حدیث نمبر: 2006
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا ، فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ ، وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا هِيَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمیل کا قصور یہ ہے، وہ غریب تھا، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول نے اسے غنی کر دیا، خالد کا جہاں تک تعلق ہے، تو تم لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ اس نے تمام زرہیں اور اپنا تمام تر ساز و سامان اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے وقف کر دیا ہوا ہے، جب تک جناب عباس کا تعلق ہے، تو یہ ادائیگی میرے ذمہ ہے اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ادائیگی میں انہیں بھی کر دوں گا۔“
حدیث نمبر: 2007
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْدَلِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا شَبَابَةُ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلا أَنْ يَكُونَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثَالُهَا مَعَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ صِنْوُ الأَبِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن جمیل نے یہ حرکت اس لیے کی ہے، پہلے وہ غریب تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، جہاں تک خالد کا تعلق ہے، تو تم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور ساز و سامان پہلے ہی اللہ کی راہ میں وقف کر دیے ہوئے ہیں، جہاں تک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں، ان کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور اس کے ساتھ مزید اتنی ہی ادائیگی ہو گی۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے، آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ الْمُسَيَّبُ بْنُ الأَسْوَدِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنَّ عَبَّاسًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعَجِّلَ زَكَاةَ مَالِهِ قَبْلَ مَحِلِّهَا ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کیا وہ اپنے مال کی زکوٰۃ مخصوص وقت گزرنے سے پہلے ادا کر سکتے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا بِهَذَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ الْعَامِ الأَوَّلِ " . خَالَفَهُ إِسْرَائِيلُ ، فَقَالَ : عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ.
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ یہ بات منقول ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اس سال کی زکوٰۃ گزشتہ سال ہی وصول کر لی تھی۔“
حدیث نمبر: 2010
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : " إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ زَكَاةَ الْعَامِ عَامِ الأَوَّلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ”ہم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے اس کی زکوٰۃ گزشتہ سال ہی وصول کر لی تھی۔“
حدیث نمبر: 2011
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ ، ثنا وَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّا كُنَّا احْتَجْنَا إِلَى مَالٍ فَتَعَجَّلْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ مَالِهِ لِسَنَتَيْنِ " . اخْتَلَفُوا عَنِ الْحَكَمِ فِي إِسْنَادِهِ ، وَالصَّحِيحُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، ہمیں اس وقت کچھ مال کی ضرورت تھی، تو ہم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ دو سال پہلے ہی وصول کر لی تھی۔“ اس روایت کی سند میں حکم نامی راوی سے اختلاف کیا گیا ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حسن بن مسلم نامی راوی سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَائِلَةَ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ سَاعِيًا ، قَالَ : فَأَتَى الْعَبَّاسَ يَطْلُبُ صَدَقَةَ مَالِهِ ، قَالَ : فَأَغْلَظَ لَهُ الْعَبَّاسُ ، فَخَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبَّاسَ قَدْ أَسْلَفْنَا زَكَاةَ مَالِهِ الْعَامَ وَالْعَامَ الْمُقْبِلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ان کے مال کی زکوٰۃ کا مطالبہ کیا، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ سختی کا مظاہرہ کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس سال اور آئندہ سال کی زکوٰۃ پہلے ہی ہمیں دے دی تھی۔“
حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، قَالا : نا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَقَالَ الْمَطِيرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَرَجَعَ وَهُوَ يَشْكُو الْعَبَّاسَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَنَعَنِي صَدَقَتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفْنَا صَدَقَةَ عَامَيْنِ فِي عَامِ " . كَذَا قَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَإِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، وہ واپس آئے، تو انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا شکوہ کیا اور بتایا: انہوں نے اپنی زکوٰۃ مجھے ادا نہیں کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دو سال کی زکوٰۃ پہلے ہی ایک ساتھ ادا کر دی تھی۔“ راوی نے دوسرے راوی کا نام عبید اللہ بن عمر نقل کیا ہے، لیکن ان کی مراد یہ تھی کہ یہ روایت محمد بن عبید اللہ سے منقول ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 2014
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُمَرَ سَاعِيًا ، فَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَبَّاسِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفْنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامِ الأَوَّلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور دوران اس کے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ تکرار ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے، سیدنا عباس نے اس سال کی زکوٰۃ گزشتہ سال ہمیں پہلے ہی دے دی تھی۔“
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، ثنا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنَّهَا تَشُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَا تَشُدُّ مِنَ الشَّبْعَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جہنم سے بچنے کی کوشش کرو، ایک کھجور کے ٹکڑے کے ذریعے ایسا کرو، کیونکہ یہ بھوکے کے لیے بھی اسی طرح رکاوٹ بنتی ہے، جس طرح سیراب شخص کے لیے۔“
حدیث نمبر: 2016
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ " ، ثُمَّ تَلا هَذِهِ الآيَةَ : لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ سورة البقرة آية 177 ، الآيَةَ .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف پھیر دو۔“ یہ آیت آخر تک ہے۔
حدیث نمبر: 2017
ثنا عَبْدُ اللَّهِ ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ أَبُو نَصْرٍ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا يُوسُفُ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الأُدْمَ وَالْجِعَابَ ، فَمَرَّ بِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي : " أَدِّ صَدَقَةَ مَالِكَ " ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّمَا هُوَ فِي الأُدُمِ ، قَالَ : " قَوِّمْهُ ، ثُمَّ أَخْرِجْ صَدَقَتَهُ " .
محمد محی الدین
ابوعمرو بن حماس اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سالن اور ترکش فروخت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس گزرے اور انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو۔“ میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! یہ سالن میں ہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم اس کی قیمت کا اندازہ لگاؤ، پھر اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔“