کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب: اللہ تعالٰی کے فرمان «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ» ”اور جو اس پر قادر ہیں انہیں فدیہ ادا کرنا ہوگا“ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2377
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ثنا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 وَاحِدٍ " ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ، قَالَ : " زَادَ مِسْكِينًا آخَرَ " ، فَهُوَ خَيْرٌ ، قَالَ : " وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ الَّذِي لا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ ، وَأُمِرَ أَنْ يُطْعِمَ الَّذِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُطِيقُهُ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا: ”اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ اس سے مراد ایک مسکین ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تو جو شخص بھلائی نفلی طور پر کرے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یعنی جو ایک اور مسکین کو بھی کھانا کھلا دے، تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ وہ فرماتے ہیں: یہ حکم منسوخ نہیں ہے، البتہ یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور کھانا کھلانے کا یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو یہ جانتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو بِشْرٍ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، قَالَ : يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَزَادَ مِسْكِينًا آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ، فَلا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لا يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُشْفَى " . وَهَذَا الإِسْنَادُ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، وہ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہے، تو وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ یہ حکم منسوخ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھ لو، تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ تو اس معاملے میں رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس مریض کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے کہ وہ اب کبھی بھی شفا یاب نہیں ہو گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 وَاحِدٍ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا زَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ، وَلا يُرَخَّصُ إِلا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لا يُطِيقُ الصَّوْمَ ، أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُشْفَى " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہو گا۔ اور اگر تم لوگ روزہ رکھ لو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہ رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھے یا اس بیمار کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے کہ اب وہ کبھی شفا یاب نہیں ہو گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2380
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، أنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ أَنْ يُفْطِرَ وَيُطْعِمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کے لیے ہے کہ وہ روزہ رکھنا چھوڑ دے اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی۔“ اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، " يَقْرَؤُهَا : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ لا يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومَا ، فَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . وَهَذَا صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ تلاوت کرتے ہوئے سنا: ”اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے، تو ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ بوڑھا آدمی یا وہ عورت ہے جو کبھی روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھیں گے، تو وہ ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ یہ روایت صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لأُمِّ وَلَدٍ لَهُ حُبْلَى أَوْ تُرْضِعُ : " أَنْتِ مِنَ الَّذِينَ لا يُطِيقُونَ الصِّيَامَ عَلَيْكِ الْجَزَاءُ وَلَيْسَ عَلَيْكِ الْقَضَاءُ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی ام ولد سے، جو حاملہ تھی اور بچے کو دودھ پلاتی تھی، (یہ کہا تھا): ”تم ان لوگوں میں شامل ہو، جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، تم پر فدیہ لازم ہے، قضاء لازم نہیں ہو گی۔“ اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَاحِبُ السُّلِّ الَّذِي قَدْ يَئِسَ أَنْ يَبْرَأَ فَلا يَسْتَطِيعُ الصَّوْمَ يُفْطِرُ ، وَيُطْعِمُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . حَجَّاجٌ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں: انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سل کا ایسا مریض، جو اس بات سے مایوس ہو چکا ہو کہ وہ ٹھیک ہو گا اور وہ کبھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو، ایسا شخص روزہ نہیں رکھے گا اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے گا۔“ اس روایت کا راوی حجاج ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تُرْضِعُ فَأُجْهِضَتْ ، فَأَمَرَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ تُفْطِرَ " ، يَعْنِي وَتُطْعِمَ وَلا تَقْضِيَ . هَذَا صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سعید بن جبیر نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: ان کی ایک کنیز تھی، جو بچے کو دودھ پلاتی تھی، وہ بیمار ہو گئی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو یہ ہدایت کی کہ: ”تم روزے نہ رکھو، اور (فدیہ کے طور پر) کھانا کھلا دو اور قضاء نہ رکھنا۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ تُفْطِرُ وَلا تَقْضِي " . وَهَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا شاید سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے: ”حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت روزہ نہیں رکھے گی، وہ بعد میں اس کی قضاء بھی نہیں کرے گی (بلکہ مسکین کو کھانا کھلا دے گی)۔“ یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الضَّيْفِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَرَأَ : " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، يَقُولُ : هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ الَّذِي لا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَيُفْطِرُ ، وَيُطْعِمُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا نِصْفَ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ " .
محمد محی الدین
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان پر اس کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا فدیہ کے طور پر واجب ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ بوڑھا آدمی ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھے گا۔ وہ روزہ چھوڑ دے گا اور ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، جو گندم کا نصف صاع ہو گا۔
حدیث نمبر: 2387
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، ثنا إِسْحَاقُ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ سورة البقرة آية 184 ، وَيَقُولُ : " لَمْ تنسخ ".
محمد محی الدین
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے: ”اور جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان پر لازم ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: یہ آیت منسوخ ہوئی۔
حدیث نمبر: 2388
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا الْحَجَّاجُ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ امْرَأَتَهُ ، سَأَلَتْهُ وَهِيَ حُبْلَى ، فَقَالَ : " أَفْطِرِي ، وَأَطْعِمِي عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا ، وَلا تَقْضِي " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ منقول ہے: ان کی اہلیہ نے ان سے سوال کیا، وہ خاتون حاملہ تھیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم روزے رکھنا چھوڑ دو اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرو، بعد میں اس کی قضاء بھی نہیں کرنا۔“
حدیث نمبر: 2389
ثنا ثنا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ بِنْتٌ لابْنِ عُمَرَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانَتْ حَامِلا فَأَصَابَهَا عَطَشٌ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهَا ابْنُ عُمَرَ أَنْ تُفْطِرَ ، وَتُطْعِمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک صاحبزادی، جو ایک قریشی کی بیوی تھیں، وہ حاملہ ہوئیں، تو انہیں شدید پیاس محسوس ہوئی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ ہدایت کی کہ: ”وہ روزہ رکھنا چھوڑ دیں اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔“
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، ثنا ابْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، نا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّهُ ضَعُفَ عَنِ الصَّوْمِ عَامًا ، فَصَنَعَ جَفْنَةً مِنْ ثَرِيدٍ ، وَدَعَا ثَلاثِينَ مِسْكِينًا فَأَشْبَعَهُمْ " .
محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں: ایک سال سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتے تھے، انہوں نے ثرید کی ہنڈیا تیار کروائی اور تیس مسکینوں کو بلا کر انہیں سیر ہو کر کھانا کھلایا۔
حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا ابْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا ضَعُفَ قَبْلَ مَوْتِهِ فَأَفْطَرَ ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُطْعِمُوا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مِسْكِينًا " . قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ : فَأَطْعَمَ ثَلاثِينَ مِسْكِينًا.
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ انتقال سے قبل کمزور ہو گئے تھے، تو انہوں نے روزے نہیں رکھے، انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ ہدایت کی کہ: ”وہ ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔“ ہشام نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”انہوں نے تیس مسکینوں کو کھانا کھلایا۔“
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ ، يَقُولُ : " إِنَّ شَهْرَ رَمَضَانَ يَفْتَدِيَهُ الإِنْسَانُ أَنْ يُطْعِمَ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا ، فَأَطْعِمُوا عَنِّي مِسْكِينَيْنِ " .
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے قیس بن سائب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ”رمضان کے مہینے کا فدیہ آدمی یہ دے گا کہ اپنی طرف سے ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اس لیے تم میری طرف سے دو مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا حَمْزَةَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الْكِبْرُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَصُومَ رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ لِكُلِّ يَوْمٍ مَدٌّ مِنْ قَمْحٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص بوڑھا ہو جائے اور روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رکھے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ ہر ایک دن کے عوض گندم کا ایک مد ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ بَكْرٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عِمْرَانَ ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقُضِيَ عَنْهُ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْهُ " ، وَقَالَ فِي الْحَجِّ وَالصِّيَامِ مثل ذَلِكَ . دَهْثَمٌ ضَعِيفٌ ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے ذمے قرض ہو، اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے، تو یہ اس کی طرف سے ادائیگی ہو جاتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور روزے کے متعلق اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی ہے۔ اس روایت کا راوی دہشم ضعیف ہے، جبکہ دوسرا راوی عمرو بن عثمان مجہول ہے۔