کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي " .
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ کے لیے ایک برتن بڑھایا گیا، تو آپ نے اس میں سے پیا، پھر وہ برتن میری طرف بڑھا دیا، میں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: اپنی ذات کا امین ہوتا ہے)، اگر تم چاہو، تو روزہ رکھ لو، اگر چاہو، تو یہ کھا پی لو۔“
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، إِمْلاءً ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ لَهَا : " أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَلا يَضُرُّكِ " . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ.
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے پیا، پھر میری طرف بڑھا دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔“ سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، عنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ سَقَانِي فَشَرِبْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ ، فَإِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " . قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : سَمِعْتَهُ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ ؟ قَالَ : لا حَدَّثَنَاهُ أَهْلُنَا ، وَأَبُو صَالِحٍ . قَالَ شُعْبَةُ : وَكُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنَا جَعْدَةَ ، فَلَقِيتُ أَفْضَلَهُمَا ، فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے نوش فرمایا اور مجھے پینے کے لیے دیا، تو میں نے بھی پی لیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کے بارے میں (امین) ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ کہے: امیر ہوتا ہے، یعنی اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے)، یعنی اگر چاہے، تو روزہ برقرار رکھے اور اگر چاہے، تو توڑے۔“ شعبہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ نے یہ روایت سیدہ ام ہانی سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں! یہ روایت ہمارے گھر والوں نے اور ابوصالح نے بیان کی ہے۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سماک سے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے جعدہ کے صاحبزادوں میں سے زیادہ فضیلت والے شخص سے ملاقات کی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنَا أَهْلُنَا ، وأَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ . قَالَ شُعْبَةُ : وَكَانَ سِمَاكٌ يَقُولُ : حَدَّثَنَا ابْنَا أُمِّ هَانِئٍ ، فَرَوَيْتُهُ أَنَا عَنْ أَفْضَلِهِمَا ، وَصَلَ إِسْنَادَهُ أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں: سماک یہ فرمایا کرتے تھے کہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے دو صاحبزادوں نے یہ حدیث سنائی ہے، اور میں نے اس حدیث کو ان دونوں میں سے زیادہ فضیلت والے صاحب سے نقل کیا ہے۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو شعبہ کے حوالے سے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ شَرَابًا فَأَعْطَاهَا فَضْلَهُ فَشَرِبَتْهُ ، فَقَالَتِ : اسْتَغْفِرْ لِي ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً " . مثل قَوْلِ أَبِي عَوَانَةَ ، قَوْلُهُ : يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ ، وَهْمٌ مِنَ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب پیا اور اپنا بچا ہوا مشروب سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو عطا کیا، تو سیدہ ام ہانی نے بھی اسے پی لیا، پھر انہوں نے عرض کی: میرے لیے دعائے مغفرت کریں، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ ابوعوانہ نامی راوی کی نقل کردہ روایت میں ایسے الفاظ ہیں: ”راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت یحییٰ بن جعدہ سے منقول ہے، یہ ولید نامی راوی کا وہم ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔“
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا الْوَلِيدُ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ هَارُونَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا صَائِمَةٌ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابٍ فَشَرِبْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَلا تَقْضِهِ " . رَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ.
محمد محی الدین
ہارون اپنی دادی (سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا) سے یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشروب کا بچا ہوا میری طرف بڑھایا، تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے عرض کی: میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو واپس کروں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ رمضان کی قضاء کا روزہ تھا، تو تم اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا اور اگر نفلی روزہ تھا، تو اگر تم چاہو، تو اس کی قضاء کر لینا، اگر چاہو، تو قضاء نہ کرنا۔“ اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے، ابوصالح کے حوالے سے، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْخَاقَانِيُّ ، ثنا أَبُو يُونُسَ يَعْنِي حَاتِمَ بْنَ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نفلی روزہ رکھنے والے کو اختیار ہوتا ہے، وہ چاہے، تو روزہ برقرار رکھے، اگر چاہے، تو توڑ دے۔“
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ فِيهِ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ سِمَاكٌ مِنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی ذات کے بارے میں امین (راوی کو شک ہے: امیر، یعنی وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے) چاہے، تو روزہ رکھ لے، اگر چاہے، تو توڑ دے۔“ اس بارے میں سماک سے نقل کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سماک نے اس حدیث کو سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سے سنا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بِإِفْطَارِ الْمُتَطَوِّعِ بَأْسًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نفلی روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَيَقُولُ لَنَا : " أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَتَاكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَتْ : فَنَقُولُ : أَوَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا ، فَيَقُولُ : " بَلَى ، وَلَكِنْ لا بَأْسَ أَنْ أُفْطِرَ مَا لَمْ يَكُنْ نَذْرًا أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ " . مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ الْعَرْزَمِيُّ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز موجود ہے، کوئی (کھانے کی چیز) تمہارے پاس آئی؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ عرض کرتے: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح روزے کی نیت نہیں کی تھی؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”ہاں! لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں روزہ توڑ دوں، جبکہ وہ نذر کا نہ ہو، رمضان کا نہ ہو۔“ محمد بن عبیداللہ نامی راوی عرزمی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، قَالا : نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ طَعَامًا فَجَاءَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " .
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھانے کو پسند کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو دریافت کیا: ”آپ کے پاس وہ والا کھانا ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَطْحَاءَ ، وَآخَرُونَ قَالُوا : نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " إِذًا أَصُومُ " ، وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ ، فَقَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " إِذًا أُطْعِمُ ، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، دریافت کیا گیا: ”تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر میں کھا لیتا ہوں، اگرچہ میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“ اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا عَبَّادٌ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا صَامَ الرَّجُلُ تَطَوُّعًا فَلْيُفْطِرْ مَتَى شَاءَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کسی شخص نے نفلی روزہ رکھا ہو، تو وہ جب چاہے اسے توڑ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً ، قَالَ : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ ، وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي نِسَاءِ الدُّنْيَا ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : أَطْعِمْ ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ ، قَالَ : مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ ، وَقَالَ لَهُ : " إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ، وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ " ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، قَالَ : قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ ، فَقَامَا فَتَوَضَّيَا ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ ، فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " ، مثل مَا قَالَ سَلْمَانُ . لَفْظُ أَبِي طَالِبٍ.
محمد محی الدین
عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیمان فارسی اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا (منہ بولا بھائی) بنا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سلیمان، سیدنا ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے، تو سیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا، تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں، دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں، انہیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے آگے کھانا رکھا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ بھی کھائیے، انہوں نے جواب دیا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑ دیں، سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے ہاں گئے، جب رات کا وقت ہوا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں، تو سیدنا سلیمان نے انہیں روک دیا اور ان سے کہا: آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے، آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں، (نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں، اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایا کریں، ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھیں، اگر آپ (نوافل ادا کرنا چاہتے ہیں)۔ یہ دونوں حضرات اٹھے، انہوں نے نوافل ادا کیے، پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں، جو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ابودرداء! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔“ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی، جو سیدنا سلیمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَيَقُولُ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " ، فَإِنْ قُلْنَا : نَعَمْ ، تَغَدَّى ، وَإِنْ قُلْنَا : لا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ وَقَدْ خَبَّأْنَا لَكَ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اگر ہم جواب دیتے: جی ہاں! تو آپ وہ کھا لیتے اور اگر ہم عرض کرتے: جی نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔“ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے، تو ہمیں تحفہ کے طور پر (حیس) بھیجا گیا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں تحفے کے طور پر حیس دیا گیا ہے، جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی۔“ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ " ، وَأُهْدِيَ لَهُ حَيْسٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي آكُلُ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " . لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِيِّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ : " وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " ، وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور کہا: ”میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔“ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اس میں سے کھا لیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔“ ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے، کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے، یعنی ان الفاظ کی: ”اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔“ شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہو گئی ہو، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَدَائِهِ ، فَلا يَجِدُهُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِ صَوْمُ ذَلِكَ الْيَوْمِ " . عَبْدُ اللَّهِ هَذَا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے لیے کوئی چیز منگواتے اور آپ کو اس دن کوئی چیز نہ ملتی، تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔ اس روایت کے راوی عبداللہ معروف نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 2239
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَادَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : صَنَعَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَنَعَ لَكَ أَخُوكَ وَتَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ ، أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ " . هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب کی دعوت کی، تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا ہے، تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے، تم روزہ توڑ دو اور پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنِي أَبِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ " . الْفَزَارِيُّ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص رمضان کے مہینے میں بھول کر کچھ کھا لے، تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی، اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا ہو گا اور پلایا ہو گا۔“ اس روایت کے راوی فزاری محمد بن عبیداللہ عرزمی ہیں۔
حدیث نمبر: 2241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلَفِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مِرْسَالٍ الْخَثْعَمِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا عَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مِرْسَالٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَنَعَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابًا لَهُ ، فَلَمَّا أَتَى بِالطَّعَامِ تَنَحَّى أَحَدُهُمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ ؟ " ، قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ وَصَنَعَ ، ثُمَّ تَقُولُ : إِنِّي صَائِمٌ ، كُلْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے کھانا تیار کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی دعوت کی، کھانا لایا گیا، تو ان لوگوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے اور اسے تیار کیا ہے اور اب تم کہہ رہے ہو: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تم اسے کھا لو اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔“