کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب: زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
حدیث نمبر: 2028
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّقَّاشُ الْمُقْرِئُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ ، ثنا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ اثْنَا عَشَرَ أُوقِيَّةً ، الأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَذَلِكَ ثَمَانُونَ وَأَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ ، وَالْوُضُوءُ رَطْلَيْنِ ، وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ ، وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَخْرَجَتِ الأَرْضُ : الْحِنْطَةَ وَالشَّعِيرَ ، وَالزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ ، إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ، الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا ، فَذَلِكَ ثَلاثُمِائَةِ صَاعٍ بِهَذَا الصَّاعِ الَّذِي جَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَنْصُورِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرُ صَالِحِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت مقرر کی ہے: ”پانچ وسق سے کم اناج پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، تو یہ کل تین سو صاع ہو جائیں گے، جو گندم، جو، کھجور، انگور کے ہوں گے، زمین سے جو سبزیاں پیدا ہوتی ہیں، ان میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ الْبُنْدَارُ ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا ، فَذَلِكَ ثَلاثُمِائَةِ صَاعٍ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ، وَلَيْسَ فِيمَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِنَ الْخَضِرِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پانچ اوقیہ سے (چاندی) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی اور پانچ وسق سے کم اناج میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو (زمین) بعل، سیل عثری ہو، اس میں دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا كَانَ بَعْلا أَوْ سَيْلا أَوْ عَثْرِيًّا فَفِي كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدَةٌ " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: آسمان (یعنی بارش)، نہر اور چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں اور جو زمین عثری (یعنی قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو) اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشر (یعنی پیداوار کے دسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے اور جسے (مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا ہے، اس میں نصف عشر (یعنی بیسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے۔
حدیث نمبر: 2032
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ وَمَا كَانَ عَثْرِيًّا الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ ".
محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعل (پانی کے قریب موجود درخت کے زیر زمین سیراب ہونے)، آسمان، نہر، چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی (زمین کی پیداوار کے) دسویں حصے کی ادائیگی کو مقرر کیا ہے اور جسے مصنوعی طریقے سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔
حدیث نمبر: 2033
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ فِي الْبَعْلِ وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیرابی کی ضرورت نہ رکھنے والی زمین اور بارش، نہروں اور چشموں سے سیراب ہونے والی زمین میں دسواں حصہ فرض کیا ہے اور جو زمین کنویں کے پانی سے سینچی جائے، اس میں بیسواں حصہ فرض کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ ، يَقُولُ : الْبَعْلُ الَّذِي بَلَغَتْ أُصُولُهُ الْمَاءَ.
محمد محی الدین
ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: شیخ ربیع یہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام شافعی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، روایت میں استعمال ہونے والا لفظ ”البعل“ سے مراد یہ ہے، جس کی جڑیں پانی تک پہنچتی ہوں۔
حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالرِّشَاءِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس زمین کو بارش، نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو، اس میں عشر کی ادائیگی لازمی ہو گی اور جسے ڈول کے ذریعے سے (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ مَعَافِرَ وَهَمْدَانَ : " إِنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ صَدَقَةَ الثِّمَارِ عُشْرُ مَا سَقَى الْعَيْنُ وَسَقَتِ السَّمَاءُ ، وَعَلَى مَا سَقَى الْغَرْبُ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث عبدکلال اور یمن میں رہنے والے ان کے دیگر ساتھیوں کو، جن کا تعلق معافر اور ہمدان سے تھا، یہ خط میں لکھا تھا: ”اہل زمین (پیداوار) کی زکوٰۃ لازم ہو گی، جو چشمے کے ذریعے اور آسمانی پانی کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں سے دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی اور ڈول (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب ہونے والی زمین (کی پیداوار میں سے) بیسویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2037
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس زمین کو نہر یا چشمے کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو، اس میں دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی اور زمین کو سانیہ کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّخْلِ بِكَبَائِسَ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي الشِّيصَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ بِهَذَا ؟ " ، وَكَانَ لا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ ، فنزلت : وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ يُوسُفُ : إِلا نَسَبُوهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں حکم دیا، تو ایک شخص کچی کھجوریں لے آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کون لے کر آیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جو شخص جو بھی چیز لے کر آتا تھا، وہ چیز اسی شخص کی طرف منسوب کی جاتی تھی جو اسے لے کر آتا تھا۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم اس میں سے گھٹیا چیز کا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ زکوٰۃ میں جعرور اور لون المحبیق کو وصول کیا جائے۔ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ مدینہ منورہ کی دو مخصوص قسم کی کھجوریں ہیں۔ روایت میں یوسف رحمہ اللہ نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثنا الرَّمَادِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نا أَبُو الْوَلِيدِ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ : الْجُعْرُورِ ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ " ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَتَيَمَّمُونَ شَرَّ ثِمَارِهِمْ ، فَيُخْرِجُونَهَا فِي الصَّدَقَةِ ، فَنَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ ، وَنَزَلَتْ : وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 . قَالَ يُوسُفُ : قَالَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ : سُلَيْمَانُ قَالَ عَنْ أَبِيهِ : وَقَدْ قَالَهُ مَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَجْلِسِ وَصَلَهُ أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ غَيْرُهُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی کھجوروں (زکوٰۃ کے طور پر وصول کرنے) سے منع کیا ہے: جعرور اور لون احبیق۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعض لوگ جان بوجھ کر اپنے خراب پھل لے کر زکوٰۃ میں ادا کرتے تھے، تو انہیں اس دو طرح کی کھجوروں کی ادائیگی سے منع کیا گیا۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم اس میں سے گھٹیا چیز کا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کر دو۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ بعض نے اسے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور بعض نے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالا : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَتَيَمَّمُونَ شَرَّ ثِمَارِهِمْ ، فَيُخْرِجُونَهَا فِي الصَّدَقَةِ ، " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَوْنَيْنِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ " ، وَلَمْ يَقُولا : عَنْ أَبِيهِ . أَرْسَلَهُ مُسْلِمٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بعض لوگ اپنے پھلوں میں سے خراب پھل زکوٰۃ میں ادا کر دیتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی کھجوریں زکوٰۃ کے طور پر لینے یا ادا کرنے سے منع کر دیا، پھر اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ بعض راویوں نے اس روایت کو مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصِبِيُّ ، أنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : " وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267 ، قَالَ : هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ ابْنِ حُبَيْقٍ ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهُمَا فِي الصَّدَقَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور تم اس میں سے گھٹیا چیز کا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس سے مراد جعرور اور لون بن حبیق ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ میں انہیں وصول کرنے سے منع کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَيَامِيُّ ، ثنا ابْنُ شِهَابِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُخَرِّصَ أَعْنَابَ ثَقِيفٍ خَرْصَ النَّخْلِ ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا " . وَخَالَفَهُ الْوَاقِدِيُّ ، رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَزَادَ فِي الإِسْنَادِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا: ”میں ثقیف قبیلے کے انگور کے درختوں کا اندازہ لگاؤں کہ ان کے درختوں پر کتنا پھل لگا ہوا ہے، پھر ان کی زکوٰۃ انگوروں کی شکل میں ادا کر دی جائے گی، جس طرح کھجور کے درختوں کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں ادا کر دی جاتی ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ الْوَاقِدِيُّ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخَرِّصَ أَعْنَابَ ثَقِيفٍ كَخَرْصِ النَّخْلِ ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا " .
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا: ”ثقیف قبیلے کے انگور کے درختوں کا اسی طرح اندازہ لگایا جائے، جس طرح کھجور کے درختوں (پر لگے ہوئے پھل) کا اندازہ لگایا جاتا ہے، پھر ان سے انگور کی زکوٰۃ لی جائے، جس طرح کھجور کے درختوں کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں وصول کر لی جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّوَّافِ ، وَأَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالا : نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ كَيْلَجَةُ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَرْصِ الْعِنَبِ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ ، فَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤْخَذُ صَدَقَةُ النَّخْلِ تَمْرًا " . تَابَعَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عتاب بن اسید سے منقول ہے، سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوروں کا اندازہ لگانے کا حکم دیا تھا: ”جس طرح کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکوٰۃ کو منقیٰ کی شکل میں وصول کر لیا گیا، جس طرح کھجور کے درختوں کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں وصول کر لی جاتی ہے۔“ بعض دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 2046
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَار ٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ التَّمَّارُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ : " إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا " . أَنَّ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوٰۃ کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس کا اسی طرح اندازہ لگایا جائے گا، جس طرح کھجور کے درخت (پر لگی ہوئی کھجوروں) کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور پھر اس کی زکوٰۃ کشمش (یا منقیٰ) کی شکل میں ادا کر دی جائے گی، جس طرح کھجور کے درخت کی زکوٰۃ کھجور کی شکل میں ادا کر دی جاتی ہے۔“ ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 2047
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : قَالَ الشَّافِعِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوٰۃ کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، پھر اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 2048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو ان لوگوں کے پاس بھیجتے تھے، جو ان کی انگوروں اور پھلوں کی پیداوار کا اندازہ لگا لیتا تھا (اور اسی حساب سے زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی)۔
حدیث نمبر: 2049
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّفَّارِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ومُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ زَبِيبًا كَمَا يُخْرَصُ التَّمْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا کہ انگور کے درخت کی پیداوار کا حساب لگا کر انگور کی شکل میں زکوٰۃ وصول کر لی جائے، جس طرح کھجور کا اندازہ لگایا جاتا ہے (یا اندازہ لگا کر کھجور وصول کی جاتی ہے)۔
حدیث نمبر: 2050
قُرِئَ عَلَى ابْنِ مَنِيعٍ وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَفَاءَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ يَهُودَ ، أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ ، قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي ، قَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَاهَا ، قَالَ : فَاخْرُجُوا عَنَّا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا، تو ان کے رسول نے ان (یہودیوں) کو وہیں رہنے دیا اور یہ معاہدہ کیا کہ وہاں کی پیداوار ان یہودیوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (برابر کی بنیاد پر تقسیم ہو گی)، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے وہاں پیداوار کا اندازہ لگایا اور پھر فرمایا: ”اے یہودیو! تم میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ناپسندیدہ ترین مخلوق ہو، تم نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو قتل کیا، تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی، لیکن تمہارے بارے میں میری ناپسندیدگی مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کروں، میں نے یہ اندازہ لگایا ہے، یہ کھجور کی پیداوار بیس ہزار وسق ہے، اگر تم چاہو، تو اس حساب سے تمہیں مل جائے گا اور اگر تم نہیں مانتے، تو میں اتنا وصول کروں گا۔“ تو انہوں نے کہا: ”اسی (انصاف اور عدل پروری) کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم اس حساب سے وصولی کر لیتے ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو اتنی پیداوار مجھے نکال کر دے دو (یعنی ادائیگی کر دو)۔“
حدیث نمبر: 2051
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ومُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبُ زَبِيبًا كَمَا يُخْرَصُ التَّمْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا کہ انگور کے درخت کی پیداوار کا حساب لگا کر انگور کی شکل میں زکوٰۃ وصول کر لی جائے، جس طرح کھجور کا اندازہ لگایا جاتا ہے (یا اندازہ لگا کر کھجور وصول کی جاتی ہے)۔
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ ، وَقَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِابْنِ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ تَطِيبُ أَوَّلَ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ يُخْبِرُ يَهُودَ يَأْخُذُونَهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتَفَرَّقَ " . رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَرْسَلَهُ مَالِكٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَعَقِيلٌ ، وأَرْسَلَهُ مَالِكٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَعَقِيلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْسَلا .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ خیبر کے بارے میں ذکر کر رہی تھیں، انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجا، جب پھل تیار ہو گیا، تو انہوں نے کھجوروں کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ لگایا، پھر انہوں نے یہودیوں کو اختیار دیا کہ وہ اس اندازے کے حساب سے وصولی کر لیں یا اس اندازے کے حساب سے انہیں ادائیگی کر دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم دیا تھا تا کہ زکوٰۃ کی گنتی پھل کے تیار ہونے سے پہلے کر لی جائے اور اسے الگ کر دیا جائے۔ یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، امام مالک نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2054
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ خَارِصًا فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا حَثْمَةَ قَدْ زَادَ عَلَيَّ فِي الْخَرْصِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ عَمِّكَ يَزْعُمُ أَنَّكَ زِدْتَ عَلَيْهِ فِي الْخَرْصِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ تَرَكْتُ لَهُ قَدْرَ خُرْفَةِ أَهْلِهِ وَمَا يُطْعِمُ الْمَسَاكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ زَادَكَ ابْنُ عَمِّكَ وَأَنْصَفَ " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندازہ لگانے کے لیے بھیجا، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابوحثمہ نے اندازہ لگاتے ہوئے ہماری طرف زیادہ ادائیگی لازم کر دی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”تمہارے چچا زاد کا یہ کہنا ہے، تم نے اندازہ لگانے میں اس پر زیادہ ادائیگی لازم کر دی ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کی کہ: ”یا رسول اللہ! میں نے اس کے لیے اتنی کھجوریں زیادہ چھوڑی ہیں، یہ اپنے گھر والوں کو بھی کھلا سکے اور مسکینوں کو بھی کھلا سکے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے چچا زاد نے تمہیں زیادہ چھوٹ دی ہے اور انصاف سے کام لیا ہے۔“