کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " لَئِنْ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَكُفَّ الرَّقَبَةِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوَلَيْسَا وَاحِدًا ؟ فَقَالَ : " لا عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا ، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا ، وَالْمَنِحَةُ الْوَكُوفُ ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلا مِنْ خَيْرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کریں، جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم کلام مختصر کرو، تو مانگنے سے گریز کرو، غلام کو آزاد کرو، گردن کو چھڑا دو (غلام یا کنیز کو آزاد کر دو)۔“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! جان کو آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے، تم اسے آزاد کر دو اور گردن کو چھڑانے کا مطلب یہ ہے، تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں اس کی مدد کرو، زیادہ دودھ دینے والی (اونٹنی یا بکری کو) کسی معاوضے کے بغیر دے دو اور زیادتی کرنے والے رشتہ دار کے ساتھ تعلق برقرار رکھو، اگر تم یہ نہیں کر سکتے، تو اپنی زبان سے صرف بھلائی کی بات کہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2055
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 374، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2879، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21368، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2055، 2057، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18946، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 775، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2743، 2744»
حدیث نمبر: 2056
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، نا أَحْمَدُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ ، يَقُولُ : جَاءَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَسَأَلَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَأَنَا حَاضِرٌ أَوْ قَالَ : جَاءَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
ابواحمد زبیری کہتے ہیں: سفیان ثوری تشریف لائے، تو انہوں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا، راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: سفیان ثوری میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2056
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2055 ،2057»
«»
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَوَادَةَ ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا وَزَادَ " فَأَطْعِمِ الْجَائِعِ وَأَسْقِ الظَّمْآنَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”بھوکے کو کھانا کھلاؤ، پیاسے کو پلاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2057
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 374، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2879، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21368، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2055، 2057، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18946، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 775، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2743، 2744»
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْرِ بْنِ بُجَيْرٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغَوِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، قَالا : نا وَكِيعٌ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ قَدْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لا تُحْجَبُ " . وَقَالَ يَعْقُوبُ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ : " فَإِنَّهَا لَيْسَتْ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو، تم انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس بات میں تمہاری اطاعت کر لیں، تو تم انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں، تو تم انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اموال میں ان پر زکوٰۃ لازم کی ہے، جو ان کے خوشحال لوگوں سے لے کر غریب لوگوں کو دے دی جائے گی، اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں، تو لوگوں کے اچھے اموال وصول کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ اس کے (اور اللہ تعالیٰ کے درمیان) کوئی حجاب نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2058
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 19، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 156،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1584، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 625، 2014، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1655، 1671، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1783، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2100»
حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا نَحْوَ الْيَمَنِ ، قَالَ لَهُ : " إِنَّكَ تَقْدُمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلُ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ تَوْحِيدَ اللَّهِ ، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو ان سے فرمایا: ”تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو، تم نے انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا ہے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کریں، جب وہ اس کو جان لیں گے، تو تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں روزانہ فرض کی ہیں اور تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال کی زکوٰۃ ان پر فرض کی ہے، جو ان کے خوشحال لوگوں سے لے کر ان کے غریب لوگوں کو دے دی جائے گی، اگر وہ اس بات کا اقرار کر لیں، تو تم اسے وصول کر لینا اور لوگوں کے (خاص طور پر) اچھے اموال وصول کرنے سے بچنا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2059
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 19، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 156،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1584، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 625، 2014، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1655، 1671، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1783، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2100»
حدیث نمبر: 2060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَعَثَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا ، فَقَسَمَهَا فِي فُقَرَائِنَا ، وَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ " .
محمد محی الدین
عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص بھیجا، اس نے ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوٰۃ وصول کی اور پھر ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کی، اس نے مجھے ایک قلوص دینے کی ہدایت کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2060
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2362، 2379، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 649، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13260، 13261، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2060، 2061، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4238، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10747، 34588، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 275، 276، 277»
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو عَمْرٍو ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا سَاعِيًا فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَرَدَّهَا فِي فُقَرَائِنَا ، وَكُنْتُ غُلامًا يَتِيمًا لا مَالَ لِي ، فَأَعْطَانِي قَلُوصًا " .
محمد محی الدین
عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اہل کار ہماری طرف بھیجا، اس نے ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے غریب لوگوں کو دے دی، میں اس وقت یتیم (یا نابالغ) لڑکا تھا، میرے پاس کوئی مال نہیں تھا، تو اس نے مجھے ایک قلوص دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2061
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2362، 2379، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 649، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13260، 13261، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2060، 2061، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4238، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10747، 34588، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 275، 276، 277»
حدیث نمبر: 2062
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لا تَخْرُجُ الزَّكَاةُ مِنْ بَلَدٍ إِلا لِذِي قَرَابَةٍ " . مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: زکوٰۃ کی رقم کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل نہیں کیا جائے گا، البتہ قرض رشتہ داروں کو دینے کے لیے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ یہ روایت موقوف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2062
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2062، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13263»
حدیث نمبر: 2063
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْعَثُ إِلَى قَوْمٍ جَيْشًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْبِسْ جَيْشَكَ فَأَنَا لَكَ بِإِسْلامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ ، وَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِي فَجَاءَ إِسْلامُهُمْ وَطَاعَتُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَخَا صُدَاءٍ الْمُطَاعُ فِي قَوْمِهِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَهَدَاهُمْ ، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّدَقَاتِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلا غَيْرِهِ حَتَّى جَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میری قوم کی طرف ایک لشکر روانہ کرنے والے تھے، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ اپنے لشکر کو روک لیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضمانت دیتا ہوں کہ وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے اور فرمان برداری بھی کریں گے، میں اپنی قوم کو خط لکھتا ہوں، وہ لوگ اسلام قبول کرتے ہوئے اور فرمان برداری کرتے ہوئے آ جائیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صداء قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص! جس کی قوم اس کی بات مانتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر احسان کیا ہے، انہیں ہدایت نصیب کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زکوٰۃ کی رقم مانگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کے بارے میں کسی بھی نبی یا کسی بھی دوسرے شخص کے فیصلے سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا، جب تک وہ شخص اس زکوٰۃ کو آٹھ اجزاء میں تقسیم نہ کر دے، اگر تم ان اجزاء کے اہل ہو، تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2063
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1630، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7827، 13245، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2063، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3011»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف ، اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں»
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَتَوْا عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالا وَخَيْلا وَرَقِيقًا ، وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهِ زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ فَأَفْعَلُهُ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : " مَا فَعَلَهُ مَنْ كَانَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ " ، فَاسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَكَانَ فِيمَنِ اسْتَشَارَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةٌ يُؤْخَذُ بِهَا مَنْ بَعْدَكَ " . قَالَ إِسْحَاقُ : إِنْ لَمْ يَكُنْ مَرْتَبَةً لِمَنْ بَعْدَكَ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا .
محمد محی الدین
سیدنا حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ اموال، گھوڑے اور غلام حاصل ہوئے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں، ان میں سے زکوٰۃ کریں تا کہ یہ پاک ہو جائیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے دونوں آقاؤں نے جو کیا ہے، میں ویسا ہی کروں گا۔“ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”مجھ سے پہلے نے جو کیا ہے، میں بھی ویسا ہی کروں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا، جن لوگوں سے مشورہ کیا، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، انہوں نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے، اگر اسے ایسا جزیہ نہ بنایا جائے، جو آپ کے بعد بھی وصول کیا جائے۔“ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر اسے اس ترتیب کے ساتھ نہ رکھا جائے کہ آپ کے بعد والا بھی اسے وصول کرے (تو یہ ٹھیک ہے)۔“ (راوی کہتے ہیں) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑے کی طرف سے ایک دینار کی ادائیگی لازمی قرار دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2064
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2290، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 107، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7508، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2064، 2021، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 83، 223، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3045»
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِخَيْلٍ وَرَقِيقٍ ، فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : خُذْ صَدَقَتَهَا ، فَقَالَ " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا فَعَلَهُ قَبْلِي حَتَّى أَسْأَلَ " ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ گھوڑے اور غلام لے کر آئے، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ ان کی زکوٰۃ وصول کر لیں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے علم کے مطابق، مجھ سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا، میں اس بارے میں دریافت کروں گا۔“ (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2065
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2065 ،»
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفُضَيْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلالٌ ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ عَافِيَتَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا ، ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ : وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64 " .
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے: (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے) ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال قرار دیا ہے، وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام قرار دیا ہے، وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی حکم ذکر نہیں کیا، وہ عافیت ہے۔ تو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو۔ اللہ تعالیٰ کوئی بات بھولتا نہیں ہے۔“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 2066
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19785، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2066، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4087»