کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْهُذَلِيُّ الأَزْدِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ لَهُ وَلا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے یتیم کا سرپرست بنے، جس یتیم کا مال موجود ہو، تو وہ اس یتیم کے لیے اس مال کی تجارت کرے، اس مال کو ایسے ہی نہ چھوڑ دے کہ اسے زکوٰۃ ختم کر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1970
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7434، 11093، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1970، 1971، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 998»
«قال ابن حجر: وفي إسناده المثنى بن الصباح وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 307)»
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، بِالْكُوفَةِ ، ثنا أبِي ، ثنا مِنْدَلٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْفَظُوا الْيَتَامَى فِي أَمْوَالِهِمْ لا تَأْكُلُهَا الزَّكَاةُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا، انہیں زکوٰۃ ختم نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1971
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7434، 11093، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1970، 1971، والطبراني فى ((الأوسط))برقم: 998»
«قال الشيخ زبير على زئي: (641) إسناده ضعيف، المثني: ضعيف (د 1899) وتابعه محمد بن عبدالله العرزمي وھو متروك (تق:6108)وللحديث طرق ضعيفة»
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یتیم کے مال میں زکوٰۃ لازم ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1972
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1972،»
«قال الدارقطني: العرزمي ضعيف ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 331)»
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " ابْتَغُوا بِأَمْوَالِ الْيَتَامَى لا تَأْكُلُهَا الصَّدَقَةُ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یتیموں کے مال کا خیال رکھو، انہیں زکوٰۃ ختم نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1973
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7435، 7436، 11095، 11096، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1973، 1977، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6987، 6988، 6989، 6990، 6993، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10213، 10215»
«قال البيهقي: إسناد صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 468)»
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ أَمْوَالُهُمْ عِنْدَ عَلِيٍّ ، فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ فَحَسَبُوهَا مَعَ الزَّكَاةِ ، فَوَجَدُوهَا تَامَّةً ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالَ : " كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مَالٌ لا أُزَكِّيهِ " .
محمد محی الدین
ابن ابورافع بیان کرتے ہیں: ان لوگوں کے اموال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اموال انہیں واپس کیے، تو ان لوگوں نے ان میں کچھ کمی پائی، پھر جب انہوں نے زکوٰۃ کے ساتھ اس کا حساب کیا، تو انہیں مکمل پایا۔ وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کیا مال موجود ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1974
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7437، 7439، 12798، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1974، 1980، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10209»
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَشْعَثُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَقْطَعَ أَبَا رَافِعٍ أَرْضًا ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو رَافِعٍ بَاعَهَا عُمَرُ بِثَمَانِينَ أَلْفًا ، فَدَفَعَهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَكَانَ يُزَكِّيهَا ، فَلَمَّا قَبَضَهَا وَلَدُ أَبِي رَافِعٍ عَدُّوا مَالَهُمْ فَوَجَدُوهَا نَاقِصَةً ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهَا ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : فَحَسَبُوا زَكَاتَهَا فَوَجَدُوهَا سَوَاءً ، فَقَالَ عَلِيُّ : كُنْتُمْ تَرَوْنَ عِنْدِي مَالٌ لا أُؤَدِّي زَكَاتَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین گیر کے طور پر عطا کی، جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو ٨٠ ہزار کے عوض میں فروخت کر دیا اور وہ مال سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی زکوٰۃ ادا کرتے رہے، جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اولاد نے اس مال کو اپنے قبضے میں لیا، تو انہوں نے اپنے مال کی گنتی کی، تو اسے کم پایا، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کی زکوٰۃ کا حساب لگایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ راوی بیان کرتے ہیں: ان لوگوں نے اس کی زکوٰۃ کا حساب لگایا، تو اسے پورا پایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کوئی مال موجود ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1975
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1975،»