کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا ابْنُ أَبِي عَوْنٍ ، وَصَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ عِنْدَهُ مَالُ يَتِيمٍ فَكَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْهُ ، وَرُبَّمَا ضَمِنَهُ ، وَكَانَ يُزَكِّي مَالَ الْيَتِيمِ إِذَا وَلِيَهُ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک یتیم کا مال موجود تھا، وہ اس میں سے قرض کے طور پر کچھ لے لیتے تھے، بعض اوقات وہ اس کے ضامن بن جاتے تھے، اور جب وہ یتیم کے مال کے سرپرست بنتے تھے، تو اس کی زکوٰۃ بھی ادا کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1976
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7441، 7716، 11098، 11099، 11722، 12800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1976، 1978، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6992»
حدیث نمبر: 1977
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، ثنا يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَنْبَأَ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " ابْتَغُوا بِأَمْوَالِ الْيَتَامَى لا تَسْتَهْلِكُهَا الزَّكَاةُ " .
محمد محی الدین
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یتیموں کے اموال کا خیال رکھو، انہیں زکوٰۃ ختم نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1977
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث « صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7435، 7436، 11095، 11096، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1973، 1977، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6987، 6988، 6989، 6990، 6993، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10213، 10215»
«قال البيهقي: إسناد صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 468)»
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثنا مُسْلِمٌ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يُزَكِّي مَالَ الْيَتِيمِ وَيَسْتَقْرِضُ مِنْهُ وَيَدْفَعُهُ مُضَارَبَةً " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یتیم کے مال کی زکوٰۃ ادا کیا کرتے تھے، وہ اس میں سے فرض طور پر کچھ لیتے تھے اور اسے مضاربت کے طور پر آگے دے دیتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1978
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7441، 7716، 11098، 11099، 11722، 12800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1976، 1978، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6992»
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْقُرَيْسِينِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا مُنِيرُ بْنُ الْعَلاءِ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلاهُ أَرْضًا ، فَعَجَزَ عَنْهَا فَمَاتَ ، فَبَاعَهَا عُمَرُ بِمِائَتَيْ أَلْفٍ وَثَمَانِيَةِ آلافِ دِينَارٍ ، وَأَوْصَى إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَكَانَ يُزَكِّيهَا كُلَّ سَنَةٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَنُوهُ ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ فَحَسَبُوهُ ، فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : إِنَّا وَجَدْنَا مَالَنَا نَاقِصًا ، فَقَالَ : أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهُ ؟ فَقَالُوا : لا ، قَالَ : احْسِبُوا زَكَاتَهُ ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سَوَاءً " .
محمد محی الدین
مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین عطا کی، وہ اس کا خیال نہیں رکھ سکے، ان کا انتقال ہو گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو لاکھ اسی ہزار دینار کے عوض میں فروخت کر دیا، انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو اس رقم کا نگران مقرر کیا، علی رضی اللہ عنہ ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بچے بڑے ہو گئے، تو انہیں وہ مال کم لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگوں نے زکوٰۃ کا حساب لگایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کی زکوٰۃ کا حساب لگاؤ۔“ جب انہوں نے اس کا حساب لگایا، تو اسے پورا پایا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1979
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1979،»
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ عَلِيًّا زَكَّى أَمْوَالَ بَنِي أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ ، فَقَالُوا : إِنَّا وَجَدْنَاهَا بِنَقْصٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَتَرَوْنَ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مَالٌ لا أُزَكِّيهِ ؟ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اولاد کے مال کی زکوٰۃ ادا کی تھی، راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ مال ان لوگوں کے سپرد کیا، تو ان لوگوں نے اس مال کو کم پایا، ان لوگوں نے کہا: ”ہمیں یہ مال کم لگا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرے پاس کوئی مال ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہ کروں گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1980
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7437، 7439، 12798، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1974، 1980، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10209»
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثنا أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا يَجِبُ عَلَى مَالِ الصَّغِيرِ زَكَاةٌ حَتَّى تَجِبَ عَلَيْهِ الصَّلاةُ " . ابْنُ لَهِيعَةَ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نابالغ کے مال پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، اس وقت زکوٰۃ لازم ہوتی ہے جب اس پر نماز پڑھنا بھی لازم ہو جائے (یعنی جب وہ بالغ ہو جائے)۔“ اس روایت کے راوی ابن لہیعہ کو مستند قرار نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1981
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1981،»
حدیث نمبر: 1982
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَابْنَتُهَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " هَلْ تُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟ " ، قَالَ : فَخَلَعَتْهُمَا ، وَقَالَتْ : هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنی صاحبزادی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے سے بنے ہوئے دو کنگن تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ بات پسند کرو گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: اس نے ان دونوں کو اتار دیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذر ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2481، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2270، 2271، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1563، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 637، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7644، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1961، 1982، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6778، 7020، 7058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7065، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10256»
«قال الشيخ الألباني: حسن ، قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2481»