حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمُبَارَكِيُّ بِالْمُبَارَكَةِ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا ، يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي ، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ : " يَا عَبَّاسُ ، أَلا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ؟ " ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَرْجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي بِهِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا شَافِعٌ " ، قَالَتْ : فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا، وہ منظر بھی میری نگاہ میں ہے، وہ شخص اس عورت کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہوتی کہ مغیث، بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے، اور بریرہ، مغیث کو کتنا ناپسند کرتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے یہ فرمایا تھا: ”تمہیں اس کے ساتھ شادی برقرار رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ تمہارے بچوں کا باپ ہے۔“ اس عورت نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سفارش کر رہا ہوں۔“ تو اس عورت نے عرض کی: ”پھر مجھے اس کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔“