کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب (نماز جنازہ کے دوران) دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا ‘ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرنا
حدیث نمبر: 1830
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ نَصْرٍ الْقَارِئُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الأَسْلَمِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ ادا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں دست مبارک پر رکھا۔
حدیث نمبر: 1831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْجِنَازَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کی نماز جنازہ ادا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی تکبیر میں دونوں ہاتھ اٹھایا کرتے تھے، پھر اس کے بعد اپنا دایاں دست مبارک بائیں دست مبارک پر رکھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عَلَى الْجِنَازَةِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لا يَعُودُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں پہلی تکبیر میں دونوں ہاتھ اٹھا کرتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نماز جنازہ میں تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، " أَنَّ امْرَأَةً نَصْرَانِيَّةً مَاتَتْ وَفِي بَطْنِهَا وَلَدٌ مُسْلِمٌ ، فَأَمَرَ عُمَرُ أَنْ تُدْفَنَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَجْلِ وَلَدِهَا " .
محمد محی الدین
عمرو بیان کرتے ہیں: ایک عیسائی عورت کا انتقال ہو گیا، جس کے پیٹ میں ایک مسلمان (کا) بچہ تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دیا کہ اس عورت کو اس بچے کی وجہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1834
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَامِدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا الْعَلاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَلْمَانَ ، قَالَ : " صَلَّى زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْنَا لَهُ : وُهِمْتَ أَمْ عَمْدًا ؟ قَالَ : بَلْ عَمْدًا ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهَا " .
محمد محی الدین
ابوسلمان بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، تو انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیر کہی، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ہم نے ان سے کہا: ”آپ نے غلطی سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر کیا ہے؟“ تو انہوں نے بتایا: ”جان بوجھ کر کیا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اسے ادا کیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1835
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَحْضُرَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبْ دَابَّتَكَ وَسِرْ أَمَامَهَا ، فَإِنَّكَ إِذَا كُنْتَ أَمَامَهَا لَمْ تَكُنْ مَعَهَا " . أَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جو عیسائی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شریک ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی سواری پر سوار ہو جاؤ اور جنازے کے آگے چلو، اگر تم اس کے آگے چل رہے ہوگے، تو تم اس کے ساتھ شمار نہیں ہوگے۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) یہ روایت ثابت نہیں ہے، اس روایت کا ایک راوی معشر ضعیف ہے۔