کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1960
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الصَّوَّافُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي مَالِ الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ حَتَّى يُعْتَقَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مکاتب غلام کے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، جب تک وہ آزاد نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 1961
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِمَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَسُرُّكُمَا أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِأَسْوِرَةٍ مِنْ نَارٍ ؟ " ، قَالا : لا ، قَالَ : " فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا " . وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، وَقَالَ أَيْضًا : فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا عَلَيْكُمَا ، يَعْنِي الزَّكَاةَ ، حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ أَرْطَأَةَ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا تم دونوں اس بات کو پسند کرو گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم دونوں اس کا حق ادا کرو۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ان دونوں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا): ”پھر تم دونوں اس کا حق ادا کرو، جو تم پر لازم ہے۔“ (راوی کہتے ہیں): اس سے مراد زکوٰۃ تھی۔ اس روایت کا راوی حجاج، یہ حجاج بن ارطاة ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1962
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ ، ثنا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا سُرَيْجٌ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لامْرَأَتِي حُلِيًّا مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالا ، قَالَ : " فَأَدِّي زَكَاتَهُ نِصْفَ مِثْقَالٍ " . يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ ، وَهَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”میری بیوی کے بیس مثقال کے زیورات ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان کی نصف مثقال زکوٰۃ ادا کرو۔“ اس روایت کا ایک راوی یحییٰ بن ابوانیسہ متروک ہے، اور یہ روایت وہم ہے، درست یہ ہے: یہ روایت مرسل ہے اور موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 1963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْهُ عَنْ طَوْقٍ لَهَا فِيهِ عِشْرُونَ مِثْقَالا مِنَ الذَّهَبِ ، فَقَالَتْ : أُزَكِّيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : كَمْ ؟ قَالَ : خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، قَالَتْ : أُعْطِيَهَا فُلانًا ؟ ابْنُ أَخٍ لَهَا يَتِيمٌ فِي حِجْرِهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتِ " .
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے اپنے ایک ہار کے بارے میں دریافت کیا، جو بیس مثقال کا تھا اور سونے سے بنا ہوا تھا، اس خاتون نے دریافت کیا: ”کیا میں اس کی زکوٰۃ ادا کروں گی؟“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ اس خاتون نے دریافت کیا: ”کتنی؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”پانچ درہم۔“ اس خاتون نے دریافت کیا: ”کیا میں یہ فلاں شخص کو ادا کر دوں؟“ اس خاتون نے اپنے بھتیجے کے بارے میں دریافت کیا، جو یتیم تھا اور اس خاتون کے زیر پرورش تھا، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو ایسا کر سکتی ہو۔“
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، ثنا يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " كَانَ لامْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ حُلِيُّ ، فَقَالَتْ لابْنِ مَسْعُودٍ : أُعْطِي زَكَاتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : أُعْطِي ابْنَ أَخِي يَتِيمًا ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے زیورات تھے، اس خاتون نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”کیا میں اس کی زکوٰۃ ادا کروں گی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ اس خاتون نے دریافت کیا: ”کیا میں اپنے یتیم بھتیجے کو یہ دے دوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں!“
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْحُلِيِّ ، فَقَالَ : " لَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
علی بن سلیم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے زیورات کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تُصْدَقُ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَتَجْعَلُ لَهَا مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ ، وَلا يُرَى فِيهِ صَدَقَةٌ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون کو ایک ہزار درہم دیے گئے، اس خاتون نے اس کے زیورات بنوا لیے، جو چار سو دینار کے بنے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " لا زَكَاةَ فِي الْحُلِيِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”زیورات پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَلِّي بَنَاتَهُ بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ ، وَلا يُخْرِجُ زَكَاتَهُ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی صاحبزادیوں کے لیے چار سو دینار کے زیورات بنوائے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّهَا كَانَتْ تُحَلِّي بَنَاتِهَا بِالذَّهَبِ ، وَلا تُزَكِّيهِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِينَ أَلْفًا " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے اپنی صاحبزادیوں کے لیے سونے کے زیورات بنوائے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، ان زیورات کی قیمت پچاس ہزار کے قریب تھی۔