کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب مجوسیوں کا جزیہ اور ان کے احکامات کے بارے میں جو روایات منقول ہیں
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ بَجَالَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ : اقْتُلْ كُلَّ سَاحِرٍ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ ، وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ . فَقَتَلْنَا ثَلاثَ سَوَاحِرَ ، وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ حَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا ، وَدَعَا الْمَجُوسَ وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ ، فَأَلْقَوْا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ ، يَعْنِي مِنْ فِضَّةٍ ، وَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ أَهْلِ هَجَرَ " .
محمد محی الدین
مجالد بیان کرتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا، جو سیدنا احنف بن قیس کے چچا ہیں، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، یہ ان کے انتقال سے ایک سال پہلے کی بات ہے (اس میں یہ تحریر تھا): ”تم ہر جادوگر کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں سے جس شخص نے اپنی سگی رشتہ دار عورت کے ساتھ شادی کی ہو، ان کے درمیان جدائی کروا دو اور انہیں زمزمہ سے منع کر دو۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم نے تین جادوگروں کو قتل کروا دیا، ہم نے ہر آدمی کی ایسی بیوی سے جدائی کروا دی، جس کے ساتھ نکاح کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، پھر انہوں نے بہت سا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کی دعوت کی، انہوں نے اپنی تلوار اپنے زانوؤں کے اوپر رکھی، ان لوگوں نے ایک خچر کے وزن جتنا یا دو خچر کے وزن جتنی چاندی وہاں رکھ دی اور انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے اس وقت تک جزیہ وصول نہیں کیا، جب تک سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ گواہی نہیں دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر سے تعلق رکھنے والے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ ، كَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمَنَاذِرِ ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ الْمَجُوسِ أَهْلِ هَجَرَ الْجِزْيَةَ " . فَخُذْ مِنْ مَجُوسِ مَنْ قِبَلَكَ الْجِزْيَةَ . حَجَّاجٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
محمد محی الدین
ابومعاویہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا، ہمارے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا): ”سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر سے تعلق رکھنے والے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا، اس لیے تم بھی اپنے علاقے کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کرو۔“ اس روایت کا راوی حجاج مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَهٍ ، نا الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ ، أنا هُشَيْمٌ ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بَجَالَةَ ، قَالَ : " لَمْ يَأْخُذْ عُمَرُ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ ، حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنْهُمْ " . قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنْتُ جَالِسًا بِبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلانِ مِنْهُمْ ، ثُمَّ خَرَجَا ، فَقُلْتُ : مَاذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالا : " الإِسْلامُ أَوِ الْقَتْلُ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَتَرَكُوا قُولِي.
محمد محی الدین
بجالہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے: ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا، دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر وہ دونوں باہر نکل آئے، تو میں نے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں کیا فیصلہ دیا ہے؟ تو ان دونوں نے بتایا (یہ فیصلہ دیا ہے): ”یا ہم اسلام قبول کر لیں یا قتل ہو جائیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو لوگوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیان کو اختیار کر لیا اور میری روایت کو ترک کر دیا۔
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَجَالَةَ التَّمِيمِيَّ ، قَالَ : " وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ ، حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ " .
محمد محی الدین
بجالہ تمیمی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کرنا چاہتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہجر“ سے تعلق رکھنے والے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2145
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ الْبَزَّازُ ، سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ أَصْحَابِي أَخَذُوا الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ مَا أَخَذْتُهَا مِنْهُمْ ، وَتَلا : قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ سورة التوبة آية 29 ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ سورة التوبة آية 29 " .
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگر میں نے اپنے ساتھیوں کو مجوسیوں سے جزیہ وصول کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں ان سے اسے وصول نہ کرتا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرو جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، وہ اسے حرام نہیں سمجھتے ہیں۔“ یہ آیت آخر تک ہے: ”یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں، جبکہ وہ ذلیل ہوں۔“