حدیث نمبر: 2514
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نا عَمِّي ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَوْقِفِ مِنْ جَمْعٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّءٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي ، وَاللَّهِ إِنْ تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا الْغَدَاةَ بِجَمْعٍ ، وَقَدْ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ ، وَتَمَّ حَجُّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ نے مزدلفہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں طے کے دو پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، میں نے اپنی سواری کو بھی تھکا دیا ہے اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، اللہ کی قسم! میں نے ہر پہاڑ کے پاس پڑاؤ کیا ہے، تو میرا حج ہو جائے گا، اے اللہ کے رسول!؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی اور جو اس سے پہلے رات کے وقت یا دن کے وقت عرفات تک پہنچ گیا، تو اس نے اپنی نذر کو پورا کر لیا اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 2515
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّرَامِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاةَ ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " . قَالَ الشَّعْبِيُّ : وَمَنْ لَمْ يَقِفْ بِجَمْعٍ جَعَلَهَا عَمْرَةً.
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میرا حج ہو گیا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کر لے اور ہمارے ساتھ اس وقت تک ٹھہرا رہے، جب تک ہم روانہ نہ ہو جائیں یا جو شخص رات کے وقت یا دن کے وقت اس سے پہلے عرفات سے روانہ ہو جائے، اس کا حج مکمل ہو جائے گا اور اس نے اپنی نذر کو پورا کر لیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو شخص مزدلفہ میں وقوف نہیں کر پاتا، وہ اسے عمرہ بنا لے۔
حدیث نمبر: 2516
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْحَجُّ ؟ قَالَ : " الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَةُ ، مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عرفہ میں پڑاؤ کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جدہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! حج کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حج عرفہ (میں وقوف کا نام ہے)، جو شخص قربانی کے دن صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج پورا ہو گیا، منی کے ایام تین ہیں، لیکن جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا اور جو شخص بعد میں (یعنی تیسرے دن بھی) ٹھہرا رہے، اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2517
نا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا أبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، نا شعْبَةُ ، نا بكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2518
نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ ، نا دَاوُدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، نا رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ أَبُو هَاشِمٍ الْفَرَّاءُ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ بِلَيْلٍ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ، وَمَنْ فَاتَهُ عَرَفَاتٌ بِلَيْلٍ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ ، فَلْيَحِلَّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " . رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص رات کے وقت عرفات میں وقوف کرے، اس نے حج کو پا لیا اور جو شخص رات کے وقت عرفات میں وقوف نہیں کر سکا، اس کا حج قضاء ہو جائے گا، تو وہ عمرے کا احرام باندھ لے، اب اس پر اگلے سال حج کرنا لازم ہو گا۔“ رحمت بن مصعب نامی راوی ضعیف ہے، اس روایت کو اس کے علاوہ اور کسی نے بھی نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2519
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَاتٍ فَوَقَفَ بِهَا ، وَالْمُزْدَلِفَةَ ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَمَنْ فَاتَهُ عَرَفَاتٌ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ ، فَلْيَحِلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص عرفات پہنچ کر وہاں وقوف کرے اور مزدلفہ بھی پہنچ جائے، اس کا حج مکمل ہو جائے گا اور جو شخص عرفات نہ پہنچ سکے، اس کا حج بھی نہیں ہو سکے گا، اسے عمرے کا احرام باندھ لینا چاہیے، اب اس پر اگلے سال حج کرنا لازم ہو گا۔“