حدیث نمبر: 1656
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ ، الْوِتْرُ ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مزید نماز عطا کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت عشاء کی نماز سے لے کر صبح صادق تک مقرر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَبْدُ الْحَمِيدِ ، نا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ تُرَى الْبُشْرَى وَالسُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلاةٍ هِيَ الْوِتْرُ " . النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خوشی اور سرور کی کیفیت نمایاں تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزید ایک نماز عطا کی ہے اور وہ وتر کی نماز ہے۔“ اس روایت کا راوی ابوعمر نضر خزاز ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، ثنا عَبْدَانُ ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : مَكَثْنَا زَمَانًا لا نَزِيدُ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعْنَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ زَادَكُمْ صَلاةً " ، فَأَمَرَنَا بِالْوِتْرِ . مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک طویل عرصہ ایسا گزر گیا کہ ہم پانچ نمازوں کے علاوہ مزید کوئی نماز نہیں ادا کرتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اکٹھے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز عطا کی ہے،“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وتر ادا کرنے کی تلقین کی۔ اس روایت کا راوی (یعنی عبیداللہ) محمد بن عبیداللہ عزیم ضعیف ہے۔