حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَنْسِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلانِيُّ ، ثنا سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ " . لَيْسَ فِيهِمْ مَجْرُوحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صدقہ فطر روزہ دار خاص کے لیے لغو اور رفث سے پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے اور غریب آدمی کو کھانے کے طور پر مل جاتا ہے، جو شخص اسے نماز سے پہلے ادا کر دے گا، تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو شخص اسے نماز کے بعد ادا کرے گا، تو یہ عام صدقہ ہے۔“ اس روایت کے راویوں میں کوئی بھی مجروح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْقَاسِمِ التَّمَّارُ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُعَلَّى ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا أبِي ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ بَعْضَ الْبَادِيَةِ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : هَلْ عَلَيْنَا زَكَاةُ الْفِطْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ ، أَوْ عَبْدٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ " .
محمد محی الدین
امام زین العابدین رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: کچھ دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا ہم پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازم ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام مسلمان پر لازم ہے، جو کھجور کا، جو کا یا نپیر کا ایک صاع ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حُرٍّ ، وَعَبْدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کو، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، نابالغ ہو یا بالغ، کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مثل حَدِيثِ ابْنِ زَنْجُوَيْهِ سَوَاءً . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ فِيهِ : مِنَ الْمُسْلِمِينَ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، والضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، وَالْمُعَلَّى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعَمْرِيُّ ، وَكُثَيْرُ بْنُ فَرْقَدٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ كَذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں لفظ ”مسلمانوں“ کا اضافہ ہے۔
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفَرَحِ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ رَجُلٍ ، أَوِ امْرَأَةٍ صَغِيرٍ ، أَوْ كَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان شخص پر، خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، نابالغ ہو یا بالغ، کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع رمضان کے بعد صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا لازم قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2072
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السُّكَيْنِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنِ الْعَبْدِ ، وَالْحُرِّ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع دینا لازم قرار دیا ہے، جو صدقہ فطر کے طور پر ہر غلام یا آزاد، مذکر اور مؤنث، ہر نابالغ اور بالغ مسلمان کی طرف سے ادا کیا جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا ہے: ”لوگوں کے نماز عید پڑھنے جانے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، قَالا : نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَحِ ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا أَرْطَأَةَ ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَنْ كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر مسلمان، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، آزاد ہو یا غلام کی طرف سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، ثنا أَبُو عُلاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا ابْنُ رِشْدِينَ ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”صدقہ فطر کی ادائیگی ہر آزاد اور غلام مسلمان پر فرض ہے، جو کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2075
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا ایک صاع بطور صدقہ فطر کی ادائیگی ہر مسلمان پر لازم قرار دیا ہے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 2076
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آزاد یا غلام، مذکر یا مؤنث مسلمان پر کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع بطور صدقہ فطر لازمی قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الأَشْعَرِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ آبَائِهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى مِمَّنْ تَمُونُونَ " .
محمد محی الدین
امام علی رضا رضی اللہ عنہ، امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد (امام جعفر صادق رحمہ اللہ) کے حوالے سے ان کے دادا (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے ان کے آباء و اجداد (یعنی امام زین العابدین، امام حسین اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے حوالے سے) یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے اور بڑے اور مذکر و مؤنث پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازمی قرار دی ہے، جو آپ کے زیر کفالت ہوں۔
حدیث نمبر: 2078
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَيْرُ بْنُ عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا الأَبْيَضُ بْنُ الأَغَرِّ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ مِمَّنْ تَمُونُونَ " . رَفَعَهُ الْقَاسِمُ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جو تمہارے زیر کفالت ہوں۔ قاسم نامی راوی نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، یہ راوی قوی نہیں ہے اور درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِدَّةً مِنْهُمُ : الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ صَغِيرِهِمْ وَكَبِيرِهِمْ عَمَّنْ يَعُولُ ، وَعَنْ رَقِيقِهِ ، وَعَنْ رَقِيقِ نِسَائِهِ " .
محمد محی الدین
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، جن میں چھوٹے بڑے سب شامل تھے، وہ سب لوگ جو ان کے زیر کفالت تھے، اپنے غلاموں، اپنی بیویوں کے غلاموں کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي فِجَاجِ مَكَّةَ أَلا إِنَّ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ وَأُنْثَى حُرٍّ ، وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ ، أَوْ صَاعٌ مِمَّا سِوَاهُ مِنَ الطَّعَامِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا، جس نے مکہ کی گلیوں میں یہ اعلان کیا: ”یاد رکھنا ہر مسلمان پر، ہر مذکر و مؤنث، آزاد و غلام، چھوٹے اور بڑے پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازم ہے، جو گندم کے دو مد ہوں گے اور اس کے علاوہ دیگر تمام قسم کے اناج کا ایک صاع ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ صَارِخًا يَصْرُحُ فِي بَطْنِ مَكَّةَ أَلا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ ، مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ حَاضِرٍ أَوْ بَادٍ .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، جس نے مکہ کے نشیب میں بلند آواز میں یہ اعلان کیا: ”یاد رکھنا صدقہ فطر (کی ادائیگی لازم ہے)۔“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”ہر شہری اور دیہاتی پر لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 2082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ صَارِخًا يَصْرُخُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب یہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ پتا چلا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، جس نے یہ اعلان کیا: ”ہر مسلمان پر۔“ (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، جَدِّهِ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صَائِحًا صَاحَ : إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ حَاضِرٍ أَوْ بَادٍ ، مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ: ”صدقہ فطر حق ہے اور ہر چھوٹے بڑے، مذکر مؤنث، آزاد غلام، شہری دیہاتی مسلمان پر اسے ادا کرنا لازم ہے، جو گندم کے دو مد ہوں گے اور جو یا کھجور کا ایک صاع ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَدَّادُ ، وَحَمْدَانُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ السَّعْدِيُّ ، وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صَارِخًا بِبَطْنِ مَكَّةَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً ، وَزَادَ : أَلا إِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وادی مکہ کے ایک نشیب میں یہ اعلان کریں۔ تاہم اس روایت میں یہ الفاظ زائد درج ہیں: ”یاد رکھنا اولاد صاحب فراش کی ہوتی ہے اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : " مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ ، الْحُرُّ وَالْعَبْدُ فِيهِ سَوَاءٌ " .
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: گندم کے دو مد ہوں گے اور کھجور یا جو کا ایک صاع ہو گا، اس بارے میں آزاد اور غلام شخص کا حکم برابر رہے۔
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ويَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَطَّارَانِ ، قَالا : ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا أَبُو عَثْمَةَ ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَتَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی ادائیگی ہر مسلمان پر لازم قرار دی ہے، جو کھجور کا ایک صاع ہو گا یا کشمش کا ایک صاع ہو گا یا پنیر کا ایک صاع ہو گا یا جو کا ایک صاع ہو گا۔
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حَاضِرٍ وَبَادٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَعَبْدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شہری اور دیہاتی، چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام شخص کو کھجور کا ایک صاع، جو کا ایک صاع یا گندم کے دو مد بطور صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الدِّيبَاجِيُّ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّغْدِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، ثنا بَقِيَّةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ مُدَّانِ مِنْ حِنْطَةٍ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَعَبْدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صدقہ فطر کھجور کا ایک صاع ہو گا، جو کا ایک صاع ہو گا یا گندم کے دو مد ہوں گے اور یہ ہر چھوٹے بڑے، آزاد غلام کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، ثنا أبِي ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ عَلَى الذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ صَدَقَةَ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکر، مؤنث، آزاد و غلام پر رمضان کا صدقہ لازم قرار دیا ہے، جو کھجور کا ایک صاع ہو گا یا اناج کا ایک صاع ہو گا۔
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا أَبُو يُوسُفَ الْقَلُوسِيُّ ، ثنا بَكْرُ بْنُ الأَسْوَدِ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّ عَلَى صَدَقَةِ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ قَمْحٍ " . بَكْرُ بْنُ الأَسْوَدِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کو رمضان کا صدقہ (یعنی صدقہ فطر) ادا کرنے کی ترغیب دی ہے، جو کھجور کا ایک صاع ہو گا یا جو کا ایک صاع ہو گا یا گندم کا ایک صاع ہو گا۔ اس روایت کا ایک راوی بکر بن اسود قوی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ ، ثنا الثَّقَفِيُّ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرْنَا أَنْ تُعْطَى صَدَقَةُ رَمَضَانَ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، مَنْ أَدَّى بُرًّا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى شَعِيرًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى زَبِيبًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى سُلْتًا قُبِلَ مِنْهُ " ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " وَمَنْ أَدَّى دَقِيقًا قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَدَّى سَوِيقًا قُبِلَ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے، ہم ہر چھوٹے بڑے، آزاد غلام کی طرف سے رمضان کا صدقہ (یعنی صدقہ فطر) اناج کا ایک صاع ادا کریں، جو شخص گندم ادا کرے گا، تو وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی، جو شخص جو ادا کرے، تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا، جو شخص کشمش ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی، جو شخص گندم ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کی جائے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”جو شخص آٹا ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا اور جو شخص ستو ادا کرے گا، وہ اس کی طرف سے قبول کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2092
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الرَّقِّيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى ، عَبْدٍ وَحُرٍّ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ " .
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے بڑے، مذکر مؤنث، غلام و آزاد پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازم قرار دی ہے، جو کھجور کا ایک صاع ہو گا یا اناج کا ایک صاع ہو گا، کشمش کا ایک صاع ہو گا یا جو کا ایک صاع ہو گا یا پنیر کا ایک صاع ہو گا۔
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخَثْعَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ بُرٍّ " ، كَذَا قَالَ : " عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا ایک صاع، گندم کا ایک صاع، صدقہ فطر کے طور پر ادا کرنا مقرر کیا ہے۔ راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”یہ ہر آزاد و غلام، مذکر و مؤنث مسلمان پر لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ عَبْدَانَ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الصَّنْعَانِيُّ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے بارے میں سیدنا عمرو بن حزم کو حکم دیا تھا، وہ گندم کا نصف صاع یا کھجور کا ایک صاع وصول کریں۔
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ ، أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ جَعَلَ نِصْفَ صَاعِ حِنْطَةٍ مَكَانًا مِنْ تِلْكَ الأَشْيَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگ جو کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا گہیوں کا ایک صاع یا کشمش کا ایک صاع صدقہ فطر کے طور پر ادا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، تو گندم زیادہ ہو گئی، تو انہوں نے گندم کا نصف صاع ان تمام چیزوں کی جگہ مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 2096
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : نا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَذَكَرُوا عِنْدَهُ صَدَقَةَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " لا أُخْرِجُ إِلا مَا كُنْتُ أُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ ، قَالَ : " لا تِلْكَ قِيمَةُ مُعَاوِيَةَ ، لا أَقْبَلُهَا وَلا أَعْمَلُ بِهَا " .
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: لوگوں نے ان کے سامنے صدقہ فطر کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”میں تو وہی صدقہ فطر ادا کروں گا جو میں زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ادا کیا کرتا تھا، وہ کھجور کا ایک صاع، کشمش کا ایک صاع، گندم کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ہو گا۔“ ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے شخص نے ان سے کہا: ”یا گندم کا یا آٹے کے دو مد ہوں گے۔“ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں! یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ قیمت ہے، میں اسے قبول نہیں کروں گا اور نہ ہی اس پر عمل کروں گا۔“
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَذِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْجَزِيرَةَ وَهُوَ سَابِقٌ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَاعَ طَعَامٍ أَوْ صَاعَ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمْ نزل نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ ، فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَقَالَ : إِنِّي لأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا ذَكَرَ النَّاسُ الْمُدَّيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم عید الفطر کے دن صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، جو اناج کا ایک صاع ہوتا تھا یا کھجور کا ایک صاع ہوتا تھا یا جو کا ایک صاع ہوتا تھا یا کشمش کا ایک صاع ہوتا تھا یا نپیر کا ایک صاع ہوتا تھا، ہم اسی طرح ادائیگی کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے شام سے ہمارے پاس تشریف لائے، وہ اس وقت خلیفہ وقت تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیا، انہوں نے صدقہ فطر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس وقت لوگوں نے سب سے پہلے دو مد کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، نَحْوَهُ ، قَالَ : صَاعًا مِنْ طَعَامٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اناج کا ایک صاع۔“
حدیث نمبر: 2099
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ثنا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " مَا أَخْرَجْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ " . قَالَ أَبُو الْفَضْلِ : فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، أَحَدٌ لا يَذْكُرُ فِي هَذَا الدَّقِيقَ ، قَالَ : بَلَى ، هُوَ فِيهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں آٹے کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا گہیوں کا ایک صاع یا کشمش کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ أَشْرَسُ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ : " فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ زَبِيبٍ ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، صَاعٌ مِنْ أَقِطٍ ، صَاعٌ مِنْ دَقِيقٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے بارے میں انہیں یہ فرمایا تھا: ”یہ کشمش کا ایک صاع ہو گا یا کھجور کا ایک صاع ہو گا یا پنیر کا ایک صاع ہو گا یا آٹے کا ایک صاع ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2101
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ بَكْرٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْرِجُوا زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " ، قَالَ : وَطَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الْبُرُّ ، وَالتَّمْرُ ، وَالزَّبِيبُ ، وَالأَقِطُ .
محمد محی الدین
مالک بن اوس اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”صدقہ فطر میں اناج کا ایک صاع ادا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان دنوں ہمارا اناج گندم، کھجور، منقیٰ اور پنیر ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 2102
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ذَكَرَ ثَعْلَبَةَ بْنَ صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدُّوا صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ثعلبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا نصف صاع گندم پر چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مونث، آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کرو۔“
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، مِنْ كِتَابِهِ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، أَوْ عَنْ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَدُّوا عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ صَاعًا مِنْ بُرٍّ ، عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، وَالْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ . فَأَمَّا الْغَنِيُّ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ ، وَأَمَّا الْفَقِيرُ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى " . قَالَ ابْنُ يَزِيدَ : فَذَكَرْتُهُ لِجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنَ النُّعْمَانِ ، يَذْكُرُ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن ثعلبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر انسان کی طرف سے گندم کا ایک صاع ہر چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مونث، خوشحال اور غریب کی طرف سے (صدقہ فطر) ادا کرو، جہاں تک خوشحال شخص کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا (یعنی اس کے مال کا) تزکیہ کر دے گا اور جہاں تک غریب آدمی کا تعلق ہے، تو اس نے جو ادا کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اسے ادا کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 2105
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ " ، أَوْ قَالَ : " مِنْ بُرٍّ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ ، وَالْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ . أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهُ " .
محمد محی الدین
ثعلبہ بن ابوصعیر اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گندم کا ایک صاع ادا کرو (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ہر چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مونث، آزاد اور غلام، خوشحال اور غریب کی طرف سے ادا کرو، جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ ان کا (یعنی ان کے مال کا) تزکیہ کر دے گا اور جہاں تک غریب لوگوں کا تعلق ہے، تو اس نے جو ادائیگی کی ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ عطا کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 2106
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " أَمَّا الْفَقِيرُ فَيُغْنِيهِ اللَّهُ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جہاں تک غریب کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے خوشحال کر دے گا۔“
…