حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالا : ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، فَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : أَتَيْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أُطِيقُ الصِّيَامَ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ مَدًّا " ، قَالَ : مَا أَجِدُ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، قَالَ : " أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ فَكُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ ، فَقَدْ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ " .
محمد محی الدین
محمد بن حسن اپنے والد (حسن) کے حوالے سے، ان کے والد (امام زین العابدین رحمہ اللہ) کے حوالے، ان کے دادا (امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاکت کا شکار کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کوئی غلام یا کنیز ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر ایک مسکین کو ایک مد دو۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی گنجائش نہیں رکھتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے یہ ہدایت کی کہ: ”اسے پندرہ صاع دیے جائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ اس نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! پورے شہر میں ہمارے گھر والوں سے زیادہ محتاج اور کوئی نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ، اس سے تم بھی کھاؤ اور تمہارے گھر والے بھی کھائیں، اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے کفارہ ادا کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2396
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَفْطَرْتُ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً ، أَوْ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
محمد محی الدین
عامر بن سعد اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان کے مہینے میں ایک دن جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو یا دو ماہ کے روزے رکھو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“
حدیث نمبر: 2397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ ، أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : فَقَالَ : لا أَجِدُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ ، فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " كُلْهُ " . تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَبُو أُوَيْسٍ ، وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، وَشِبْلٌ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مِنْ رِوَايَةِ أَشْهَبَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْهُ . وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، مِنْ رِوَايَةِ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْهُ . وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، مِنْ رِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ مَطَرٍ عَنْهُ . وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، إِلا أَنَّهُ أَرْسَلَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كُلُّ هَؤُلاءِ رَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ وَجَعَلُوا كَفَّارَتُهُ عَلَى التَّخْيِيرِ . وَخَالَفَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُمْ عَدَدًا ، فَرَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنَّ إِفْطَارَ ذَلِكَ الرَّجُلِ كَانَ بِجِمَاعٍ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، مِنْهُمْ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، وَعُقَيْلٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْعَوَضِيُّ ، وَهَيَّارُ بْنُ عَقِيلٍ ، وَثَابِتُ بْنُ ثَوْبَانَ ، وَقُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَبَحْرٌ السِّقَاءُ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَشُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، وَنُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَغَيْرُهُمْ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں روزہ توڑ لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کفارے کے طور پر: ”ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے عرض کی: ”میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کی ایک بوری لائی گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسے لو اور اسے صدقہ کرو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے اپنے سے زیادہ اس کا کوئی اور ضرورت مند نہیں معلوم ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی ظاہر ہوئے، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے تم کھا لو۔“ بعض راویوں نے اس روایت میں یہ بات نقل کی ہے کہ اس شخص نے رمضان (کا روزہ) توڑ دیا تھا اور کفارہ دینے کے بارے میں اسے اختیار دیا گیا تھا (کہ وہ مذکورہ بالا تین صورتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لے)، لیکن اکثر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ اس شخص نے صحبت کر کے روزہ توڑا تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسے غلام آزاد کرنے کے ذریعہ کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا، جب اس کے پاس اس کی گنجائش نہیں تھی، تو اسے دو ماہ روزے رکھنے کی ہدایت کی، جب اس میں بھی اس کی استطاعت نہیں تھی، تو اسے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 2398
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ ، قَالَ : " مَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : أَعْلَى أَحْوَجَ مِنَّا ؟ قَالَ : " فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ثَوْرٍ ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، بِقَوْلِهِ : وَأَهْلَكْتُ . وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں ہلاک ہو گیا۔“ (شاید یہ الفاظ ہیں) ”میں نے (خود کو) ہلاکت کا شکار کر دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا؟“ (شاید یہ الفاظ ہیں) وہ بولا: ”میں نے رمضان میں روزے کے دوران اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس کوئی غلام ہے، جسے تم آزاد کر سکو؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”یہ میں نہیں کر سکتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کی ایک بوری لائی گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند لوگوں کو (یعنی مجھے سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہے)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، الْحَدِيثَ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " كُلْهُ وَصُمْ يَوْمًا " . أَنَّ تَابَعَهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رمضان میں روزہ توڑنے والے شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے) تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”تم اسے کھا لو اور ایک دن روزہ رکھ لینا۔“
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وحَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا : نا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لا أَجِدُ ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، قَالَ : خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، قَالَ : " فَخُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " . لَفْظُ بَكَّارٍ . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”دو ماہ مسلسل روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے لو اور اپنی طرف سے کھلا دو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! پورے شہر میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ یہ الفاظ بکار نامی راوی کے ہیں اور محمد بن ابوحفصہ نامی راوی نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو أُمَيَّةَ ، قَالُوا : نا رَوْحٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَقَالَ فِيهِ : بِزِنْبِيلٍ ، وَالْمِكْتَلُ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَحْسَبُهُ تَمْرًا . وَكَذَلِكَ قَالَ : هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . وَتَابَعَهُمْ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ایک زبیل لائی گئی اور پیمانہ تھا، جس میں پندرہ صاع تھے،“ یہ بھی ہے، ”کھجوروں کے پندرہ صاع تھے۔“ اسی طرح دیگر راویوں نے بھی نقل کیا ہے اور دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 2402
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالا : نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِأَهْلِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لا أَجِدُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : مَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : مَا أَجِدُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، فَقَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي فَمَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي ، قَالَ : " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ ، وَصُمْ يَوْمًا ، وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کو بتایا کہ اس نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے پاس وہ نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو۔“ اس نے کہا: ”میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لو اور اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”کیا اپنے اور گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند کو کروں؟ مجھے اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اسے تم کھا لو اور تمہارے گھر والے کھائیں اور تم ایک دن روزہ رکھ لو اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔“