حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ بِمِصْرَ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلا مَرِيضٌ ، أَوْ مُسَافِرٌ ، أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيُّ أَوْ مَمْلُوكٌ ، فَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ ، وَاللَّهُ غَنِيُّ حُمَيْدٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ ادا کرنا لازم ہے، البتہ بیمار شخص، مسافر شخص، عورت، (نابالغ) بچے اور غلام کا حکم مختلف ہے (ان پر جمعہ فرض نہیں)، تو جو شخص کسی دلچسپی کی چیز یا تجارت کی وجہ سے اس سے بے نیازی اختیار کرے (یعنی اسے ادا نہ کرے)، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے بے نیازی اختیار کرے گا، اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور لائق حمد ہے۔“
حدیث نمبر: 1577
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْعَنْبَسِ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا هُرَيْمٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ فِي جَمَاعَةٍ إِلا عَلَى أَرْبَعٍ : عَبْدٍ مَمْلُوكٍ ، أَوْ صَبِيٍّ ، أَوْ مَرِيضٍ ، أَوِ امْرَأَةٍ " .
محمد محی الدین
طارق بن شہاب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب لوگوں پر جمعہ پڑھنا واجب ہے، صرف چار پر نہیں ہے: غلام شخص، (نابالغ) بچہ، بیمار اور عورت۔“
حدیث نمبر: 1578
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو كَامِلٍ ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا ، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”(ہم دنیا میں) بعد میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن آگے ہونے والے ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے: ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد کتاب دی گئی، تو یہ وہ دن ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لازم کیا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کی، تو اس بارے میں لوگ ہمارے پیروکار ہیں، یہودیوں کا دن کل (ہفتے کا دن ہے) اور عیسائیوں کا دن کے بعد والا (اتوار کا دن) ہے۔“