کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نا الْمُهَاجِرُ أَبُو مَخْلَدٍ مَوْلَى الْبَكَرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً ، إِذَا تَطَهَّرَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا " . وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ : " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے مسافر کو تین دن اور تین راتوں تک، جب کہ مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ ”جب کہ آدمی وضو کرنے کے بعد موزے پہنے تو وہ اس دوران میں موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔“ ابواشعث نامی راوی بیان فرماتے ہیں کہ: ”مسافر تین دن اور تین راتوں تک جب کہ مقیم ایک دن اور ایک رات تک اس پر مسح کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 748
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا مُسَدَّدٌ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَاللَّفْظُ لِعَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالُوا : نا سُفْيَانُ ، قَالَ : وَزَادَ حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " .
محمد محی الدین
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ اپنے موزوں پر مسح کر رہے ہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ان دونوں کو اس حالت میں پہنا تھا کہ وہ دونوں پاک تھے۔“
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : " الْمَسْحُ عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ خُطَطٌ بِالأَصَابِعِ " .
محمد محی الدین
سیدنا حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ: ”موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا جائے گا، جیسے انگلیوں کے ذریعہ لکیریں بنائی جائیں گی۔“
حدیث نمبر: 751
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، نا أَبُو الْعَلاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيعِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا وَكِيعٌ ، نَا فُضَيْلٌ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، نا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : " وَضَّأْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک کے موقع پر وضو کروایا تو آپ نے موزوں کے اوپر والے حصے پر اور نیچے والے حصے پر مسح کیا۔“
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، بِالرَّمْلَةِ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرْسَلا ، لَيْسَ فِيهِ الْمُغِيرَةُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مرسل حدیث کے طور پر منقول ہے، جس میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ سَعْدٌ عُمَرَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى ظَهْرِ الْخُفِّ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے جو مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں جب کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔“
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ الْبَلَوِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَامًا ، قَالَ عُقْبَةُ : وَعَلَيَّ خُفَّانِ مِنْ تِلْكَ الْخِفَافِ الْغِلاظِ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : " مَتَى عَهْدُكَ بِلُبْسِهُمَا ؟ " ، فَقُلْتُ : لَبِسْتُهُمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْيَوْمُ الْجُمُعَةُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَصَبْتَ السُّنَّةَ " . وَقَالَ يُونُسُ : فَقَالَ : أَصَبْتَ ، وَلَمْ يَقُلِ السُّنَّةَ.
محمد محی الدین
مفضل بن فضالہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یزید بن ابی حبیب سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن حکم نے علی بن رباح کے حوالے سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ سیدنا عقبہ نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ وفد میں شامل ہو کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ: ”اس وقت میں نے موٹے والے موزے پہنے ہوئے تھے جب کہ اس دن جمعہ ہی تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ: ”تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”تم نے ٹھیک کیا ہے،“ اس میں لفظ ”سنت“ منقول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ ، بِمِصْرَ ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : " مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِي رِجْلَيْكَ ؟ " ، قُلْتُ : يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : " فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا ؟ " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : " أَصَبْتَ السُّنَّةَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : وَهُوَ صَحِيحُ الإِسْنَادِ.
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں جمعہ کے دن مدینہ منورہ جانے کے لیے شام سے روانہ ہوا اور جمعہ کے دن ہی مدینہ منورہ پہنچا۔ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ: ’تم نے اپنے پاؤں میں موزے کب سے پہنے ہیں؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’گزشتہ جمعہ کے دن۔‘ انہوں نے دریافت کیا کہ: ’کیا تم نے انہیں اتارا تھا؟‘ میں نے جواب دیا کہ: ’نہیں!‘ تو انہوں نے فرمایا کہ: ’تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔‘“ شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ اس کی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا رَوْحٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالا : نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " كَانَ لا يُوَقِّتُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقْتًا " .
محمد محی الدین
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ: ”انہوں نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میعاد مقرر نہیں کی۔“
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ الْمُعَدَّلُ ، بِالرَّمْلَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقْتٌ امْسَحْ مَا لَمْ تَخْلَعْ " .
محمد محی الدین
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ: ”موزوں پر مسح کرنے کی کوئی میعاد نہیں ہے، تم اس وقت تک مسح کرو جب تک تم انہیں اتار نہ دو۔“
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا شُجَاعٌ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مَا لَمْ يَخْلَعْهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: ”مسافر شخص موزوں پر اس وقت تک مسح کرتا رہے جب تک وہ انہیں اتار نہیں دیتا۔“
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ : جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ " ، قَالَ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا ، وَلا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلا غَائِطٍ وَلا نَوْمٍ وَلا نَخْلَعَهُمَا إِلا مِنْ جَنَابَةٍ " ، قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ ، مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً ، لا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ " .
محمد محی الدین
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ: ”میں علم کے حصول کے لیے آیا ہوں۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ زر نے کہا کہ: ”میں اس لیے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں۔“ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ”میں اس لشکر میں شامل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر بھیجا تھا اور ہمیں ہدایت کی تھی کہ تم اپنے موزوں پر مسح سفر کے دوران تین دن تک اور قیام کے دوران ایک دن اور ایک رات تک کر سکتے ہو، جب کہ ہم نے انہیں باوضو حالت میں پہنا ہو اور ہم انہیں پیشاب کرنے، پاخانہ کرنے یا سونے کے بعد اٹھ کر وضو کرتے ہوئے نہیں اتاریں گے، ہم انہیں صرف جنابت کی حالت میں اتاریں گے۔“ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے، جس کی چوڑائی ستر برس کی مسافت جتنی ہے۔ یہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اس کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ خُزَيْمَةَ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ هَذَا ، فَقَالَ لِي : حَدَّثَ بِهِ أَصْحَابُنَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا ، يَعْنِي قَوْلَهُ " إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ".
محمد محی الدین
علی بن ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے شیخ ابوبکر بن خزیمہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے عبدالرزاق کی روایت امام مزنی سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں نے بھی یہ روایت بیان کی ہے، کیونکہ امام شافعی کی اس سے مستند دلیل اور کوئی نہیں ہے۔“ مصنف فرماتے ہیں کہ یعنی روایت کے یہ الفاظ کہ: ”جب ہم نے باوضو حالت میں انہیں ان میں داخل کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيَمْسَحُ أَحَدُنَا عَلَى خُفَّيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " .
محمد محی الدین
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس شخص نے ان دونوں کو باوضو حالت میں داخل کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، ثنا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ہمیں موزوں پر مسح کرنے کی ہدایت کی تھی: ”مسافر شخص کو تین دن تین راتوں تک اور مقیم کو ایک دن ایک رات تک کے لیے۔“
حدیث نمبر: 765
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ عُمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ ، وَأَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ " أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : " يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : " وَيَوْمَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَثَلاثًا " ، قَالَ : ثَلاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا بَدَا لَكَ " . هَذَا الإِسْنَادُ لا يُثْبَتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلافًا كَثِيرًا قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ ، مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
عبادہ بن نسئی، ابی کے حوالے سے جو ابن عمارہ ہیں، یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمارہ کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اپنے موزوں پر مسح کر لوں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! دو دن تک؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کر سکتے ہو۔“ اور تین دن تک بھی۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! تین دن تک بھی؟“ یہاں تک کہ انہوں نے سات دن تک پوچھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا تمہیں مناسب لگے۔“ اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن ایوب نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے، جو میں نے کسی اور مقام پر ذکر کیا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن، محمد بن یزید، اور ایوب بن قحطن، سب مجہول ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بِفَتْحِ دِمَشْقَ ، قَالَ : وَعَلَيَّ خُفَّانِ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : " كَمْ لَكَ يَا عُقْبَةُ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ ؟ " ، فَتَذَكَّرْتُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ : مُنْذُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ ، قَالَ : " أَحْسَنْتَ ، وَأَصَبْتَ السُّنَّةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ دمشق کی فتح کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے عقبہ! تم نے کتنے دنوں سے اپنے موزے نہیں اتارے؟“ تو مجھے یاد آیا کہ: ”میں نے پچھلے جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک پہنے ہوئے تھے۔“ میں نے بتایا: ”آٹھ دنوں سے۔“ تو انہوں نے فرمایا کہ: ”تم نے ٹھیک کیا اور سنت کے مطابق کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثنا أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا ، وَقَالَ : " أَصَبْتَ السُّنَّةَ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَيْنَ يَزِيدَ ، وَعَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَحَدًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ: ”تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔“ اس روایت کی سند میں یزید اور علی نامی راوی کے درمیان کسی اور کا تذکرہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَرَأْتُ كِتَابًا لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ ، فَقَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلا يَخْلَعْهُمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
عمر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن یسار کی کتاب میں پڑھا جو عطاء بن یسار کے پاس تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا۔ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا آدمی ہمیشہ اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، ان دونوں کو اتارے ہی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلانُ ، قَالا : نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ لَوْ كَانَ دِينُ اللَّهِ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْخُفَّيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاهُ ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا " . وَاللَّفْظُ لابْنِ مَخْلَدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”اگر اللہ کے دین کے احکام رائے کے مطابق ہوتے تو موزوں کا نیچے والا حصہ مسح کرنے کا اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہوتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ روایت کے الفاظ ابن مخلد نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، نا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْخُفَّيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا " .
محمد محی الدین
عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے حصے کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اوپر والے حصے پر مسح کیا ہے۔“