کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث
ان میں موجود علتوں کا بیان
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ ، قَالا : نا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، وَقَالَ أَبُو هِشَامٍ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ شَرِيكٌ : سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، " أَنَّ أَعْمَى وَقَعَ فِي بِئْرٍ ، فَضَحِكَ طَوَائِفُ مِمَّنْ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُعِيدُوا الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص گڑھے میں گر گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہنسنے والے دوبارہ وضو کریں اور نماز ادا کریں۔
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ ، وهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالا : نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، وَفِي الْمَسْجِدِ بِئْرٌ عَلَيْهَا جُلَّةٌ ، فَجَاءَ أَعْمَى فَسَقَطَ فِيهَا ، فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، مسجد میں ایک گڑھا تھا، ایک شخص آیا، جو نابینا تھا، تو کچھ لوگ ہنس پڑے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، ہنسنے والے دوبارہ وضو کریں اور نماز ادا کریں۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، فَعَثَرَ فَتَرَدَّى فِي بِئْرٍ ، فَضَحِكُوا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
ابراہیم بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھا رہے تھے، وہ شخص پھسلا اور گڑھے میں گر گیا، تو لوگ ہنس پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”جو شخص ہنس پڑا تھا، وہ دوبارہ وضو کرے اور نماز ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ L5792 ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ ، مُرْسَلا ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، قَالَ : أَنَا حَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ رَجَعَ حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الَّذِي أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ ، لأَنَّ أَبَا هَاشِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ بِهِ عَنْهُ ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : رَجَعَتْ هَذِهِ الأَحَادِيثُ كُلُّهَا الَّتِي قَدَّمْتُ ذِكْرَهَا فِي هَذَا الْبَابِ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ ، فَأَرْسَلَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُسَمِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ رَجُلا سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْهُ ، وَقَدْ رَوَى عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، وَكَانَ عَالِمًا بِأَبِي الْعَالِيَةِ وَبِالْحَسَنِ ، فَقَالَ : لا تَأْخُذُوا بِمَرَاسِيلِ الْحَسَنِ وَلا أَبِي الْعَالِيَةِ فَإِنَّهُمَا لا يُبَالِيَانِ عَنْ مَنْ أَخَذَا .
محمد محی الدین
یہ روایت ابراہیم کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے، جبکہ ایک اور سند کے حوالے سے، ابراہیم کے حوالے سے، ابوالعالیہ کے حوالے سے نقل ہوئی ہے، جبکہ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے منقول ہے۔ محمد بن سیرین، جو ابوالعالیہ اور حسن بصری سے زیادہ واقف تھے، وہ یہ فرماتے تھے: ابوالعالیہ کی نقل کردہ مرسل روایت کو قبول نہ کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے اس روایت کو کس سے لیا ہے۔
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، سَمِعْتُ جَرِيرًا ، وذَكَرَ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ : " مَا حَدَّثْتَنِي ، فَلا تُحَدِّثْنِي عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ : عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، وَالْحَسَنِ ؛ فَإِنَّهُمَا كَانَا لا يُبَالِيَانِ عَنْ مَنْ أَخَذَا حَدِيثَهُمَا ".
محمد محی الدین
عاصم بیان کرتے ہیں: ابن سیرین نے مجھ سے یہ کہا: تم نے جو حدیث سنانی ہے، وہ سناؤ! لیکن بصرہ سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے حوالے سے مجھے کوئی حدیث نہ سنانا: ابوالعالیہ اور حسن، کیونکہ یہ دونوں اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے اپنی حدیث کو کس سے حاصل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ ، نا دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي وُهَيْبٌ ، نا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : " كَانَ أَرْبَعَةٌ يُصَدِّقُونَ مَنْ حَدَّثَهُمْ وَلا يُبَالُونَ مِمَّنْ يَسْمَعُونَ الْحَدِيثَ : الْحَسَنُ ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ ، وَحُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ " . قَالَ الشَّيْخُ : وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّابِعَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ رُوِيَ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَهُ وَذَكَرَ عِلَّتَهُ.
محمد محی الدین
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: چار افراد ایسے ہیں، جو ہر اس شخص کی تصدیق کرتے ہیں، جو ان کی حدیث سنا دیتا ہے اور یہ لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ انہوں نے کس سے حدیث کو لیا ہے: حسن بصری، ابوالعالیہ، حمید بن ہلال، داؤد بن ابوہند۔ یہ روایت اعمش کے حوالے سے، ابوسفیان کے حوالے سے جابر سے منقول ہے، انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس کی علت کو بھی ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدَ بُنُ يَزِيْدَ الزَّعْفَرَانِيِّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ضَحِكَ مِنْكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيُعِدِ الصَّلاةَ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، فَلا يَصِحُّ وَالصَّحِيحُ عَنْ جَابِرٍ خِلافُهُ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ : يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ضَعِيفٌ ، وَيُكَنَّى بِأَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ ، وَابْنُهُ ضَعِيفٌ أَيْضًا ، وَقَدْ وَهَمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعَيْنِ أَحَدُهُمَا فِي رَفْعِهِ إِيَّاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالآخَرُ فِي لَفْظِهِ وَالصَّحِيحُ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ مِنْ قَوْلِهِ : " مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلاةِ أَعَادَ الصَّلاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوءَ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَنِ الأَعْمَشِ جَمَاعَةٌ مِنَ الرُّفَعَاءِ الثِّقَاتُ ، مِنْهُمْ : سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، وَوَكِيعٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَغَيْرُهُمْ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جو شخص نماز کے دوران ہنس پڑا تھا، وہ دوبارہ وضو کرے اور نماز ادا کرے۔“ شیخ ابوبکر نیشاپوری فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے اور مستند نہیں ہے۔ سیدنا جابر سے مستند طور پر اس کے برخلاف منقول ہے۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الضَّحِكِ وُضُوءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(نماز کے دوران) ہنسنے کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الضَّحِكِ وُضُوءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(نماز کے دوران) ہنسنے کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَضْحَكُ فِي الصَّلاةِ : فَقَالَ : " يُعِيدُ الصَّلاةَ وَلا يُعِيدُ الْوُضُوءَ " .
محمد محی الدین
سفیان بیان کرتے ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو نماز کے دوران ہنس پڑتا ہے، (تو انہوں نے فرمایا:) ”وہ نماز دوبارہ پڑھے گا، البتہ اس پر وضو لازم نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " إِذَا ضَحِكَ الرَّجُلُ فِي الصَّلاةِ أَعَادَ الصَّلاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوءَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز میں ہنس پڑے، تو وہ دوبارہ نماز ادا کرے گا، البتہ اس پر وضو لازم نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : وَنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، نا وَكِيعٌ ، قَالَ : وَنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا جَرِيرٌ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ " إِذَا ضَحِكَ فِي الصَّلاةِ أَعَادَ الصَّلاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوءَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز کے دوران ہنس پڑے، تو وہ نماز کو دہرائے گا، البتہ اس پر وضو کرنا لازم نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَهْشَلُ بْنُ دَارِمٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُلاعِبٍ ، ثنا وَرْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الضَّحِكِ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " يُعِيدُ وَلا يَتَوَضَّأُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے نماز کے دوران ہنسنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو فرمایا: ”وہ شخص دوبارہ نماز ادا کرے گا، البتہ اس کے لیے (وضو) کرنا لازم نہیں۔“
حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الضَّحِكِ فِي الصَّلاةِ : " لَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةُ الْوُضُوءِ " . وَعَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
ابوسفیان نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے دوران ہنسنے والے کے بارے میں یہ بات فرمائی ہے: ”وہ شخص دوبارہ نماز ادا کرے، لیکن دوبارہ وضو کرنا لازم نہیں۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ شعبی سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذٍ ، نا أَبِي ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعَ أَبَا سُفْيَانَ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " لَيْسَ عَلَى مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلاةِ وُضُوءٌ " . وَعَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
ابوسفیان بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص نماز کے دوران ہنس پڑتا ہے، اس پر وضو لازم نہیں ہوتا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الضَّحِكِ وُضُوءٌ " . وَعَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(نماز کے دوران) ہنسنے کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الضَّحِكِ وُضُوءٌ " . وَرَوَاهُ أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(نماز کے دوران) ہنسنے کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہوتا (یعنی وضو نہیں ٹوٹتا)۔“
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَرْوَانَ الصَّيْرَفِيُّ ، نا الْمُنْذِرُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الضَّحِكُ يُنْقِضُ الصَّلاةَ وَلا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ " . خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ عَنْ أَبِيهِ فِي لَفْظِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہنسنا نماز کو توڑ دیتا ہے، وضو کو نہیں توڑتا۔“
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي أبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أبِي ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَلامُ يُنْقِضُ الصَّلاةَ وَلا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ " .
محمد محی الدین
اس کے برعکس ایک اور روایت بھی موجود ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”(نماز کے دوران) کلام کرنا نماز کو توڑ دیتا ہے، وضو کو نہیں توڑتا۔“
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا مُوسَى ، وَابْنُ عَائِشَةَ ، قَالا : نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ لا يَرَى عَلَى الَّذِي يَضْحَكُ فِي الصَّلاةِ وُضُوءًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان کے نزدیک نماز کے دوران ہنسنے کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ ، نا وَكِيعٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ التَّبَسُّمُ الصَّلاةَ حَتَّى يُقَرْقِرَ " . رَفَعَهُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مسکرا دینا نماز کو نہیں توڑتا، جب تک آدمی قہقہہ نہ لگائے (نماز نہیں ٹوٹتی)۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ”مرفوع“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " إِذَا ضَحِكَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَعَلَيْهِ إِعَادَةُ الصَّلاةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: جب کوئی شخص نماز کے دوران ہنس پڑے تو اس پر دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہو گا۔
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، قَالَ : خَرَجَ أَبُو مُوسَى فِي وَفْدٍ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ أَعْوَرُ ، فَصَلَّى أَبُو مُوسَى فَرَكَعُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ فَتَرَدَّى الأَعْوَرُ فِي بِئْرٍ ، قَالَ الأَحْنَفُ : فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَتَرَدَّى فِيهَا فَمَا مِنَ الْقَوْمِ إِلا ضَحِكَ غَيْرِي ، وَغَيْرَ أَبِي مُوسَى فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قَالَ : " مَا بَالُ هَؤُلاءِ ؟ " ، قَالُوا : فُلانٌ تَرَدَّى فِي بِئْرٍ ، " فَأَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا الصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
حمید بن ہلال فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک وفد کے ہمراہ روانہ ہوئے، اس وفد میں عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک نابینا شخص بھی تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، سب لوگ رکوع میں گئے، انہوں نے اپنے سر جھکائے، ان کی پشت پر موجود نابینا شخص کنویں میں گر گیا۔ احنف نامی راوی بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس کی آواز سنی کہ وہ کنویں میں گر گیا ہے، تو حاضرین میں سے میرے اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر شخص ہنس پڑا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی اور دریافت کیا: ان لوگوں کو کیا ہوا تھا؟ ان لوگوں نے بتایا: فلاں شخص گڑھے میں گر گیا تھا، تو سیدنا ابوموسیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ نماز ادا کریں۔
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا هُشَيْمٌ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، قَالَ : صَلَّى أَبُو مُوسَى بِأَصْحَابِهِ ، فَرَأَوْا شَيْئًا فَضَحِكُوا مِنْهُ ، قَالَ أَبُو مُوسَى حَيْثُ انْصَرَفَ مِنْ صَلاتِهِ : " مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ان ساتھیوں نے کوئی ایسی چیز دیکھی جس پر وہ ہنس پڑے، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: تم میں سے جو بھی شخص ہنس پڑا تھا وہ دوبارہ نماز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 665
نا نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَرَأَوْا شَيْئًا فَضَحِكَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى حَيْثُ انْصَرَفَ : " مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلاةَ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، لوگوں نے کوئی ایسی چیز دیکھی جس پر سیدنا ابوموسیٰ کی اقتداء میں بعض لوگ ہنس پڑے، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص ہنس پڑا تھا وہ دوبارہ نماز ادا کرے۔
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا مُحَمَّدٌ حَاتِمٌ الزِّمِّيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْعَصْرِ فَتَبَسَّمَ فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبَسَّمْتَ وَأَنْتَ تُصَلِّي ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّهُ مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَعَلَى جَنَاحِهِ غُبَارٌ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ ، وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو عصر کی نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے نماز کے دوران تبسم فرمایا، جب آپ نے نماز ختم کی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! آپ نے نماز کے دوران تبسم فرمایا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر غبار تھا، وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے، تو میں انہیں دیکھ کر مسکرایا، وہ (دشمن) کی ایک قوم کا پیچھا کر کے واپس آ رہے تھے۔“
حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَدَّاءُ ، أنا صُبْحُ بْنُ دِينَارٍ ، نا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الضَّاحِكُ فِي الصَّلاةِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَرْقِعُ أَصَابِعَهُ بِمَنْزِلَةٍ " .
محمد محی الدین
سہل بن معاذ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نماز کے دوران ہنسنے والا، ادھر ادھر دیکھنے والا اور اپنی انگلیاں چٹخانے والا ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي مُنَاوِلَةَ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ شَرِيكٍ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نا جَدِّي ، نا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلاةِ إِعَادَةُ وُضُوءٍ ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لَهُمْ حِينَ ضَحِكُوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص نماز کے دوران ہنس پڑے، اس پر وضو کرنا لازم نہیں ہوتا، یہ حکم ان لوگوں کے لیے تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔