کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : وترکاطریقہ ‘ یہ فرض نہیں ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بھی وتراداکیے ہیں
حدیث نمبر: 1631
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ ، وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ : النَّحْرُ ، وَالْوِتْرُ ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے وہ نفل ہیں: قربانی کرنا، وتر کی نماز ادا کرنا اور فجر کی دو رکعت سنت ادا کرنا۔“
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُوذِيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي ، وَحَدَّثَنِي بِهِ أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِالْوِتْرِ وَالأَضْحَى ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”مجھے وتر کی نماز ادا کرنے اور قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور مجھے اس کا پابند نہیں کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نزلت فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ : " أَيْنَ كُنْتَ ؟ " ، قُلْتُ : خَشِيتُ الْفَجْرَ فنزلت فَأَوْتَرْتُ ، قَالَ : " أَوَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ " .
محمد محی الدین
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کے راستے میں سفر کر رہا تھا، جب مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ صبح صادق ہونے والی ہے، تو میں سواری سے اترا اور وتر کی نماز ادا کر لی، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے آ کر ملا، تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تم کہاں رہ گئے تھے؟“ میں نے عرض کی: ”مجھے صبح صادق ہونے کا اندیشہ تھا، اس لیے میں نے سواری سے اتر کر وتر کی نماز ادا کی،“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا کافی نہیں ہے؟“ تو میں نے جواب دیا: ”بالکل ہے،“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَيُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَيْهَا حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کے اوپر ہی نوافل ادا کر لیتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے ذریعے اشارہ کر کے (رکوع اور سجدہ) کیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، ثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنی سواری کے اوپر ہی وتر کی نماز ادا کر لیتے تھے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کر لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نزل فَأَوْتَرَ عَلَى الأَرْضِ " ، قَالَ : وَقَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " رُبَّمَا أَوْتَرَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَرُبَّمَا نزل ".
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری کے اوپر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے، جب انہیں وتر ادا کرنے ہوتے تھے، تو سواری سے اتر کر وتر ادا کیا کرتے تھے، نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات اپنی سواری کے اوپر ہی وتر ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات نیچے اتر کر پھر وتر ادا کرتے تھے۔