حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟ " ، فَقُلْتُ : صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ ؟ " ، فَقُلْتُ : لا أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " هُنَّ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ " . مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کنگن دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے عائشہ! یہ کہاں سے آئے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ”انہیں میں نے بنایا ہے، تاکہ انہیں پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آؤں، یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ان کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”نہیں! (یا جو بھی اللہ نے چاہا)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے جہنم (میں عذاب ہونے) کے لیے کافی ہیں۔“ محمد بن عطاء نامی راوی مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ الْفَزَارِيُّ ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَوْقٍ فِيهِ سَبْعُونَ مِثْقَالا مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُذْ مِنْهُ الْفَرِيضَةَ " فَأَخَذَ مِنْهُ مِثْقَالا وَثَلاثَةَ أَرْبَاعِ مِثْقَالٍ " . أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ مَتْرُوكٌ ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ .
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک زنجیر لے کر آئی، جس میں ستر مثقال سونا تھا، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ اس میں سے زکوٰۃ وصول کر لیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مثقال اور تین چوتھائی مثقال وصول کر لیا۔ اس روایت کا ایک راوی ابوبکر ہذلی متروک ہے اور اس روایت کو اس کے علاوہ اور کسی نے نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ بِهَذَا مِثْلَهُ ، وَزَادَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ ، قَالَ : نَعَمْ " ، ثُمَّ قَرَأَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ.
محمد محی الدین
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی حق ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں!“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور وہ اپنی ہی پسند کے ساتھ اپنا مال دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْخُتُلِّيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ غَالِبٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا أبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَيْمُونٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”زیورات میں زکوٰۃ ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1955
وَعَنْ وَعَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ : " لَيْسَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ " . أَبُو حَمْزَةَ هَذَا مَيْمُونٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں: ”زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہوتی۔“ اس روایت کا راوی ابوحمزہ، اس کا نام میمون ہے اور یہ ضعیف الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 1956
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لا بَأْسَ بِلُبْسِ الْحُلِيِّ إِذَا أُعْطِيَ زَكَاتُهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”زیورات پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے، جب ان کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔“
حدیث نمبر: 1957
وَعَنْ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى خَازِنِهِ سَالِمٍ : " أَنْ يُخْرِجَ زَكَاةَ حُلِيِّ بَنَاتِهِ كُلَّ سَنَةٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنے منشی سالم کو یہ خط لکھا کہ ان کی صاحبزادیوں کے زیورات کی ہر سال زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، ثنا قَبِيصَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ لِي حُلِيًّا ، وَإِنَّ زَوْجِي خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ ، وَأَنَّ لِي بَنِي أَخٍ ، أَفَيُجْزِي عَنِّي أَنْ أَجْعَلَ زَكَاةَ الْحُلِيِّ فِيهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . هَذَا وَهْمٌ ، وَالصَّوَابُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”میرے پاس کچھ زیورات ہیں اور میرے شوہر غریب آدمی ہیں، میرے کچھ بھتیجے بھی ہیں، تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ میں ان زیورات کی زکوٰۃ ان لوگوں پر خرچ کر دوں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں!“ یہ روایت وہم ہے، درست یہ ہے: یہ روایت ابراہیم کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ سے مرسل اور موقوف روایت پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْ عَنْ حُلِيٍّ لَهَا ، قَالَ : " إِذَا بَلَغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهِ الزَّكَاةُ " ، قَالَتْ : " إِنَّ فِي حِجْرِي بَنِي أَخٍ لِي أَفَأَضَعُهُ فِيهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے اپنے زیورات کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”جب وہ دو سو (درہم جتنے قیمتی) ہوں، تو ان میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ اس خاتون نے کہا: ”میرے بھتیجے میرے زیر پرورش ہیں، کیا میں اسے ان پر خرچ کر دوں؟“ تو سیدنا عبداللہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ یہ روایت ’موقوف‘ ہے۔