حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، ثنا وَهُوَ ثِقَةٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتَّى رَمَضَانَ ، وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ فَلْيَسْرُدْهُ وَلا يَقْطَعْهُ " . عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نصف شعبان گزر جانے کے بعد روزہ نہیں رکھنا چاہیے، یہاں تک کہ رمضان آ جائے، البتہ جس شخص پر رمضان (کی قضاء یا کفارے کے) روزے لازم ہوں، وہ روزے رکھ سکتا ہے، وہ اپنے معمول کو ترک نہ کرے۔“ عبدالرحمن بن ابراہیم نامی راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2313
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ فَلْيَسْرُدْهُ وَلا يَقْطَعْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کے ذمے رمضان کا ایک روزہ ہو، وہ اسے جاری رکھے اور روزہ رکھ لے (اور درمیان میں چھوڑے نہیں)۔“
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ ، ثنا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ : " يَسْرُدْهُ وَلا يُفَرِّقْهُ " . عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی قضاء کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”آدمی اسے جاری رکھے اور اس میں فرق نہ ڈالے۔“ اس روایت کا راوی عبدالرحمن بن ابراہیم ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : وَفِيمَا ذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نزلت : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ سورة البقرة آية 184 مُتَتَابِعَاتٍ ، فَسَقَطَتْ مُتَتَابِعَاتٌ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَالَّذِي بَعْدَهُ أَيْضًا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہ آیت نازل ہوئی تھی: ”تو اس کی گنتی دوسرے دنوں میں ہو گی جو لگاتار ہوں گے۔“ اس کے بعد لفظ ”لگاتار“ ساقط ہو گیا۔ اس کی سند مستند ہے اور اس کے بعد والی روایت کی بھی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2316
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " نزلت : 0 فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر مُتَتَابِعَاتٍ 0 ، فَسَقَطَتْ مُتَتَابِعَاتٌ " . سَقَطَ لَمْ يَقُلْ غَيْرُ عُرْوَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہ آیت نازل ہوئی تھی: ”تو اس کی گنتی دوسرے دنوں میں ہو گی جو لگاتار ہوں گے۔“ اس کے بعد لفظ ”لگاتار“ ساقط ہو گیا۔ اس میں ساقط ہونے کا تذکرہ عروہ رحمہ اللہ نے کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْقَلانِسِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الأَنْدَلُسِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " يَقْضِيهِ تِبَاعًا ، وَإِنْ فَرَّقَهُ أَجْزَأَهُ " . الْوَاقِدِيُّ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کی قضاء کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس روزہ دار لگاتار قضاء کرے گا، اگر وہ درمیان میں فرق ڈال دیتا ہے، تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہو گا۔“ اس روایت کا راوی واقدی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2318
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، سُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُرَخِّصْ لَكُمْ فِي فِطْرِهِ وَهُوَ لا يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَلَيْكُمْ فِي قَضَائِهِ ، فَأَحْصِ الْعِدَّةَ ، وَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " .
محمد محی الدین
ابوعامر ہوزنی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے رمضان کی قضاء کے بارے میں دریافت کیا گیا، انہوں نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ رخصت نہیں دی ہے، تم یہ روزے نہ رکھو اور نہ وہ یہ چاہتا ہے، اس کی قضاء کے حوالے سے تم کو مشقت کا شکار کرے، اس لیے تم گنتی کو شمار کرو اور جیسے چاہو ویسے رکھ لو۔“
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَسُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ مُتَفَرِّقًا ، فَقَالَ : " أَحْصِ الْعِدَّةَ وَصُمْ كَيْفَ شِئْتَ " .
محمد محی الدین
ابوعامر ہوزنی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے رمضان کی قضاء متفرق طور پر ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم گنتی کو شمار کرو اور جیسے چاہو روزے رکھ لو۔“
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ ، " صُمْهُ كَيْفَ شِئْتَ " . وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " صُمْهُ كَمَا أَفْطَرْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رمضان کی قضاء کے بارے میں یہ بات منقول ہے: (وہ فرماتے ہیں) ”تم اسے جیسے چاہو رکھ لو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”تم روزے ویسے ہی رکھو گے، جیسے (رمضان کے مہینے میں) روزے چھوڑے تھے۔“
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالا : " لا بَأْسَ بِقَضَاءِ رَمَضَانَ مُتَفَرِّقًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رمضان کی قضاء متفرق طور پر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، كَانَ يَقُولُ : " أَحْصِ الْعِدَّةَ ، وَصُمْ كَيْفَ شِئْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم گنتی کا حساب رکھو اور جیسے چاہو روزے رکھو۔“
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، " أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا بِقَضَاءِ رَمَضَانَ مُتَوَاتِرًا " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ رمضان کی قضاء کو متواتر رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا وُهَيْبٌ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا بِقَضَاءِ رَمَضَانَ مُتَقَطِّعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان کے نزدیک رمضان کی قضاء کو الگ الگ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ " فَرِّقْهُ إِذَا أَحْصَيْتَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”تم انہیں الگ الگ رکھ سکتے ہو، تو تعداد پوری کر لو۔“
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " أَحْصِ الْعِدَّةَ ، وَصُمْ كَيْفَ شِئْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے رمضان کی قضاء کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم گنتی کو شمار کرو اور جیسے چاہو روزہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 2327
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : " فَرِّقْ قَضَاءَ رَمَضَانَ ، وَأَحْصِ الْعِدَّةَ " . كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم رمضان کی قضاء میں فرق کر سکتے ہو، البتہ گنتی کو شمار کرو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2328
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ يُخَامِرَ ، يَقُولُ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : " أَحْصِ الْعِدَّةَ ، وَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم گنتی کا حساب رکھو اور جب چاہو کر لو (یعنی قضاء کر لو)۔“
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ : " إِنْ شَاءَ فَرَّقَ وَإِنْ شَاءَ تَابَعَ " . لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ سُفْيَانَ بْنِ بِشْرٍ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی قضاء کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی: ”اگر آدمی چاہے، تو اسے الگ الگ رکھے اور اگر چاہے، تو مسلسل رکھے۔“ اس روایت کو سفیان بن بشیر کے علاوہ اور کسی نے مستند روایت کے طور پر نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا ابْنُ قَانِعٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ الْفَزَارِيُّ ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، عَنْ وَاسِطِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عبید بن عمیر کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2331
وَحَدَّثَنَا وَاسِطُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ مِثْلَهُ. عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عطاء کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، ثنا بِشْرٌ ، ثنا السَّيْلَحَانِيُّ ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " فَرِّقْ قَضَاءَ رَمَضَانَ ، إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تم رمضان کی قضا الگ الگ کر کے رکھ سکتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تو اس کی گنتی دوسرے دنوں میں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ تَقْطِيعِ قَضَاءِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " ذَلِكَ إِلَيْكَ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَى الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ، أَلَمْ يَكُنْ قَضَاءُ ؟ فَاللَّهِ أَحَقَّ أَنْ يَعْفُوَ وَيَغْفِرَ " . إِسْنَادٌ حَسَنٌ إِلا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . وَقَدْ وَصَلَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، إِلا أَنَّهُ جَعَلَهُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . وَلا يُثْبَتُ مُتَّصِلا.
محمد محی الدین
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: مجھے اس بات کا پتا چلا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کے روزوں کی قضاء الگ الگ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہاری مرضی ہے، تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ ایک یا دو درہم ادا کرے، تو کیا یہ ادائیگی نہیں ہو گی، تو اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے، معاف کر دے اور بخش دے۔“ اس کی سند حسن ہے، لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ ابوبکر کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے، البتہ انہوں نے اسے موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے، ابوزبیر کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہ روایت بھی متصل طور پر ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2334
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ ، ثنا سَهْلُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو سَعِيدٍ السِّجِسْتَانِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَقْطِيعِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَاهُ الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ حَتَّى يَقْضِيَهُ ، هَلْ كَانَ ذَلِكَ قَضَاءُ دَيْنِهِ أَوْ قَاضِيهِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْوَهُ . كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کے روزوں کی قضاء الگ الگ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ درہم یا دو درہم ادا کر دے، یہاں تک کہ اسی طرح وہ سب ادا کر دے، تو کیا اس کے ذمے قرض کی ادائیگی لازم ہو گی یا اسے بل دینے والا شمار کیا جائے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! یہ روایت ابوزبیر کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2335
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، وَأَبُو نَشِيطٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا : ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُوذِيُّ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے کچھ روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔“ اس کی سند مستند ہے، اسے عمرو بن حارث نے عبیداللہ بن ابوجعفر کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2336
حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الأَصْبَغِ بْنِ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا أبِي ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے کچھ روزے ہوں، تو اس کا ولی (وارث) اس کی طرف سے روزے رکھے۔“
حدیث نمبر: 2337
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ صُبَيْحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، قَالا : نا محَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، ثنا أَبِي ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي جَعْفَرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2338
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَيَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَبَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، قَالُوا : ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، وَالْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ ، قَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اس کے ذمے رمضان کے روزے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم ادا کر دیتی؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اس کا حق ادا کیا جائے)۔“
حدیث نمبر: 2339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، ثنا أَبُو هَاشِمٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . وَقَالَتْ : وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اس خاتون نے یہ عرض کی تھی: اس (مرحومہ) کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے لازم تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے قرض (کا حق ہے، اسے) ادا کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا : نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثنا زَائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى " . قَالَ سُلَيْمَانُ : قَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ جَمِيعًا حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا ، وَقَالَ دَعْلَجٌ : فَقَالا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، هَذَا أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ . وَقَالَ ابْنُ مَعْرَاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَعَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے لازم تھے، کیا میں ان کی طرف سے انہیں ادا کر لوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم ان کی طرف سے ادا کر دیتے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے، کہ اسے ادا کیا جائے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2341
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُتَيْبَةَ الْمُعَيْطِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا عَنْبَسَةُ ، ثنا يُونُسُ ، قَالَ : سَأَلَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ عَنْبَسَةُ : وَهُوَ أَخُو يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَجُلٍ مَرِضَ فَطَالَ بِهِ مَرَضُهُ ، حَتَّى مَرَّ بِهِ رَمَضَانَانِ أَوْ ثَلاثَةٌ ، فَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَلَمْ يَكُنْ صَامَ رَمَضَانَ الْخَالِي فَلْيُطْعِمْ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ ، ثُمَّ لَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ " .
محمد محی الدین
یونس بیان کرتے ہیں: سعید بن زید نے (عنبسہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یہ صاحب یونس کے بھائی ہیں) نافع سے، جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں، سوال کیا: ایسے شخص کے بارے میں جو بیمار ہو جاتا ہے اور اس کی بیماری طویل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ بیماری کے دوران دو مرتبہ رمضان گزر جاتے ہیں (تو وہ شخص روزے نہیں رکھ پاتا)۔ نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمایا کرتے تھے: ”جس شخص کو رمضان کا زمانہ مل جائے اور وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھ سکے، تو ہر ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دیا کرے، تو پھر اس کے ذمے قضاء لازم نہیں رہے گی۔“
حدیث نمبر: 2342
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نا زُهَيْرٌ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ ، فَلْيُطْعِمْ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مَدًّا مِنْ حِنْطَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”جس شخص کو رمضان کا زمانہ نصیب ہو (اور وہ کسی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے) اور اس کے ذمے رمضان کے کچھ حصے (یعنی اس کے کچھ روزے) کی ادائیگی لازم ہو، تو وہ ہر ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔“
حدیث نمبر: 2343
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي رَجُلٍ مَرِضَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، قَالَ : " يَصُومُ الَّذِي أَدْرَكَهُ وَيُطْعِمُ عَنِ الأَوَّلِ لِكُلِّ يَوْمٍ مَدًّا مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ ، فَإِذَا فَرَغَ فِي هَذَا صَامَ ، الَّذِي فَرَّطَ فِيهِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فرمایا تھا، جو رمضان میں بیمار ہوا تھا اور بعد میں تندرست ہو گیا تھا، اس نے (ابتدائی حصے میں) روزے نہیں رکھے تھے، یہاں تک کہ آخری حصے میں اسے روزے رکھنے کا موقع ملا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: ”جس حصے میں وہ روزے رکھ سکتا ہے، وہ روزے رکھے اور ابتدائی جس حصے میں اس نے روزے نہیں رکھے، ہر ایک دن کے عوض گندم کا ایک صاع ایک مسکین کو دے گا اور جب وہ اس سے فارغ ہو گا، تو اس دن کا روزہ رکھے گا، جس دن کے بارے میں اس نے کوتاہی کی تھی۔“ اس کی سند صحیح موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 2344
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَمْعَةَ الرَّازِيُّ ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ الْمُقْرِيُّ الرَّازِيُّ ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِيمَنْ فَرَّطَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، قَالَ : " يَصُومُ هَذَا مَعَ النَّاسِ وَيَصُومُ الَّذِي فَرَّطَ فِيهِ ، وَيُطْعِمُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: ”جو شخص رمضان کی قضاء کے بارے میں کوتاہی کرے، یہاں تک کہ اسے رمضان کا آخری حصہ مل جائے، وہ لوگوں کے ہمراہ روزہ رکھے گا اور پھر اس دن کے بھی روزے رکھے گا، جس دن کے بارے میں اس نے کوتاہی کی تھی اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کی سند مستند ہے، لیکن یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ ، ثنا بَكْرُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُكْرَمٍ الْفَزَارِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو إِسْحَاقَ الْجَلابُ ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ ، ثنا الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ مَرِضَ ، ثُمَّ صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، قَالَ : " يَصُومُ الَّذِي أَدْرَكَهُ ، ثُمَّ يَصُومُ الشَّهْرَ الَّذِي أَفْطَرَ فِيهِ ، وَيُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، وَابْنُ وَجِيهٍ ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جو رمضان کے مہینے میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتا، پھر وہ بعد میں تندرست ہو جاتا ہے اور اس نے (رمضان کی قضاء کے) روزے نہیں رکھے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ گیا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رمضان آ گیا ہے، وہ اس کے روزے رکھے گا، پھر اس کے بعد وہ ایک مہینہ وہ روزے رکھے گا، جو اس نے نہیں رکھے تھے اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کے راوی ابراہیم بن نافع اور ابن وجیہ دونوں ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، أنا رَقَبَةُ ، قَالَ : زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَمْرَضُ فِي رَمَضَانَ فَلا يَصُومُ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ لا يَصُومُ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، قَالَ : " يَصُومُ الَّذِي حَضَرَهُ وَيَصُومُ الآخَرَ ، وَيُطْعِمُ كُلَّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو رمضان کے مہینے میں بیمار ہو جائے اور روزے نہ رکھے، پھر وہ تندرست ہو جائے یا جو شخص کوئی روزہ رکھے، یہاں تک کہ اسے اگلا رمضان نصیب ہو جائے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ اس رمضان کے روزے رکھے گا، جو آ گیا ہے اور دوسرے والے رمضان کے روزے (قضاء کے طور پر) رکھے گا اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کی روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَنْ فَرَّطَ فِي صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ فَلْيَصُمْ هَذَا الَّذِي أَدْرَكَهُ ، ثُمَّ لِيَصُمْ مَا فَاتَهُ ، وَيُطْعِمُ مَعَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . خَالَفَهُ مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ تَقَدَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو شخص رمضان کے روزوں کے بارے میں کوتاہی کرے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے، تو وہ شخص اس رمضان کے روزے رکھے گا، جو آ چکا ہے، پھر اس کے بعد وہ روزے رکھے گا، جو فوت ہو گئے تھے اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ ابواسحاق سے نقل کرنے میں مطرف نے اس کی مخالفت کی ہے اور یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا لَمْ يَصِحَّ بَيْنَ الرَّمَضَانَيْنِ صَامَ عَنْ هَذَا ، وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي ، وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ ، صَامَ هَذَا وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي ، فَإِذَا أَفْطَرَ قَضَاهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص دو رمضان کے درمیان تندرست نہ ہو، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا (یعنی اس کی قضاء کے روزے) اور گزشتہ رمضان کی طرف سے کھانا کھلا دے گا اور اس شخص پر (گزشتہ رمضان کے روزوں کی) قضاء لازم نہیں ہو گی، لیکن جو شخص تندرست ہو اور وہ روزے نہ رکھے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا، پھر سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلائے گا اور جب اس کے اس مہینے کے روزے ختم ہو جائیں گے، تو پھر وہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کرے گا۔“ اس کی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلا جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں: مجھے یاد ہے، ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ ہر بدھ کو روزہ رکھے گا، تو یہ دن عید الفطر اور عید الاضحی کے دن آ گیا، تو اب (اسے کیا کرنا چاہیے)؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔“ اس کی سند مستند ہے۔