حدیث نمبر: 1905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ ، ثنا الْعَرْزَمِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْجَوْهَرِ ، وَالدُّرِّ ، وَالْفُصُوصِ ، وَالْخَرَزِ ، وَعَنْ نَبَاتِ الأَرْضِ ، الْبَقْلِ ، وَالْقِثَّاءِ ، وَالْخِيَارِ ، فَقَالَ " لَيْسَ فِي الْحَجَرِ زَكَاةٌ ، وَلَيْسَ فِي الْبُقُولِ زَكَاةٌ ، إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو سے جواہر، موتیوں، قیمتی پتھروں، چھوٹے موتیوں (یا حبشی موتیوں) کے بارے میں اور زمین میں اگنے والے نباتات جیسے جواہرات، موتی، نگینہ، ریشم، زمین میں سے اگنے والی سبزی، ترکاری، ککڑی وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”کسی بھی پتھر میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی اور سبزیوں میں بھی زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گندم، جو، کھجور اور انگور میں (عشر کی) ادائیگی فرض کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَمْرٍو الْمُسَيَّبِيَّ ، حَدَّثَهُمْ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، قَالَ : نا حَمَدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَدَقَةَ فِي الزَّرْعِ ، وَلا فِي الْكَرْمِ ، وَلا فِي النَّخْلِ ، إِلا إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یہ دونوں بیان کرتے ہیں: زراعت، کھجور اور کھجور کے درخت میں زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔