کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب اس شخص کا تذکرہ جس کی اقتداء میں نماز پڑھناجائز ہے اور جس کی نماز جنازہ اداکرناجائز ہے
حدیث نمبر: 1759
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الصَّالِحِ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيَلِيكُمْ بَعْدِي وُلاةٌ ، فَيَلِيكُمُ الْبَرُّ بِبِرِّهِ ، وَالْفَاجِرُ بِفُجُورِهِ ، فَاسْمَعُوا لَهُمْ وَأَطِيعُوا فِيمَا وَافَقَ الْحَقَّ ، وَصَلُّوا وَرَاءَهُمْ فَإِنْ أَحْسَنُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، نیک شخص اپنی نیکی کے ہمراہ تمہارا حکمران ہو گا اور گناہ گار اپنے گناہوں کے ہمراہ ہو گا، تم ان کی اطاعت و فرماں برداری کرنا، اس چیز کے بارے میں جس میں وہ راہ حق کی پیروی کریں اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہنا، اگر وہ اچھائی کریں گے، تو تمہارا اجر ملے گا اور انہیں ان کا اجر ملے گا، اور اگر برائی کریں گے، تو تمہیں تمہارا اجر ملے گا، انہیں ان کا گناہ ملے گا۔“
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ مَيْمُونٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ مُكْرَمِ بْنِ حَكِيمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ سَيْفِ بْنِ مُنِيرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : أَرْبَعُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ أُحَدِّثْكُمْ بِهِنَّ فَالْيَوْمَ أُحَدِّثُكُمْ بِهِنَّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُكَفِّرُوا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ قِبْلَتِي بِذَنْبٍ وَإِنْ عَمِلُوا الْكَبَائِرَ ، وَصَلُّوا خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ ، وَجَاهِدُوا ، أَوْ قَالَ : قَاتِلُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ ، وَالرَّابِعَةُ : لا تَقُولُوا فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَلا فِي عُمَرَ ، وَلا فِي عُثْمَانَ ، وَلا فِي عَلِيٍّ إِلا خَيْرًا ، قُولُوا تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ " . وَلا يُثْبَتُ إِسْنَادُهُ ، مَنْ بَيْنَ عَبَّادٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ضُعَفَاءُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: چار خصوصیات ہیں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں، لیکن میں نے تمہارے سامنے ان کے بارے میں بیان نہیں کیا، آج میں تمہیں ان کے بارے میں بتاؤں گا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے اہل قبلہ میں سے کسی ایک کے گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرو، اگرچہ وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہوں اور ہر امام کی اقتداء میں نماز ادا کر لو اور ہر امیر کے ساتھ جہاد کرو (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) قتال کرو اور چوتھی بات یہ ہے ابوبکر صدیق، عمر، عثمان اور علی کے بارے میں صرف اچھی بات بیان کرو اور یہ کہو: یہ امت گزر چکی ہے، اس نے جو اچھا عمل کیا، اس کا اجر انہیں مل جائے گا اور تم جو اچھائیاں کرو گے، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔“
حدیث نمبر: 1761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ بِحَلَبَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَصَلُّوا خَلْفَ مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر وہ شخص جو لا إله إلا الله کا قائل ہو، اس کی نماز جنازہ ادا کرو اور ہر اس شخص کے پیچھے نماز ادا کر لیا کرو جو لا إله إلا الله کا قائل ہو۔“
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا الْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍ ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَصَلُّوا وَرَاءَ مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر اس شخص کی نماز جنازہ ادا کرو جو لا إله إلا الله کا قائل ہو اور ہر اس شخص کے پیچھے نماز ادا کرو جو لا إله إلا الله کا قائل ہو۔“
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا سَالِمُ بْنُ الأَفْطَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا الأَشْعَثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ كَانَ عَمِلَ بِالْكَبَائِرِ ، وَالْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ بِالْكَبَائِرِ ، وَالصَّلاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَمُوتُ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ بِالْكَبَائِرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم پر ہر مسلمان کی اقتداء میں نماز ادا کرنا لازم ہے، خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو اور تم پر ہر امیر کے ہمراہ جہاد کرنا واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار ہو، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو اور تم پر ہر مسلمان کی نماز جنازہ ادا کرنا لازم ہے جو فوت ہو جاتا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہو۔“
حدیث نمبر: 1765
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْقِنَّسْرِينِيُّ ، ثنا فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُلْوَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَصْلِ الدِّينِ الصَّلاةُ خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَالْجِهَادُ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ وَلَكَ أَجْرُكَ ، وَالصَّلاةُ عَلَى كُلِّ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ " . وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ يُثْبَتُ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دین کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے، ہر نیک اور گناہ گار کے پیچھے نماز ادا کی جائے گی اور ہر امیر کے ساتھ جہاد کیا جائے، تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور اہل قبلہ میں سے ہر مرنے والے شخص کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ مَاهَانَ الدَّبَّاغُ ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانٍ ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ الْيَقْظَانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُكَفِّرُوا أَهْلَ قِبْلَتِكُمْ وَإِنْ عَمِلُوا الْكَبَائِرَ ، وَصَلُّوا مَعَ كُلِّ إِمَامٍ ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ ، وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ " . أَبُو سَعِيدٍ مَجْهُولٌ .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرو، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوں اور ہر امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لیا کرو اور ہر امیر کے ہمراہ جہاد میں حصہ لو اور ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ اس روایت کا راوی ابوسعید مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 1767
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَابِقٍ أَبُو سُلَيْمَانَ ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الشَّامِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ".
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اہل قبلہ میں سے ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرو۔“
حدیث نمبر: 1768
وَحَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ " . مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَنْ دُونَهُ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر نیک اور گناہ گار کے پیچھے نماز ادا کر لو، ہر نیک اور گناہ گار کی نماز جنازہ ادا کرو، ہر نیک اور گناہ گار کے ہمراہ جہاد میں حصہ لو۔“ مکحول نامی راوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے، اور اس کے علاوہ راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ مِنَ السُّنَّةِ : الصَّفُّ خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ لَكَ صَلاتُكَ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ ، وَالْجِهَادُ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ لَكَ جِهَادُكَ وَعَلَيْهِ شَرُّهُ ، وَالصَّلاةُ عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَإِنْ كَانَ قَاتِلَ نَفْسِهِ " . عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین چیزیں سنت ہیں: ہر امام کے پیچھے صف بنا کر (باجماعت نماز ادا کرنا)، تمہیں تمہاری نماز کا ثواب مل جائے گا، اور اس کے گناہ کا بوجھ اس کے ذمے ہو گا اور ہر امیر ہمراہ جہاد میں حصہ لینا، تمہیں تمہارے جہاد کا ثواب ملے گا اور اس کا شر اس کے ذمے ہو گا، اور اہل توحید میں سے ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔“ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک ہے۔