حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيَّ ، يَقُولُ : وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ هَذَا ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ وَقَفَهُ عَنِ الأَعْمَشِ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ ، وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ أَيْضًا أَنَّ الزُّهْرِيَّ رَوَاهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، هَذَا كُلُّهُ قَوْلِ أَبِي دَاوُدَ.
محمد محی الدین
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: اعمش سے منقول حدیث ضعیف ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ وہ یہ ہے: حفص نامی راوی نے اسے موقوف روایت کے طور پر اعمش سے نقل کیا ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ یہ روایت مرفوع ہے اور اس بات کا بھی انکار کیا ہے کہ اس میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا ذکر ہے۔ حدیث کی عروہ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے ضعیف ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔ زہری نے اس روایت کو عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی۔ یہ تمام بیان امام ابوداؤد کا ہے۔
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، ثنا أبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تُصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى حَصِيرِهَا " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ : لَمْ يَرْفَعْهُ حَفْصٌ ، وَتَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”مستحاضہ عورت نماز ادا کرے گی اگرچہ اس کے خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔“ حفص نامی راوی نے اس حدیث کو مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا جبکہ اسامہ نامی راوی نے اس کی متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالا : ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ الأَعْمَشُ ، ثنا عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، فَقَالَتْ : " لا تَدَعُ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . تَابَعَهُمَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے مستحاضہ عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ نماز ترک نہیں کرے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔“
حدیث نمبر: 830
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي شَيْبَةَ ، وَذَكَرَ حَدِيثَ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " تُصَلِّي الْمُسْتَحَاضَةُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . فَقَالَ : وَكِيعٌ يَرْفَعُهُ ، وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، وَحَفْصٌ يُوقِفَانِهِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے مستحاضہ عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نماز ترک نہیں کرے گی، اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔“ وکیع نامی راوی نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔ علی بن ہاشم اور حفص نامی راوی نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ، ثنا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، حَدِيثَيْنِ وَلَيْسَ هُمَا بِشَيْءٍ.
محمد محی الدین
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: حبیب بن ثابت نامی راوی نے عروہ کے حوالے سے دو روایات نقل کی ہیں لیکن ان دونوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُشَمِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْتَنِبِي الصَّلاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصُومِي وَصَلِّي ، وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُسْتَحَاضُ لا يَنْقَطِعُ الدَّمُ عَنِّي ، قَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ فَإِذَا أَقْبَلَ الْحَيْضُ فَدَعِي الصَّلاةَ فَإِذَا أَدْبَرَ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش آئی اور بولی: ”مجھے استحاضہ کی شکایت ہے، میں پاک نہیں ہوتی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز ادا نہ کرو، اس کے بعد غسل کرو اور پھر روزے بھی رکھو، نماز بھی پڑھو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”میں استحاضہ میں مبتلا ہوں، میرا خون نہیں رکتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی اور رگ کا خون ہے، یہ حیض کا خون نہیں ہے۔ جب حیض آ جائے تو تم نماز کو ترک کر دو اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کر دو۔“
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلاقُ ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : " إِنَّمَا الأَقْرَاءُ الأَطْهَارُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرماتی تھیں: ”قروء سے مراد طہر ہے۔“
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي رَبِيعٍ الْجُرْجَانِيُّ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ فَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَرَى فِيهَا ؟ فَقَدْ مَنَعْتَنِي الصَّلاةَ وَالصِّيَامَ ، قَالَ : " أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ " ، قَالَتْ : هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَتَلَجَّمِي " ، قَالَتْ : هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اتَّخِذِي ثَوْبًا " ، قَالَتْ : هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّتَهُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الآخَرِ ، فَإِنْ قَوَيْتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ " ، قَالَ لَهَا : " إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَيْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ ، فَإِنْ قَوَيْتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ وَتَغْسِلِينَ حَتَّى تَطْهُرِي ، ثُمَّ تُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ تَغْسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فَافْعَلِي ، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَصَلِّي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا أَعْجَبُ الأَمْرَيْنِ إِلَيَّ " .
محمد محی الدین
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں انتہائی استحاضہ میں مبتلا تھی۔ میں اس کے بارے میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زینب بنت جحش کے گھر موجود تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں انتہائی استحاضہ میں مبتلا ہوں اور زیادہ شکایت ہے۔ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا رائے دیتے ہیں؟ اس چیز نے مجھے نماز سے روک دیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم روئی رکھ لیا کرو، خون رک جائے گا۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”زیادہ ہوتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پٹی باندھ لیا کرو۔“ اس نے عرض کی: ”اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کپڑا رکھ لیا کرو۔“ عرض کی: ”اس سے بھی زیادہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو باتوں کی ہدایت کرتا ہوں۔ ان میں سے جو بھی کر لو وہ دوسرے کی جگہ کافی ہے۔ اگر تم دونوں کی قوت رکھتی ہو تو تمہیں زیادہ پتہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کا ٹھونگا ہے۔ اللہ کے علم کے مطابق تمہارے حیض کے ایام چھ یا سات دن ہیں۔ پھر اس کے بعد تم غسل کر لو، پھر تم دیکھو کہ اب تم پاک ہو گئی ہو تو اس جگہ کو صاف کر لو، پھر تم چوبیس دنوں تک یا تئیس دنوں تک نماز ادا کرتی رہو اور روزہ رکھتی رہو۔ ایسا کرنا تمہارے لیے جائز ہو گا۔ ہر مہینے میں اسی طرح کرو جیسا کہ عام طور پر عورتیں حیض اور طہر کے حوالے سے اپنے حیض اور طہر کی مخصوص مدت بسر کرتی ہیں۔ اور اگر تم اس بات کی طاقت رکھتی ہو تو ظہر کی نماز کو موخر کرو اور عصر کی نماز کو جلدی ادا کرو، پھر غسل کر کے پھر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کر لو۔ پھر تم مغرب کو موخر کرو اور عشاء کو جلدی پڑھ لو اور غسل کر کے ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرو تو تم ایسا بھی کر سکتی ہو۔ تم فجر کے لیے الگ سے غسل کرو۔ اس طرح تم نمازیں ادا کرو، روزہ رکھو اگر تم اس بات کی طاقت رکھتی ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے نزدیک یہ بات پسندیدہ ہے۔“
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، أنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الإِسْكَافِيُّ ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ " ، فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَتِ الصُّفْرَةَ فَوْقَ الْمَاءِ ، فَقَالَ : " تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَيْنَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش کو اتنے عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے! یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اسے کسی بڑے برتن میں بیٹھنا چاہیے۔“ وہ خاتون اس پر بیٹھی تو اس کے حیض کی زردی غالب آ گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ ظہر اور عصر کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے۔ پھر فجر کے لیے الگ سے غسل کرے اور اس کے درمیان میں وضو کر لیا کرے۔“
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُسْلِمٍ الصَّيْرَفِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لَمْ تُصَلِّ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، فَذَكَرَ كَلِمَةً بَعْدَهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ مِنَ الظُّهْرِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعَصْرِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَاحِدًا ، وَتُؤَخِّرُ مِنَ الْمَغْرِبِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعِشَاءِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَتُصَلِّي " .
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ کسی اور رگ کا خون ہے۔“ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے ایام کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرمائی۔ پھر فرمایا: ”وہ ظہر کو موخر کرے، عصر کو جلدی کرے، پھر ان کے لیے غسل کر کے دونوں کو ایک ساتھ نماز ادا کرے۔ مغرب کو موخر کرے، عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کر کے نماز ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ ، فَلَبِثَتْ زَمَانًا لا تُصَلِّي ، فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ خَافَتْ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلا تَكُونُ لَهَا فِي الإِسْلامِ حَظٌّ أَلْبَثُ زَمَانًا لا أَقْدِرُ عَلَى صَلاةٍ مِنَ الدَّمِ ، فَقَالَتْ لَهَا : امْكُثِي حَتَّى يَدْخُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْأَلِينَهُ عَمَّا سَأَلْتِنِي عَنْهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ ، ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ وَتَلْبَثُ الزَّمَانَ لا تَقْدِرُ عَلَى الصَّلاةِ ، وَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ قَدْ كَفَرَتْ أَوْ لَيْسَ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ فِي الإِسْلامِ حَظٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلاةِ عَدَدَ قُرْئِهَا ، فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً ، تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ، ثُمَّ الطَّهُورِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا " . قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ : فَسَأَلْنَا هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ فِي الإِسْنَادِ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ خَالَتُهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ.
محمد محی الدین
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہوئی۔ انہوں نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”اے ام المؤمنین! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنمی نہ ہو جاؤں اور ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہ رہے۔ ایک بڑا عرصہ گزر چکا ہے جس میں میں نے نماز نہیں پڑھی۔ مجھے استحاضہ کا خون خارج ہوتا ہے۔“ سیدہ عائشہ نے کہا: ”تم ٹھہر جاؤ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو آپ سے اس طرح دریافت کرنا جس طرح مجھ سے ذکر کیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ فاطمہ بنت ابوحبیش ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ اس کو استحاضہ کی شکایت ہے اور یہ کافی عرصے سے نماز ادا کرنے پر قادر نہیں ہو سکی۔ اسے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں یہ کافر نہ ہو جائے یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہ رہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم فاطمہ سے کہو کہ وہ ہر مہینے میں اپنے حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دے۔ جب وہ مخصوص ایام گزر جائیں تو وہ ایک مرتبہ غسل کر کے اپنی شرمگاہ پر روئی رکھ کر اس پر ایک چوڑی پٹی باندھ لے تاکہ (خون باہر نہ نکلے)۔ پھر ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔ اسے جو چیز لاحق ہوئی ہے وہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلاةَ سَنَتَيْنِ أَوْ سِنِينَ لا أُصَلِّي ، فَقَالَتِ : انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ ، فَقَالَتْ : هَذِهِ فَاطِمَةُ ، تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلا وَاحِدًا ثُمَّ الطَّهُورُ بَعْدُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِيَ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ " .
محمد محی الدین
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنم میں نہ چلی جاؤں کیونکہ میں نے دو برس سے (راوی کو شک ہے اس میں یہ الفاظ ہیں) کئی برس سے نماز ادا نہیں کی۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم انتظار کرو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو (ان سے دریافت کرنا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ نے بتایا: ”یہ فاطمہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دیا کرو۔ پھر روزانہ ایک مرتبہ غسل کر لیا کرو۔ اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو، اور اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ کر رکھو، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو لاحق ہوئی ہے یا یہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی۔“
حدیث نمبر: 843
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ ؟ فَقَالَ : " لا ، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي وَصَلِّي " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”میں استحاضہ کا شکار ہوں۔ میں پاک نہیں ہوتی۔ کیا میں نماز پڑھنا ترک کر دوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ان مخصوص ایام میں نماز پڑھنا ترک کرو جن میں تمہیں حیض آتا تھا۔ پھر اس کے بعد تم غسل کرو اور کپڑا باندھ لو اور نماز پڑھا کرو۔“
حدیث نمبر: 844
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ دَمًا لا يَفْتُرُ عَنْهَا ، فَسَأَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لِتَنْظُرْ عَدَدَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ قَبْلَ ذَلِكَ وَعَدَّدَهُنَّ فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون کا خون بہت بہتا تھا، وہ رکتا نہیں تھا۔ سیدہ ام سلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت مخصوص ایام کا جائزہ لے گی جس میں پہلے اسے حیض آتا تھا۔ وہ اتنے دن تک نماز ترک کرے گی۔ پھر جب نماز کا وقت ہو گا تو وہ وضو کر کے کپڑا باندھ کر نماز ادا کر لے گی۔“
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَاسِطِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يَقُولُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَكُونُ الْحَيْضُ لِلْجَارِيَةِ وَالثَّيِّبِ الَّتِي قَدْ أَيِسَتْ مِنَ الْحَيْضِ أَقَلَّ مِنْ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ وَلا أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ ، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ فَوْقَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ فَمَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا قَضَتْ ، وَدَمُ الْحَيْضِ أَسْوَدُ خَاثِرٌ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ ، وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتَحْتَشِي كُرْسُفًا ، فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتُعْلِيهَا بِأُخْرَى ، فَإِنْ غَلَبَهَا فِي الصَّلاةِ فَلا تَقْطَعِ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ " . لا يُثْبَتُ عَبْدُ الْمَلِكِ ، وَالْعَلاءُ ضَعِيفَانِ ، وَمَكْحُولٌ لا يُثْبَتُ سَمَاعُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کم سن لڑکی اور وہ عورت جو حیض سے مایوس ہو چکی ہو اس کا حیض تین دن سے کم نہیں ہو گا، اور دس دن سے زیادہ نہیں ہو گا۔ اگر دس دن کے بعد بھی اسے خون نظر آئے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ اس کے ایام مخصوص سے زیادہ جو دن ہوں گے ان کی (نمازوں کی وہ) قضاء کرے گی۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:) ”حیض کا خون سیاہ اور گاڑا ہوتا ہے جس میں سرخی غالب ہوتی ہے جبکہ استحاضہ کا خون زرد اور پتلا ہوتا ہے۔ اگر زیادہ خون خارج ہو رہا ہو تو وہ روئی رکھ لیا کرے۔ اگر اور زیادہ ہو تو کوئی پٹی وغیرہ رکھ لے۔ اگر وہ نماز کے دوران بھی خارج ہو رہا ہو تو وہ عورت نماز نہ چھوڑے اگرچہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہوں۔“ یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ اس کے دو راوی عبدالملک اور علاء دونوں ضعیف ہیں جبکہ مکحول نامی راوی کا سماع ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ، سَمِعْتُ الْعَلاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَلُّ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَحِيضِ لِلْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ ثَلاثٌ ، وَأَكْثَرُ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَحِيضِ عَشَرَةُ أَيَّامٍ ، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ تَقْضِي مَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا ، وَدَمُ الْحَيْضِ لا يَكُونُ إِلا دَمًا أَسْوَدَ عَبِيطًا تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ ، وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ رَقِيقٌ تَعْلُوهُ صُفْرَةٌ ، فَإِنْ كَثُرَ عَلَيْهَا فِي الصَّلاةِ فَلْتَحْتَشِي كُرْسُفًا فَإِنْ ظَهْرَ الدَّمُ عَلَتْهَا بِأُخْرَى ، فَإِنْ هُوَ غَلَبَهَا فِي الصَّلاةِ فَلا تَقْطَعِ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ ، وَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا وَتَصُومُ " . وَعَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ ، وَالْعَلاءُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”کنواری لڑکی یا ثیبہ کی حیض کی مقدار کم از کم تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔ اگر وہ دس دن کے بعد بھی خون دیکھتی ہے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ وہ اپنے حیض کے مخصوص ایام سے زیادہ دنوں کی قضاء کرے گی۔ حیض کا خون صرف سیاہ ہوتا ہے اور گاڑھا ہوتا ہے اور اس پر سرخی غالب ہوتی ہے جبکہ مستحاضہ عورت کا خون پتلا ہوتا ہے جس پر زردی غالب ہوتی ہے۔ اگر نماز کے دوران خون بکثرت خارج ہو تو وہ روئی رکھ لے۔ اگر پھر بھی خون باہر نکل رہا ہو تو کوئی دوسرا کپڑا یا پٹی رکھ لے۔ اگر اس پر نماز کے دوران غالب ہو تو نماز نہ چھوڑے اگرچہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہوں۔ مرد اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے اور وہ عورت روزے بھی رکھے گی۔“ اس روایت کا راوی عبدالملک مجہول ہے جبکہ علاء نامی راوی علاء بن کثیر ہے اور یہ حدیث میں ضعیف ہے جبکہ مکحول نامی راوی نے سیدنا ابوامامہ سے کوئی بھی حدیث نہیں سنی ہے۔
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الشَّامِيُّ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْمِنْهَالِ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، وَأَكْثَرَهُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ " . ابْنُ مِنْهَالٍ مَجْهُولٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔“ اس روایت کا راوی حماد بن منہال مجہول ہے جبکہ محمد بن أحمد بن انس ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَعُدُّ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ وَتُصَلِّي " . تَفَرَّدَ بِهِ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَلا يَصِحُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَهِمَ فِيهِ ، وَإِنَّمَا هِيَ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فاطمہ بنت قیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ عورت کا مسئلہ دریافت کیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے مخصوص ایام کا شمار کرے۔ پھر جب وہ پاک ہو جائے تو غسل کر لے اور نماز ادا کیا کرے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں جعفر بن سلیمان نامی راوی منفرد ہے۔ ابن جریج نے ابوزبیر کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ اس میں راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ اس خاتون کا نام فاطمہ بنت ابوحبیش تھا۔
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ ، قَالَتْ : " الْحَامِلُ لا تَحِيضُ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي " .
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: ایسی حاملہ عورت جس کو خون نظر آئے، اس کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس کو حیض نہیں آ سکتا۔ وہ غسل کر کے نماز ادا کرے گی۔“
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنَّا لا نَرَى التَّرِيَّةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا ، وَهِيَ الصُّفْرَةُ وَالْكُدْرَةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم خواتین شروع ہو جانے کے بعد نظر آنے والی تری کی پرواہ نہیں کرتی تھیں جو زرد رنگ کی یا مٹیالی رنگ کی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 851
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرَّادِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَرِهَتْ أَنْ يُجَامِعَ الْمُسْتَحَاضَةَ زَوْجُهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کو ناپسند کیا ہے: استحاضہ کی شکار عورت کے ساتھ اس کا شوہر صحبت کرے۔
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ سَلامِ بْنِ سَلْمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقْتُ النِّفَاسِ أَرْبَعُونَ يَوْمًا إِلا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُمَيْدٍ غَيْرُ سَلامٍ هَذَا ، وَهُوَ سَلامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، البتہ عورت اس سے پہلے طہر دیکھ لے (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ اس روایت کو حمید نامی راوی کے حوالے سے صرف سلام نامی راوی نے نقل کیا ہے۔ یہ سلام طویل ہے اور یہ حدیث میں ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 853
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهِ : " لا تَشُوفَنَّ لِي دُونَ الأَرْبَعِينَ وَلا تَجَاوَزُنَّ الأَرْبَعِينَ " ، يَعْنِي فِي النِّفَاسِ.
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اپنی بیویوں سے یہ کہا کرتے تھے: ”چالیس دن گزرنے سے پہلے تم میرے سامنے آراستہ نہ ہو، چالیس دن سے تجاوز نہ کرو۔“ ان کی مراد نفاس کی حالت تھی۔
حدیث نمبر: 854
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهَا لَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَزَيَّنَتْ ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ : " أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَعْتَزِلَ النُّفَسَاءَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " . رَفَعَهُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ عَنْهُ ، وَخَالَفَهُ وَكِيعٌ.
محمد محی الدین
ابو بکر ہذلی، حسن بصری سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ نفاس (ولادت کے بعد خون) سے پاک ہوئیں تو انہوں نے زیب و زینت کی۔ تو سیدنا عثمان بن ابوالعاص نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی: ”ہم نفاس والی عورتوں سے چالیس دن تک الگ رہیں۔“ عمر بن ہارون نامی راوی نے اس کو مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے جبکہ وکیع نامی راوی نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 855
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهِ : " إِذَا نَفِسَتِ امْرَأَةٌ مِنْكُنَّ فَلا تَقْرَبَنِّي أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامٌ ، وَاخْتُلِفَ عَنْ هِشَامٍ ، وَمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ رَوَوْهُ عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ مَوْقُوفًا . وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَغَيْرِهِمْ مِنْ قَوْلِهِمْ.
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اپنی بیویوں سے یہ کہا کرتے تھے: ”جب تم میں سے کسی عورت کو نفاس آ جائے تو وہ چالیس دن تک میرے قریب نہ آئے، البتہ اگر وہ اس سے پہلے طہر دیکھ لے تو اس کا حکم مختلف ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض راویوں نے سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ تک موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ اسی طرح یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے حوالے سے ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو بِلالٍ ، ثنا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّفَسَاءِ فِي نِفَاسِهِنَّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی عورتوں کی مدت چالیس دن مقرر کی ہے۔
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو بِلالٍ ، ثنا حَبَّانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . أَبُو بِلالٍ الأَشْعَرِيُّ هَذَا ضَعِيفٌ ، وَعَطَاءُ هُوَ ابْنُ عَجْلانَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر منقول ہے۔ اس روایت کا ایک راوی ابوبلال اشعری ضعیف ہے جبکہ دوسرا راوی عطاء بن عجلان، متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 858
ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عُلاثَةُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ رَأَتِ الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَهِيَ طَاهِرٌ ، وَإِنْ جَاوَزَتِ الأَرْبَعِينَ فَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ تَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاةٍ " . عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، وَابْنُ عُلاثَةَ ضَعِيفَانِ مَتْرُوكَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نفاس والی عورت چالیس دن تک انتظار کرے گی۔ اگر وہ پہلے طہر دیکھ لے پاک ہو گی۔ اگر چالیس دن سے زیادہ ہو جائے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ مستحاضہ عورت کی طرح وہ بھی غسل کر کے نماز ادا کرے گی۔ اگرچہ خون زیادہ جاری ہو رہا ہو تو وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔“ اس روایت کا راوی عمرو بن حصین اور ابن علاثہ، دونوں ضعیف اور متروک ہیں۔
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ . ح وَحَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي إِيَاسَ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَتَهُ نَفِسَتْ وَأَنَّهَا رَأَتِ الطُّهْرَ بَعْدَ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ أَتَتْ فِرَاشَهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " ، قَالَتْ : قَدْ طَهُرْتُ ، قَالَ : فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : " إِلَيْكِ عَنِّي فَلَسْتِ بِالَّذِي تُعْزِبُنِي عَنْ دِينِي حَتَّى تَمْضِيَ لَكِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " . وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، غَيْرُ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: ان کی اہلیہ کو نفاس آگیا۔ انہوں نے بیس دن کے بعد طہر دیکھ لیا۔ وہ پاک صاف ہو کر ان کے بستر پر آئی تو انہوں نے کہا: ”تمہارا کیا مسئلہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میں پاک ہو چکی ہوں۔“ تو انہوں نے اس خاتون کو اپنے پاؤں سے مارا اور کہا: ”مجھ سے دور ہو جاؤ، تم ایسی چیز نہیں ہو جو مجھے میرے دین سے الگ کر سکے۔ جب تک چالیس دن نہیں گزر جاتے (تم میرے قریب نہیں آ سکتی ہو)۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ وہ شخص ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ اس روایت کو جلد بن ایوب کے حوالے سے صرف معاویہ نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " تَجْلِسُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا " . وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مِثْلُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”نفاس والی عورت چالیس دن تک بیٹھی رہے گی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 861
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ وَلَقَبُهُ سُلَيْمٌ ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أنا عَلِيٌّ عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَضَى لِلنُّفَسَاءِ سَبْعٌ ثُمَّ رَأَتِ الطُّهْرَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ " . قَالَ سُلَيْمٌ : فَلَقِيتُ عَلِيَّ بْنَ عَلِيٍّ فَحَدَّثَنِي ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . وَالأَسْوَدُ هُوَ ابْنُ ثَعْلَبَةَ شَامِيٌّ.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نفاس والی عورت کو سات دن گزر جائیں اور پھر وہ طہر دیکھ لے تو وہ غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کر دے۔“ اس کے راوی سلیم بیان کرتے ہیں: بعد میں میری ملاقات علی بن علی محدث سے ہوئی۔ انہوں نے اسود، عبادہ اور عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی روایت کی مانند سنائی۔ اس روایت کے راوی اسود یہ ابن ثعلبہ شامی ہیں۔
حدیث نمبر: 862
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا جَدِّي ، نا أَبُو بَدْرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ الأَزْدِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نفاس والی عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں۔ ہم خشکی کی وجہ سے چہرے پر ورس مل لیا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، وأَبُو غَسَّانَ ، قَالا : نا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ : " تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا " . وَأَبُو سَهْلٍ هَذَا هُوَ كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْسَانِيُّ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: وہ اپنے نفاس کے بعد بیٹھتی تھی۔ اس روایت کا راوی ابوہل، اس کا نام کثیر بن زیاد برسانی ہے۔
حدیث نمبر: 864
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ النُّفَسَاءِ ، كَمْ تَقْعُدُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ ؟ قَالَ " أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ ".
محمد محی الدین
عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: امام احمد بن حنبل سے سوال کیا گیا، میں یہ بات سن رہا تھا، ان سے نفاس والی عورتوں کے بارے میں دریافت کیا گیا: اگر وہ خون دیکھ لے تو کتنا عرصہ بیٹھی رہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”چالیس دن تک، اس کے بعد وہ غسل کرے گی۔“
حدیث نمبر: 865
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ إِمْلاءً ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زَيْدٍ ، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ ، ثنا عَطَاءُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْمَكِّيِّ ، قَالَ : سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنِ النُّفَسَاءِ ، فَقَالَتْ : سُئِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تُمْسِكَ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَتَطَهَّرُ فَتُصَلِّي " . عَطَاءٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نفاس والی عورتوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”چالیس دن تک ٹھہری رہے گی، پھر غسل کر کے پاک ہو کر نماز ادا کرنا شروع کرے گی۔“ اس روایت کا راوی عطاء، متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْهُ كَمْ تَجْلِسُ الْمَرْأَةُ إِذَا وَلَدَتْ ؟ قَالَ : " تَجْلِسُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بیان کرتی ہیں: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”جب عورت بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ کتنا عرصہ بیٹھی رہے گی؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورت چالیس دن تک بیٹھی رہے گی، اگر وہ اس سے پہلے طہر دیکھ لے تو (اس کا حکم مختلف ہو گا)۔“
…