حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ نَسِيٍّ ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : نا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، ثنا ثَوْبَانُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا رَمَضَانَ ، فَأَصَابَهُ غَمٌّ آذَاهُ فَتَقَيَّأَ فَقَاءَ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَفْطَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرِيضَةٌ الْوُضُوءُ مِنَ الْقَيْءِ ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ فَرِيضَةً لَوَجَدْتَهُ فِي الْقُرْآنِ " ، قَالَ : صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " هَذَا مَكَانُ إِفْطَارِي أَمْسِ " . عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہ رمضان کے روزوں کی بات نہیں ہے، آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی، جو آپ کے لیے تکلیف دہ ہوئی، تو آپ کو قے آ گئی، پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، آپ نے وضو کیا اور روزہ توڑ دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا قے کرنے کے بعد وضو کرنا فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ فرض ہوتا، تو تم اسے قرآن میں پا لیتے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن روزہ رکھا، تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”یہ میرے گزشتہ دن کا روزے توڑنے کے بدلے میں ہے۔“ اس روایت کا راوی عتبہ بن سکن متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُقَيْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اسْتَقَاءَ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ، وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ " . رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر قے کر لے، تو اس پر قضاء لازم ہو گی اور جس شخص کو قے آ جائے، تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2274
ثنا ابْنُ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُسَدَّدٌ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ذَرَعَ الصَّائِمَ الْقَيْءُ فَلا فِطْرَ عَلَيْهِ وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا تَقَيَّأَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " . عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب روزہ دار کو منہ بھر کر قے آ جائے، تو اس پر روزہ توڑنا لازم نہیں ہو گا اور پھر اس پر قضاء بھی لازم نہیں ہو گی، اگر وہ جان بوجھ کر قے کر دے، تو اس پر قضاء لازم ہو گی۔“ اس روایت کا راوی یحییٰ بن سعید مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دَلُّوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مَنْدَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلْيُتِمَّ عَلَى صَوْمِهِ وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَاءَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَقْضِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کو منہ بھر کر قے آئے، وہ اپنا روزہ پورا کرے، اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی اور جو شخص جان بوجھ کر قے کر دے، وہ قضاء کرے۔“