پہلے ہو گی، میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی کسی معاملے سے متعلق سوال کیا گیا، جسے کوئی شخص بھول گیا تھا یا جس سے وہ واقف نہیں تھا، یعنی اس نے کوئی کام کسی دوسرے کام سے پہلے کر لیا، یا اس طرح کا کوئی عمل پہلے کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہی فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2568
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2569
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا : نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، قَالَ : " انْحَرْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَلا أَخَّرَهُ ، إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " . كَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ فِي حَدِيثِهِ : أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ ، وَأَرَاهُ وَهَمَ فِيهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں اپنی اونٹنی پر موجود تھے، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا، قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا جاتا ہے، تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں یہ سمجھتا تھا، کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لینا چاہیے، اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، یعنی آدمی نے کوئی کام پہلے کر لیا یا بعد میں کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ اضافی ہیں: ”کنکریاں مارنے سے پہلے روانہ ہو گیا۔“ ان الفاظ میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی اور میرا خیال ہے، راوی کو یہ الفاظ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، والْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نا رَوْحٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، قربانی کے دن ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، اس شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ پھر ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی طواف افاضہ کر لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2571
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا رَوْحٌ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ أَوْ ذَبَحَ أَوْ نَحَرَ ، وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَرَجَ لا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا، جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا یا ذبح کر لیا یا قربانی کر لی یا اسی کی مانند کسی کام کو پہلے کرنے یا بعد میں کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا رَوْحٌ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نا عَطَاءُ ، وَغَيْرُهُ هَؤُلاءِ الثَّلاثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ ، الْحَلْقُ مِنَ الرَّمْيِ وَالرَّمْيُ مِنَ الْحَلْقِ " ، وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ ، النَّحْرُ مِنَ الرَّمْيِ وَالرَّمْيُ مِنَ النَّحْرِ " ، وَقَالَ : رَجُلٌ آخَرُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، احْلِقْ ؟ قَالَ : " احْلِقْ وَلا حَرَجَ ، النَّحْرُ مِنَ الْحَلْقِ وَالْحَلْقِ مِنَ النَّحْرِ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدِيثُ عَطَاءٍ هَذَا فِي أَثَرِ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : مَا كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاءِ الثَّلاثِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَرَجَ " ، وَفِي هَذِهِ الثَّلاثِ : الْحَلْقُ قَبْلَ الرَّمْيِ.
محمد محی الدین
عطاء اور دیگر راویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ تین باتیں نقل کی ہیں، ایسے شخص کے بارے میں جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے، منڈوانا بھی رمی کا حصہ ہے اور رمی کرنا بھی سر منڈوانے کی طرح ہے۔“ ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، قربانی کرنا کنکریاں مارنے کا حصہ ہے اور کنکریاں مارنا قربانی کرنے کی طرح ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک اور شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے سر منڈوانے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب سر منڈوا لو، کوئی حرج نہیں ہے، قربانی کرنا سر منڈوانے کا حصہ ہے اور سر منڈوانا قربانی کرنے کی طرح ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں: ”سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”(اس شخص نے عرض کی) میں یہ سمجھا تھا، فلاں کام فلاں سے پہلے ہے (راوی نے یہ الفاظ تین کاموں کے بارے میں نقل کیے ہیں)“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ تین کام ہیں، یعنی کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لینا۔
حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نا رَوْحٌ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، قَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ آخَرُ فَقَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاءِ الثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : مَا وَجَدْتُ : يَخْطُبُ إِلا فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . وَهُوَ حَسَنٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”میں یہ سمجھتا تھا، فلاں اور فلاں کام، فلاں اور فلاں کام سے پہلے ہیں۔“ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں سمجھتا تھا، فلاں کام ان تین کاموں سے پہلے ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا، آپ نے یہی فرمایا: ”اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، صرف ابن جریج نے زہری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔“ یہ روایت حسن ہے۔
حدیث نمبر: 2574
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ، نا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ وَشَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ " لا حَرَجَ لا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قربانی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی ایسے کام کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی شخص نے کسی دوسرے کام سے پہلے کر لیا ہو یا کوئی ایک کام کسی دوسرے سے پہلے کر لیا ہو، راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2575
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ ، فَيَقُولُ : " لا حَرَجَ " ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : " لا حَرَجَ " ، قَالَ : رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : " لا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2576
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، تم اب رمی کر لو۔“