کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب سحری کا وقت
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا عَبْدُ الأَعْلَى ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : أَسْنَدَهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، كَمَا قَالَ عَبْدُ الأَعْلَى.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص اذان کی آواز سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو، تو اس وقت نہ رکھے، جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کرے۔“ امام ابوداؤد بیان کرتے ہیں: اس روایت کی سند کو روح بن عبادہ نامی راوی نے اسی طرح نقل کیا ہے، جیسے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 734، 745، 1557، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2350، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8116، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2182، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 9603، 10779، 10780»
«قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2350»
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ أَبُو الْفَضْلِ الْخُوَارِزْمِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْفَجْرُ فَجْرَانِ ، فَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ فِي السَّمَاءِ فَلا يَمْنَعَنَّ السَّحُورَ وَلا تَحِلُّ فِيهِ الصَّلاةُ ، وَإِذَا اعْتَرَضَ فَقَدْ حَرُمَ الطَّعَامُ ، فَصَلِّ صَلاةَ الْغَدَاةِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عائش، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ یہ فرماتے ہیں: ”فجر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ جو آسمان میں لمبائی کی سمت میں پھیلتی ہے، یہ آدمی کی سحری میں رکاوٹ نہیں ہوتی، اس وقت میں نماز (فجر) ادا کرنا جائز نہیں، لیکن جب یہ چوڑائی کی سمت میں پھیل جائے، تو اس وقت (سحری کا) کھانا حرام ہو جاتا ہے اور اس وقت آپ صبح کی نماز ادا کر سکتے ہیں۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2183
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2183،»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح . سنن الدارقطني: (3 / 114) برقم: (2183)»
حدیث نمبر: 2184
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هُمَا فَجْرَانِ ، فَأَمَّا الَّذِي كَأَنَّهُ ذَنَبُ السَّرْحَانِ فَإِنَّهُ لا يُحِلُّ شَيْئًا وَلا يُحَرِّمُهُ ، وَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي عَارَضَ الأُفُقَ فَفِيهِ تَحِلُّ الصَّلاةُ وَيَحْرُمُ الطَّعَامُ " . هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: مجھے اس بات کا پتا چلا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”فجر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جو بھیڑیے کی دم کی طرح کی ہوتی ہے، وہ کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتی، تاہم جو چوڑائی کی سمت میں پھیلتی ہے، اس میں نماز پڑھنا حلال ہو جاتا ہے اور سحری کا (کھانا) حرام ہو جاتا ہے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2184
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 693، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1797، 1798، 8099، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1053، 2184، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9164، وأبو داود فى "المراسيل"، 97»
«قال الدارقطني: هَذَا مُرْسَلٌ»
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْكُوفِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَجْرُ فَجْرَانِ : فَجْرٌ تَحْرُمُ فِيهِ الصَّلاةُ وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ ، وَفَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلاةُ " . لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَوَقَفَهُ الْفِرْيَابِيُّ ، وَغَيْرُهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَوَقَفَهُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْهُ أَيْضًا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”فجر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ ہے، جس میں (فجر کی) نماز پڑھنا جائز نہیں ہوتا، (سحری کا کھانا) کھانا حلال ہوتا ہے، ایک فجر وہ ہے، جس میں (سحری) کا کھانا، کھانا جائز نہیں ہوتا، اس میں (فجر کی نماز) ادا کرنا جائز ہوتا ہے۔“ اس روایت کو زبیری نے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ فریابی اور دیگر محدثین نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ ابن جریج کے شاگردوں نے ان کے حوالے سے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2185
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 356، 1927، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 256، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 692، 1554، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2185، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1799، 1800، 2186، 8100»
«قال البيهقي: الموقوف أصح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (3 / 223)»
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَصَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ ؟ " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : قَدِ ارْتَفَعَ فِي السَّمَاءِ أَبْيَضُ ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ ؟ " ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : لَقَدِ اعْتَرَضَ فِي السَّمَاءِ أَحْمَرُ ، فَقَالَ : " هَيْتَ الآنَ ، فَأَبْلِغْنِي سُحُورِي " .
محمد محی الدین
سالم بن ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زیر تربیت تھا، ایک رات انہوں نے جتنا اللہ کو منظور تھا، اتنی دیر نماز ادا کی، پھر فرمایا: صبح صادق ہو گئی ہے؟ سالم بیان کرتے ہیں: میں باہر آیا اور واپس آ کر بتایا: آسمان میں سفیدی اوپر کی طرف جا رہی ہے (لمبائی کی سمت میں ہے)، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جتنا اللہ کو منظور تھا، اتنی دیر نوافل ادا کیے، پھر فرمایا: جاؤ جا کر دیکھو، کیا صبح صادق ہو گئی ہے؟ میں پھر آیا اور آ کر جواب دیا کہ آسمان میں چوڑائی کی سمت میں سرخی پھیل گئی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہاں! اب وقت ہو گیا ہے، میرا سحری کا کھانا لے آؤ۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2186
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2186، 2187»
«قال ابن حجر: إسناد صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 161)»
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : فَقُلْتُ : قَدِ اعْتَرَضَ فِي السَّمَاءِ وَاحْمَرَّ ، فَقَالَ " ائْتِ الآنَ بِشَرَابِي " ، قَالَ : وَقَالَ يَوْمًا ، آخَرَ : " قُمْ عَلَى الْبَابِ بَيْنِي وَبَيْنَ الْفَجْرِ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے یہ کہا: چوڑائی کی سمت روشنی ہے اور وہ سرخ ہے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب میرے لیے پینے کا سامان لے آؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دروازے پر کھڑے رہو (میرے اور فجر کے درمیان) اور جب (فجر ہو جائے)، تو مجھے بتا دینا۔ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2187
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2186، 2187»
«قال ابن حجر: إسناد صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 161)»
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، وَأَخُوهُ أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثنا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ السَّخِيمِيُّ ، قَالَ : أَتَانِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِي رَمَضَانَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ بَعْدَمَا رَفَعْتُ يَدِي مِنَ السَّحُورِ لِخَوْفِ الصُّبْحِ فَطَلَبَ مِنِّي بَعْضَ الإِدَامِ ، فَقُلْتُ : أَيَا عَمَّاهُ لَوْ كَانَ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّيْلِ شَيْءٌ لأُدْخِلَنَّكَ إِلَى طَعَامٍ عِنْدِي وَشَرَابٍ ، قَالَ : عِنْدَكَ ، فَدَخَلَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ ثَرِيدًا وَلَحْمًا وَنَبِيذًا ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ وَأَكْرَهَنِي ، فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ وَإِنِّي لَوَجِلٌ مِنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا يَغُرَّنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ . قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن نعمان بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ رمضان کے مہینے میں رات کے آخری حصے میں سیدنا قیس بن طلق رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت صبح کے خوف کی وجہ سے سحری کھانا بند کیا جا چکا تھا، انہوں نے مجھ سے سالن مانگا، میں نے کہا: اے چچا جان! اگر رات کا ابھی کچھ حصہ باقی ہے، تو میں آپ کو کھانے اور پینے کا سامان دیتا ہوں، انہوں نے فرمایا: تمہارے پاس ہے؟ پھر وہ اندر تشریف لے آئے، تو میں نے سامنے (ثریر) گوشت اور نبیذ دیے، انہوں نے انہیں کھا بھی لیا اور پی بھی لیا اور مجھے بھی مجبور کیا، تو میں نے بھی کھا اور پی لیا اور مجھے صبح ہو جانے کا اندیشہ تھا، پھر سیدنا قیس بن طلق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے: ”تم لوگ (سحری میں) کھاتے پیتے رہو اور لمبائی کی سمت میں پھیلنے والی روشنی تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے، تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو، جب تک سرخی چوڑائی کی سمت میں تمہارے سامنے نہیں پھیل جاتی۔“ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی، اس کے راوی قیس بن طلق مستند نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2188
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «إسناده حسن صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1930، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 168، 169، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2348، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 705، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2188، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9162، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3170، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8257»
«قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2348»
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَمْنَعَنَّ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلالٍ ، وَلا بَيَاضُ الأُفُقِ الَّذِي هَكَذَا ، حَتَّى يَسْتَطِيرَ " . إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے وقت یہ بات بیان کی: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کرنے سے نہ روکے اور (اس طرح لمبائی کی سمت میں) افق میں پھیلنے والی روشنی بھی تمہیں نہ روکے، جب تک وہ چوڑائی کی سمت میں پھیل جاتی (تم سحری کھا سکتے ہو)۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2189
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1094، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1929، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1555، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2173، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2492، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2346، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 706، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1819، 8098، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2189، 2190، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20396»
«قال الدارقطني: إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 117) برقم: (2189)»
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلالٍ ، وَلا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ ، حَتَّى يَسْتَطِيرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بلال کی اذان تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے اور یہ سفیدی بھی،“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات صبح کے وقت لمبائی میں پھیلنے والی روشنی کے متعلق فرمائی اور فرمایا: ”جب تک یہ چوڑائی کی سمت میں نہیں پھیل جاتی، تم (سحری) کھا سکتے ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1094، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1929، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1555، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2173، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2492، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2346، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 706، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1819، 8098، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2189، 2190، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20396»
«قال الدارقطني: إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 117) برقم: (2189)»