حدیث نمبر: 1840
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو هِشَامٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، ثنا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ حَدِيثًا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا " . قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : " الثِّقَةُ " ، مَنْ شَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ .
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جس کے صاحب قبر کو کچھ عرصہ پہلے دفن کیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں چار مرتبہ تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام شعبی سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے سنائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”ایک قابل اعتماد شخصیت نے سنائی ہے، جو اس موقع پر موجود تھے، وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔“
حدیث نمبر: 1841
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ الْوَرَّاقُ ، قَالا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ . وتَابَعَهُمْ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، كُلُّهُمْ قَالَ : كَبَّرَ أَرْبَعًا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، جو الگ تھلگ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی (نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے) چار مرتبہ تکبیر کہی۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے اور ان سب راویوں نے یہی بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی تھی۔
حدیث نمبر: 1842
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَرِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ، وَسَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں چار مرتبہ تکبیر کہی اور ایک مرتبہ سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 1843
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالا : نا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ " ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً ، وَإِنَّ اللَّهَ يُنَوِّرُهَا بِصَلاتِي عَلَيْهَا " ، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ . وَهَذَا لَفْظُ عَلِيِّ بْنِ مُسْلِمٍ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد (نبوی) کی صفائی کیا کرتا تھا، اس کا انتقال ہو گیا اور اسے رات میں دفن کر دیا گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قبر کی طرف چلو!“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ اس شخص کی قبر پر تشریف لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ قبریں اپنے اہل (یعنی مردوں) کے لیے تاریکی سے بھرپور ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میرے ان لوگوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے ان کی قبروں کو ان کے لیے روشن کر دیتا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی قبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ روایت کے یہ الفاظ علی بن مسلم نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 1844
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفَقِيهُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ هَانِئٍ ، وَقَالَ زُهَيْرٌ : " صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَمَا دُفِنَتْ ".
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے دفن ہو جانے کے بعد اس کی قبر پر تشریف لائے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کی قبر پر (اس کی نماز جنازہ) ادا کی تھی، اس خاتون کے دفن ہو جانے کے بعد (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا کی تھی)۔
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَابِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، وَالْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا حَدِيثًا ، فَقَالَ : " أَلا آذَنْتُمُونِي بِهَذَا ؟ " ، قَالُوا : كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، فَقَامَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ . وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمُ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی بنی ہوئی قبر دیکھی، تو دریافت کیا: ”تم نے مجھے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟“ لوگوں نے عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سوئے ہوئے تھے، ہمیں یہ اچھا نہیں لگا کہ ہم آپ کو بیدار کریں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اس کی نماز جنازہ ادا کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں طرف کر لیا۔ بعض راویوں نے اس میں کچھ اضافی الفاظ اور مفہوم نقل کیا ہے، تاہم اس کا مطلب ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ الْمَحَامِلِيُّ ، قَالا : نا الْحَسَنُ بْنُ يُونُسَ الزَّيَّاتُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ بَعْدَ مَوْتِهِ بِثَلاثٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے انتقال کے تین دن کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ شَهْرٍ " . تَفَرَّدَ بِهِ بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، وَخَالَفَهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص (دفن ہو جانے کے) ایک ماہ کے بعد اس کی قبر پر نماز جنازہ ادا کی۔ ابوعاصم نامی راوی کے حوالے سے نقل کرنے میں بشر بن آدم نامی راوی منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 1848
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ يُجَاءُ بِقَتْلَى أُحُدٍ تِسْعَةٌ وَحَمْزَةُ عَاشِرُهُمْ فَيُصَلِّي عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُدْفَنُونَ تِسْعَةً وَيَدَعُونَ حَمْزَةَ ، وَيُجَاءُ بِتِسْعَةٍ وَحَمْزَةُ عَاشِرُهُمْ ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ فَيَرْفَعُونَ التِّسْعَةَ وَيَدَعُونَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد میں شریک ہونے والے نو افراد کو لایا گیا، ان کے ساتھ دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ان نو افراد کو دفن کر دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دفن نہیں کیا گیا، پھر نو مزید افراد کو لایا گیا، ان کے ساتھ دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی بھی نماز جنازہ ادا کی، پھر ان نو افراد کو دفن کر دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دفن نہیں کیا گیا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ بار بار ادا کی)۔
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ ، وَابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ آٹھ سال بعد ادا کی تھی۔
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا بِشْرٌ ، وَمَطَرٌ ، قَالا : نا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر آئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ انہیں ایک ایسی صورت حال لاحق ہو گئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَنْدَلٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ " أَنَّ فَاطِمَةَ أَوْصَتْ أَنْ يُغَسِّلَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ وَأَسْمَاءُ ، فَغَسَّلاهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اسماء (بنت عمیس) غسل دیں گے، تو ان دونوں نے ہی انہیں غسل دیا۔
حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى سَبْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ ، فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ، وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا ، وَقَالَ : وَوَضَعَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَابْنٍ يُقَالُ لَهُ : زَيْدُ بْنُ عُمَرَ ، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : السُّنَّةُ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سات افراد کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھائی، جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، تو آپ نے مردوں کو اپنے آگے رکھا اور خواتین کو قبلہ والی سمت میں رکھا، آپ نے ان سب کے لیے ایک ہی صف بنائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحبزادے کی میت رکھی گئی۔ ان صاحبزادے کا نام زید بن عمر تھا۔ ان دنوں سیدنا سعید بن العاص گورنر تھے اور حاضرین میں سیدنا عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے؟ انہوں نے بتایا: ”یہ سنت ہے۔“