حدیث نمبر: 1995
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي حَمَالَةٍ ، فَقَالَ : " أَقِمْ عِنْدَنَا ، فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَصْلُحُ إِلا لأَحَدِ ثَلاثَةِ رِجَالٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ عَنْ قَوْمٍ حَمَالَةً فَسَأَلَ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذْهَبَتْ مَالَهُ ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى أَوْ مِنْ ذَوِي الصَّلاحِ فِي قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا يَا قَبِيصَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمالہ کے لیے مدد مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے پاس ٹھہرے رہو، یا ہم تمہیں حمالہ کے لیے کچھ دے دیں گے، یا ویسے تمہاری مدد کر دیں گے، یہ بات یاد رکھنا کہ مانگنا کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے، صرف تین طرح کے لوگ دوسروں سے کچھ مانگ سکتے ہیں: ایک وہ شخص، جس نے کچھ لوگوں کو ادائیگی کرنی ہو اور پھر وہ کسی سے مانگے، جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو پھر کچھ نہ لے، ایک وہ شخص، جس (کی پیداوار کو) کوئی آفت لاحق ہو جائے اور وہ اس کے مال کو ضائع کر دے، وہ شخص مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا سامان ہو جائے (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، پھر اس کے بعد وہ شخص رک جائے، اور ایک وہ شخص، جسے کوئی شدید ضرورت لاحق ہو، یہاں تک کہ تین سمجھ دار (یہاں راوی کو شک ہے) افراد، جو اس کی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، وہ یہ گواہی دیں کہ اب اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو چکا ہے (تو صرف یہی لوگ مانگ سکتے ہیں)، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہو گا، اسے لینے والا شخص حرام کے طور پر اسے کھائے، اے قبیصہ!“
حدیث نمبر: 1996
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ، أَوْ إِذَا جَاءَتْ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا قَبِيصَةُ ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلا لِثَلاثَةٍ : رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ مُرَّةَ : حَتَّى تَكَلَّمَ ، ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَهُ فَقْرٌ وَحَاجَةٌ ، فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَجِدَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ ، فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهِيَ سُحْتٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی کرنا تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ اس بارے میں آپ سے مدد مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم تمہاری طرف سے ادائیگی کر دیں گے اور صدقے کے اونٹوں میں سے اسے نکال دیں گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب صدقے کے اونٹ آئیں گے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ! مانگنا حرام ہے، صرف تین لوگ مانگ سکتے ہیں: ایک وہ شخص، جس نے کوئی ادائیگی کرنی ہو، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ادائیگی کو ادا کر دے اور پھر اس کے بعد رک جائے، ایک وہ شخص، جسے شدید ضرورت اور فاقہ لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد اس بات کی گواہی دیں (یہاں پر راوی کو شک ہے، شاید یہ لفظ ہے) یہ بات بیان کریں کہ اسے ایسا فاقہ اور ضرورت لاحق ہوئی ہے، تو ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے، اور ایک وہ شخص، جسے آفت لاحق ہو اور وہ اس کے مال کو ضائع کر دے، ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے، پھر اس کے بعد رک جائے، اس کے علاوہ مانگ کر جو بھی لیا جائے گا، وہ حرام ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1997
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ : الْعَامِلِ عَلَيْهَا ، وَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْغَارِمِ ، أَوِ الرَّجُلِ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لِغَنِيٍّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”خوشحال شخص کے لیے کسی سے کچھ مانگنا جائز نہیں ہے، صرف پانچ آدمیوں کا حکم مختلف ہے: ایک وہ شخص، جو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر ہو، ایک اللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہونے والا نمازی، ایک وہ شخص، جس نے قرض ادا کرنا ہو، ایک وہ شخص، جس نے اپنے مال میں سے اسے خریدا، ایک وہ مسکین، جسے صدقہ کیا گیا اور پھر وہ کسی خوشحال کو ہدیے کے طور پر دے دے۔“
حدیث نمبر: 1998
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔