حدیث نمبر: 2291
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلٍ بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ ، وَقَدْ رُحِلَتْ دَابَّتُهُ ، وَلَبِسَ ثِيَابَ السَّفَرِ ، وَقَدْ تَقَارَبَ غُرُوبُ الشَّمْسِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ رَكِبَ ، فَقُلْتُ لَهُ : سُنَّةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
محمد بن کعب بیان کرتے ہیں: میں رمضان کے مہینے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ سفر پر روانہ ہونے والے تھے، ان کی سواری تیار تھی اور انہوں نے سفر کا لباس پہن لیا تھا، سورج غروب ہونے کے قریب تھا، انہوں نے کھانا منگوایا اور کھا لیا، پھر سوار ہوئے، میں نے ان سے کہا: کیا یہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں!
حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نا رَوْحٌ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ لِي أَبُو مُوسَى : " أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ خَرَجْتَ صَائِمًا ، وَإِذَا دَخَلْتَ دَخَلْتَ صَائِمًا ، فَإِذَا خَرَجْتَ فَاخْرُجْ مُفْطِرًا ، وَإِذَا دَخَلْتَ فَادْخُلْ مُفْطِرًا " .
محمد محی الدین
عمرو بن عامر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ بتایا گیا ہے، جب تم (سفر پر روانہ ہوتے ہوئے) نکلتے ہو، تو روزہ رکھ کر نکلتے ہو، تو جب شہر میں داخل ہوتے ہو، تو روزے کی حالت میں ہوتے ہو، جب (تم سفر کے لیے) نکلا کرو، تو روزے کے بغیر حالت میں نکلا کرو اور جب تم (سفر سے واپسی پر شہر میں) داخل ہوا کرو، تو روزے کے بغیر حالت میں داخل ہوا کرو۔
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ رَمَضَانَ ، فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُمْتُ ، وَقَصَرَ ، وَأَتْمَمْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ ، وَقَصَرْتَ ، وَأَتْمَمْتُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں عمرے کے لیے روانہ ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا، میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نماز ادا کی اور میں نے مکمل نماز ادا کی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے رکھا، آپ نے قصر نماز ادا کی، میں نے مکمل نماز ادا کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ التُّبَّعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَصَرَ ، وَأَتْمَمْتُ الصَّلاةَ ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ إِلَى مَكَّةَ ، قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ " ، وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ . قَالَ الشَّيْخُ : الأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ ، وَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ ، وَهُوَ مَعَ أَبِيهِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهَا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا، میں آپ کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نماز ادا کی، میں نے مکمل نماز ادا کی، آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے روزہ رکھا، جب میں مکہ کے قریب پہنچی، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے قصر نماز ادا کی، میں نے مکمل نماز ادا کی، آپ نے روزہ نہیں رکھا، میں نے روزہ رکھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت مستند ہے اور اس کی سند متصل ہے۔ عبدالرحمن نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ پایا ہے، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، جب وہ ابھی قریب البلوغ بچے تھے، وہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ تھے، انہوں نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ ؟ قَالَتْ : " إِذَا الْتَقَتِ الْمَوَاسِي فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے، انہوں نے عرض کی: اے امی جان! کیا چیز غسل کو واجب کرتی ہے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب شرمگاہیں مل جائیں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي يَبْعَثُ بِي إِلَى عَائِشَةَ فَأَسْأَلُهَا ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ احْتَلَمْتُ جِئْتُ إِلَيْهَا فَدَخَلْتُ ، فَقَالَتْ : " أَيْ لَكَاعِ فَعَلْتَهَا " ، وَأَلْقَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهَا الْحِجَابَ .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں: میرے والد مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کرتے تھے، میں ان سے سوال کرتا تھا، جب وہ سال آیا، جس میں مجھے احتلام ہوا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اندر آنے لگا، تو انہوں نے فرمایا: او نا لایق! تم نے یہ حرکت کی ہے؟ پھر انہوں نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا دیا۔
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَبِيدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالا : نا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ أَتَمَّ وَقَصَرَ ، وَصَامَ وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ " . طَلْحَةُ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر عمل کیا ہے، مکمل نماز بھی پڑھی ہے اور قصر نماز بھی پڑھی ہے، آپ نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا۔ اس روایت کا راوی طلحہ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2298
ثنا الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ " . قَالَ : وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران قصر نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور مکمل نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے، آپ روزہ چھوڑ بھی دیتے تھے اور رکھ بھی لیا کرتے تھے۔ شیخ بیان کرتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ الْمَوْصِلِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُتِمُّ الصَّلاةَ فِي السَّفَرِ وَيَقْصُرُ " . الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران کبھی نماز مکمل ادا کرتے تھے اور کبھی قصر ادا کرتے تھے۔ اس روایت کے راوی مغیرہ بن زیاد مستند نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى أَبُو الْفَضْلِ ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر کے دوران روزہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور نہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مِرْوَاحٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مِرْوَاحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . وَخَالَفَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْقَوْلانِ صَحِيحَيْنِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے اندر یہ قوت پاتا ہوں کہ سفر کے دوران روزہ رکھوں، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا (اگر میں روزہ رکھ لیتا ہوں)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کر لے گا، وہ اچھا کرے گا، اور جو روزہ رکھنا چاہے گا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ اس روایت کی سند صحیح ہے، ہشام بن عروہ نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے، سیدنا حمزہ بن عمرو نے سوال کیا تھا۔ اس بات کا احتمال موجود ہے، یہ دونوں روایات درست ہوں، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَافَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فِي سَفَرِهِ فَصَامَ ، وَوَافَقَ رَمَضَانَ فِي سَفَرِهِ فَأَفْطَرَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَتَبَ عَنِّي مُوسَى بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا، آپ نے روزہ رکھا، ایک مرتبہ آپ نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا، تو روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر بیان کرتے ہیں: موسیٰ بن ہارون نے میرے حوالے سے اس روایت کو چالیس سال پہلے روایت کیا تھا۔ اس روایت کے راوی زیاد نمیری مستند نہیں ہیں۔