کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب چاند دیکھنے کی گواہی
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَنَا فَنَشَدَ النَّاسَ ، فَقَالَ : مَنْ رَأَى الْهِلالَ لِيَوْمِ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا " . قَالَ : فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ : مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ ؟ قَالَ : لا أَدْرِي ، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ ، فَقَالَ : هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ . هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں: مکہ کے گورنر نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو یہ قسم دی اور دریافت کیا: کس شخص نے ”فلاں پہلی“ کا چاند دیکھا تھا، پھر اس نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ہدایت کی تھی کہ ہم عیدالاضحی کے دن قربانی کریں) اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دو عادل گواہ اس بات کی گواہی دیں، تو ہم ان دونوں کی گواہی پر قربانی (یعنی عیدالاضحی) کر لیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا کہ وہ گورنر کون شخص تھا، تو انہوں نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں، اس کے بعد میری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے بتایا: وہ صاحب حارث بن حاطب تھے، جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے، اس کی سند متصل ہے اور یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2191
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 270، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2191، 2192، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13883»
«قال الدارقطني: إسناد متصل صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 358)»
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ قَالَ : " عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ ، وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا " . فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَقَالَ : مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ خَلْفَهُ ، قُلْتُ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ : سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ : إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ جُمَحٍ ، كَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ.
محمد محی الدین
حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں: مکہ کے گورنر نے یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی: ”ہم (چاند دیکھ کر قربانی کریں) یعنی عیدالاضحی منائیں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دو عادل لوگ اس کی گواہی دے دیں، تو دونوں کی گواہی کی بنیاد پر قربانی کر لیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا: وہ گورنر کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ حارث بن حاطب تھے، جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔ اس گورنر نے یہ بات بھی کہی کہ تمہارے درمیان وہ شخص موجود ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے (احکامات) میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے، پھر اس گورنر نے وہاں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ صاحب کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے (یعنی ہم دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر چاند نظر آ جانے کا فیصلہ کر دیں)۔ ابوبکر نیشاپوری بیان کرتے ہیں: میں نے ابراہیم حربی سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بیان کیا: سعید بن سلیمان نے ہمیں یہ روایت سنائی ہے، اس کے بعد ابراہیم نے یہ بات بیان کی: وہ صاحب حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن خبیب بن وہب بن حذیفہ بن جمعہ تھے، جنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2192
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 270، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2191، 2192، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13883»
حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : إِنَّا صَحِبْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَعَلَّمْنَا مِنْهُمْ ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ ، فَإِنْ شَهِدَ ذَوَا عَدْلٍ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَأَنْسِكُوا " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہے، ہم نے ان سے علم حاصل کیا ہے، انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر دو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو، اگر دو عادل لوگ گواہی دیں، تو (ان کی گواہی کی بنیاد پر) روزے رکھنا شروع کر دو، عیدالفطر کرو یا قربانی کرو (یعنی عیدالاضحی مناؤ)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2193
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2118 ، 2129، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2437، 2448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2169، 2170، 2171، 2193، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19127، 19197، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2856، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 988، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7337، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9113، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2546، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 3770»
حدیث نمبر: 2194
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ صَائِمًا لِتَمَامِ الثَّلاثِينَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَإِنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَهُمْ فَأَفْطَرُوا " . هَذَا صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
ربعی ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور یہ رمضان کا تیسواں دن تھا، دو دیہاتی آئے اور ان دونوں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور انہوں نے یہ بتایا: انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ عیدالفطر منائیں۔ یہ حدیث مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2194
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 435، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2339، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8283، 8284، 8285، 8295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2194، 2202، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19126، 23538، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 662»
«قال الدارقطني: هذا صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2194)»
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، " أَنَّ عُمَرَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي رُؤْيَةِ الْهِلالِ فِي فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى " . كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ ، وَخَالَفَهُ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرَوَاهُ عَنْ عُمَرَ ، أنَّهُ قَالَ : " لا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ " ، حَدَّثَ بِهِ الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ عَنْهُ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی کا چاند دیکھنے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے، لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے، اسی طرح ابن ابولیلیٰ نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ ابووائل، شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ روزے رکھنا اس وقت تک بند نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے)۔“ اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث « إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8291، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2195، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7343، 15455، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9558»
«قال الدارقطني: كذا روى عبد الأعلى عن ابن أبي ليلى وعبد الأعلى ضعيف وابن أبي ليلى لم يدرك عمر وخالفه أبو وائل شقيق بن سلمة فرواه عن عمر أنه قال لا تفطروا حتى يشهد شاهدان حدث به الأعمش ومنصور عنه ، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2195)»
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ ، قَالَ فِي كِتَابِهِ : " إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ " . رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، فَقَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ " . هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى . وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشُ ، عَنْ مَنْصُورٍ.
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا: ”چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو، تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو، تو عید اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔“ یہ روایت ابن ابولیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2196
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، قَالا : ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالُوا : ثنا رَوْحٌ ، قَالا : نا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بِخَانِقِينَ : " إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ " .
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس (خانقین کے مقام پر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لو، تو اس وقت تک عید نہ کرو، جب تک دو آدمی اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات اس چاند کو دیکھ چکے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2197
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَاكِبٌ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ : قُلْتُ لأَبِي نُعَيْمٍ : سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ ؟ قَالَ : لا أَدْرِي ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ : قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ : سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ ؟ فَلَمْ يُثْبِتْ ذَلِكَ ، عَبْدُ الأَعْلَى هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ ، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْهُ ، رَوَاهُ الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ.
محمد محی الدین
ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک سوار آیا اور اس نے بتایا: اس نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عیدالفطر کریں۔ محمد بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے ابونعیم سے دریافت کیا: کیا ابن ابولیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث کا بیان کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔ محمد بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے دریافت کیا: کیا ابن ابولیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے، تو انہوں نے اسے درست قرار نہیں دیا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی عبدالاعلیٰ بن ثعلبی ہیں، جو مستند نہیں ہیں۔ ابووائل کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مستند ہے، جسے اعمش اور منصور نے ابووائل کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2198
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال الزیلعی: عبد الأعلى هذا متكلم فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 443)»
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ : إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ لأَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : إِنْ كَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ ، وَخَالَفَهُ الإِمَامُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ.
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، تو ہم اس وقت خانقین کے مقام پر موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لو، تو اس وقت تک عید نہ کرو، جب تک دو عادل آدمی اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں۔“ ابوبکر نے یہ بات بیان کی ہے: اگر مومل نامی راوی کو یہ روایت غریب ہے، کیونکہ امام عبدالرحمن مہدی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2199
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ : إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تُمْسُوا ، إِلا أَنْ يَشْهَدَ رَجُلانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً " .
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم لوگ اس وقت خانقین میں موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھ لو، تو شام ہونے تک افطاری کرو، جب تک دو مسلمان اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں (تو تم روزہ توڑ کر عیدالفطر مناؤ)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2200
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
حدیث نمبر: 2201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا سُفْيَانُ ، بِإِسْنَادِهِ مثل حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2201
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
حدیث نمبر: 2202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُسَدَّدٌ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا : نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ لأَهَلا الْهِلالَ أَمْسِ عَشِيَّةً ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا " . زَادَ خَلْفٌ : وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاهُمْ . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ثَابِتٌ.
محمد محی الدین
ربعی بن حراش ایک صحابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: رمضان کے آخری دن کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا، دو دیہاتی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ ان دونوں نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی: ”وہ روزہ توڑ دیں اور عیدالفطر منائیں۔“ خلف نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی تھی: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی: لوگ عیدگاہ کی طرف (عید کی نماز کے لیے) آئیں۔“ یہ سند حسن ہے اور ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 435، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2339، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8283، 8284، 8285، 8295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2194، 2202، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19126، 23538، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 662»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن ثابت ، سنن الدارقطني: (3 / 123) برقم: (2202)»
حدیث نمبر: 2203
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّانِعُ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَتِهِ ، قَالُوا : " قَامَتِ الْبَيِّنَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا ، وَأَنْ يَغْدُوا مِنَ الْغَدِ إِلَى عِيدِهِمْ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَمَا بَعْدَهُ أَيْضًا.
محمد محی الدین
ابوعمیر بن انس اپنے چچاؤں کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ گواہی دی گئی کہ لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا: ”وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن صبح عید کی نماز کے لیے جائیں۔“ یہ روایت حسن ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی حسن ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2203
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3456، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2521، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1556، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1768، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1157، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1653، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6372، 8292، 8293، 8294، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2203، 2204»
«قال الدارقطني: إسناده حسن ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا أَبُو النَّضْرِ ، قَالُوا : ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُمَيْرِ بْنَ أَنَسٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمُومَتِهِ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الأَنْصَارِ " أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ ، فَجَاءَ رَكْبٌ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا ، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاهُمْ " .
محمد محی الدین
ابوبشر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمیر بن انس کو اپنے بعض چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے، ابونضرہ اپنے انصاری چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: وہ لوگ دن کے آخری حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، کچھ سوار وہاں آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ ہدایت کی: ”وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عیدگاہ کی طرف عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے جائیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2204
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3456، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2521، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1556، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1768، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1157، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1653، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6372، 8292، 8293، 8294، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2203، 2204»
«قال الدارقطني: إسناده حسن ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الشَّافِعِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ رَجُلا شَهِدَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَلَى رُؤْيَةِ هِلالِ رَمَضَانَ فَصَامَ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا ، وَقَالَ : " أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ : فَإِنْ لَمْ تَرَ الْعَامَّةُ هِلالَ رَمَضَانَ وَرَآهُ رَجُلٌ عَدْلٌ ، رَأَيْتُ أَنْ أَقْبَلَهُ لِلأَثَرِ وَالاحْتِيَاطِ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ بَعْدُ : لا يَجُوزُ عَلَى رَمَضَانَ إِلا شَاهِدَانِ . قَالَ الشَّافِعِيُّ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : لا أَقْبَلُ عَلَيْهِ إِلا شَاهِدَيْنِ ، وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى كُلِّ مَغِيبٍ.
محمد محی الدین
فاطمہ بنت حسین بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں شعبان کے دن میں روزہ رکھ لوں، یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں رمضان کے دن میں روزہ نہ رکھوں۔“ امام شافعی فرماتے ہیں: اگر عام لوگوں نے رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو اور ایک عادل شخص اسے دیکھ لے، تو میں اس بات کو جائز دوں گا کہ میں اس کی گواہی قبول کر لوں، کیونکہ اثر سے بھی یہ بات منقول ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے، لیکن اس کے بعد امام شافعی نے یہ فتویٰ دیا: رمضان کے لیے کم از کم دو آدمیوں کی گواہی شرط ہے۔ امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس بارے میں کم از کم دو آدمیوں کی گواہی قبول کروں گا، قیاس یہی ہے، ہر غائب چیز کے بارے میں گواہی کا یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2205
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8079، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2205،»
حدیث نمبر: 2206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا الرَّبِيعُ ، قَالَ قَالَ الشَّافِعِيُّ : " مَنْ رَأَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ فَلْيَصُمْهُ ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلْيُفْطِرْ ، وَلْيُخْفِ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
امام شافعی فرماتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو وہ اس دن روزہ رکھے اور جو شخص شوال کا چاند دیکھ لے، وہ اس دن روزہ نہ رکھے اور اس بات کو مخفی رکھے (لیکن اس کی گواہی پر دوسرے لوگ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے والے نہیں ہوں گے)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2206
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2206»
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَرَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ : " أَنَّهُ يَصُومُ لأَنَّهُ لا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلا يُفْطِرُ ، لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا ، ثُمَّ يَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ : قَدْ رَأَيْنَا الْهِلالَ " .
محمد محی الدین
امام مالک بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اب اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے، یہ دن رمضان کا حصہ ہے، جو شخص اکیلا شوال کا چاند دیکھ لے، وہ روزہ نہ چھوڑے، کیونکہ لوگ اس بارے میں اس پر الزام لگائیں گے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا، کیونکہ اس میں سے بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں، جو مامون نہیں ہوتے۔ پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے، جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ یہ کہیں: ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2207
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2207»
حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْكِنْدِيُّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْكُوفَةِ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ الدَّالانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ قَمَرًا ضَخْمًا ، الْمُقِلُّ يَقُولُ لِلَيْلَتَيْنِ ، وَالْمُكْثِرُ يَقُولُ لِثَلاثٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ فَعَدّ لِي مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّا أَهْلَلْنَا قَمَرًا ضَخْمًا ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ " . هَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم نے ذوالحج کا چاند دیکھا، تو وہ ہمیں بڑا لگا، جس شخص نے اس کو کم قرار دیا تھا، اس نے دوسری رات کا چاند کہا اور جو زیادہ بیان کر رہا تھا، اس نے اسے تیسری رات کا چاند کہا، جب ہم مکہ آئے اور ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو ہم نے جب ان سے یہ بیان کیا، تو انہوں نے ہمارے سامنے جو گنتی اس حساب تھی (جس میں ہم نے چاند دیکھا تھا)، میں نے ان سے کہا: ہم نے تو چاند کو بڑا دیکھا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دیکھے جانے کے ساتھ (مہینے کے آغاز کو) مشروط کیا ہے۔“ یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2208
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2208، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2228»
«قال الدارقطني: هذا صحيح وما بعده ، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2208)»
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ أَبُو هِشَامٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثنا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بَطْنَ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلالَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ لِثَلاثٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لِلَيْلَتَيْنِ ، فَلَقِيَنَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلالَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ لِلَيْلَتَيْنِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لِثَلاثٍ ، قَالَ : " أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ ؟ " ، قُلْنَا : لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " هُوَ لِلَّيْلَةِ الَّتِي رَأَيْتُمُوهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى الرُّؤْيَةِ " . وَهَذَا صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم نے بطن نخلہ میں پڑاؤ کیا، تو ہم نے چاند دیکھ لیا، بعض نے کہا: یہ دوسری کا چاند ہے اور بعض نے کہا: یہ تیسری کا چاند ہے، پھر ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، ہم نے انہیں بتایا: ہم نے چاند دیکھا تھا، بعض نے کہا: دوسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا: تیسری رات کا چاند ہے، انہوں نے کہا: تم نے کس رات میں اسے دیکھا تھا، تو ہم نے کہا: فلاں رات کو، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اسی رات کا ہے، جس رات میں تم نے دیکھا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حکم کو دیکھنے کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2209
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1088، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1919، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2209، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9120، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12687»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2209)»
حدیث نمبر: 2210
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : أَهْلَلْنَا هِلالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ " . وَهَذَا صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم نے رمضان کا چاند دیکھا، ہم ذات عرق میں موجود تھے، ہم نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس دریافت کرنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ اسے دیکھنے کے لیے تمہارے سامنے پھیلا دیتا ہے، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تعداد پوری کر لو۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1088، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1915، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8033، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2172، 2210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3079، 3269، 3584، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 2844، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9121، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2533، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 3766»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2210)»
حدیث نمبر: 2211
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلالَ ، فَقَالَ : " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلالَ ؟ " ، فَقُلْتُ : رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاثِينَ أَوْ نَرَاهُ " ، فَقُلْتُ : أَوَلا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ : " لا ، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
کریب بیان کرتے ہیں: سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا، وہ فرماتے ہیں: میں شام آیا، سیدہ ام الفضل کا کام پورا کیا، اسی دوران رمضان کا چاند نظر آ گیا، میں شام میں ہی موجود تھا، میں نے جمعے کی رات میں چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بات چیت کی، پھر جب میں نے پہلی کے چاند کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم نے پہلی کا چاند کب دیکھا تھا؟ تو میں نے جواب دیا: میں نے اسے جمعہ کی رات میں دیکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم نے خود اسے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں! اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا، میں نے روزہ بھی رکھا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم نے تو اسے ہفتے کی رات دیکھا تھا اور ہم مسلسل روزے رکھیں گے، یہاں تک کہ تیس کی تعداد پوری کر لیں یا شوال کا چاند دیکھ لیں۔“ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند کو دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1087، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1916، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2432، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2332، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 693، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8301، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2211، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2834، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 480، 481»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2211)»
حدیث نمبر: 2212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ ثَلاثِينَ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ رَجُلانِ يَشْهَدَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَ النَّاسَ ، فَأَفْطَرُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (رمضان کے مہینے میں) تیسویں دن کی صبح کی بات ہے، دو دیہاتی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا: ”وہ روزہ ختم کریں اور عیدالفطر منائیں۔“ باب رات کے وقت ہی (روزے کی) نیت کر لینا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2212
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1107، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8286، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2212، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 997، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 663»
«قال الدارقطني: فقال عن منصور عن ربعي أن أعرابيين شهدا مرسلا وخالفهم ابن عيينة من رواية إسحاق بن إسماعيل عنه ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 182)»