کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بِوَاسِطَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ يَزِيدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّازُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، قَالا : ثنا وَكِيعٌ ، نا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَالَ الْحَسَّانِيُّ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِّ لِلْمُسَافِرِ ثَلاثًا إِلا مِنْ جَنَابَةٍ ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ رِيحٍ " . لَمْ يَقُلْ فِي هَذَا : أَوْ رِيحٍ ، غَيْرُ وَكِيعٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر شخص کے لیے تین دنوں تک موزوں پر مسح کرنے کی رخصت دی ہے۔ البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے (تو یہ حکم صرف) پاخانہ کرنے، پیشاب کرنے یا ہوا خارج ہونے کے بارے میں ہے (یعنی اس کے بعد آدمی وضو کے دوران موزوں پر مسح کر سکتا ہے)۔“ ہوا خارج ہونے کا حکم صرف ایک روایت میں ہے۔
حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لُؤْلُؤٌ ، نا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ بَلَلا وَلا يَذْكُرُ احْتِلامًا ، قَالَ : " يَغْتَسِلُ " ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنْ قَدِ احْتَلَمَ وَلا يَجِدُ بَلَلا ، قَالَ : " لا غُسْلَ عَلَيْهِ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : أَعْلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ إِنَّ الرِّجَالَ شَقَائِقُ النِّسَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ غسل کر لے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے یہ یاد ہوتا ہے، اسے احتلام ہوا تھا لیکن اسے تری نظر نہیں آتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس پر غسل لازم نہیں ہو گا۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اگر عورت یہ چیز دیکھ لے؟ تو کیا اس پر بھی یہ حکم لازم ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں! عورتیں مردوں کا پہلو ہیں۔“
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغُسْلُ مِنْ خَمْسَةٍ : مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَغُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ ، وَالْغُسْلُ مِنْ مَاءِ الْحَمَّامِ " . مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”غسل کرنا پانچ صورتوں میں لازم ہوتا ہے: جنابت کے بعد، جمعہ کے دن غسل کرنا، میت کو غسل دینے کے بعد، حمام کے پانی میں نہانے کے بعد۔“ اس روایت کا راوی مصعب بن شعبہ، ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، قَالا : نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ لا تَحِلُّ لَهُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ إِلا قَدْ أَصَابَهُ مِنْهَا إِلا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا ؟ فَقَالَ : " تَوَضَّأْ وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ " ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الآيَةَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 ، فَقَالُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ فَقَالَ : " بَلْ هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ جو کسی ایسی عورت کے قریب جاتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں اور جو مرد عورتوں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ ہر کام اس کے ساتھ کر لیتا ہے، البتہ اس کے ساتھ صحبت نہیں کرتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، پھر اٹھ کر نماز ادا کر لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”تم نماز کو دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور رات کے کچھ حصے میں بھی۔“ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا یہ حکم اس شخص کے لیے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الطَّرَسُوسِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَسَارٍ مَدِينِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لا تُعَادُ الصَّلاةُ مِنَ الْقُبْلَةِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَيُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي إِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”بوسہ لینے کی وجہ سے نماز کو دہرایا نہیں جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور بعد میں نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس روایت کی سند میں منصور بن ڈاذان نامی راوی نے اس طرح کی بات نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ، نا أَبُو حَفْصٍ التِّنِّيسِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَمَا يَتَوَضَّأُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کے نبی میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ فِي الْحَدِيثِ ، وَالْمَحْفُوظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُفَّاظُ الثِّقَاتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِنْهُمْ مَعْمَرٌ ، وَعُقَيْلٌ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْقُبْلَةِ الْوُضُوءُ ، وَلَوْ كَانَ مَا رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ صَحِيحًا ، لَمَا كَانَ الزُّهْرِيُّ يُفْتِي بِخِلافِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، جس میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ امام مالک نے امام زہری کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”بوسہ لینے کے بعد وضو لازم ہو جاتا ہے۔“ تو اگر زہری کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر زہری کو اس کے خلاف فتویٰ نہیں دینا چاہیے تھا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے!۔
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ " .
محمد محی الدین
امام مالک، ابن شہاب زہری کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”اگر شوہر اپنی بیوی کا بوسہ لے تو اس پر وضو کرنا لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَاءِهِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ثُمَّ ضَحِكَتْ . تَفَرَّدَ بِهِ الْحَاجِبُ ، عَنْ وَكِيعٍ وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ ، عَنْ وَكِيعٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ، وَحَاجِبٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ كِتَابٌ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کے رسول اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (یہ بات بیان کرنے کے بعد) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے، جبکہ آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَرَّاقُ ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا بَلَغَهَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ فِي الْقُبْلَةِ الْوُضُوءُ ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ لا يَتَوَضَّأُ " . وَلا أَعْلَمُ حَدَّثَ بِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ هَكَذَا ، غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک قول کا پتہ چلا کہ بوسہ لینے کے بعد وضو لازم ہو جاتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے اور آپ از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 490
وَذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ : نا ابْنُ الْمُصَفَّى ، ثنا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَلا يُعِيدُ الْوُضُوءَ " . فَقُلْتُ لَهَا : لَئِنْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَ إِلا مِنْكِ ، فَسَكَتَتْ . هَكَذَا قَالَ فِيهِ : إِنَّ رَجُلا قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ .
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو وضو کر لینے کے بعد اپنی بیوی کا بوسہ لے لیتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“ وہ صاحب کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اگر ایسا ہی ہے، تو وہ اہلیہ آپ ہی ہوں گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہی۔
حدیث نمبر: 491/2
وَذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ ، نا هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا قَبَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . غَالِبٌ هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس روایت کا راوی غالب ابن عبیداللہ ہے، اور وہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . يُقَالُ : إِنَّ الْوَلِيدَ بْنَ صَالِحٍ وَهِمَ فِي قَوْلِهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، وَإِنَّمَا هُوَ حَدِيثُ غَالِبٍ . وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَإِنَّمَا هُوَ حَدِيثُ غَالِبٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ " . وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: ”بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔“ یہ روایت درست ہے۔
حدیث نمبر: 495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . قَالَ عُرْوَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ ؟ فَضَحِكَتْ . وَقَالَ ابْنُ مَالَجَ : " يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " ، قُلْتُ : مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ ؟ فَضَحِكَتْ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے اور پھر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے کہا: ”وہ خاتون آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔
حدیث نمبر: 496
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : نا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ ، فَتَلَقَّاهُ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ فَيُقَبِّلُهَا ، ثُمَّ يُصَلِّي " . قَالَ عُرْوَةُ : قُلْتُ لَهَا مَنْ تَرِينَهُ غَيْرُكِ ؟ فَضَحِكَتْ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ہوتے اور نماز کے لیے وضو کر لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اہلیہ آپ کے سامنے آتی تو آپ ان کا بوسہ لے لیتے اور پھر نماز ادا کر لیتے (یعنی از سر نو وضو نہیں کرتے تھے)۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے کہا: ”وہ آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اللَّبَّانِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي النَّجْمِ ، بِالرَّافِقَةِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے، پھر اپنی اہلیہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ان دونوں کا لفظ ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 498
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ وَذُكِرَ لَهُ حَدِيثُ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ . فَقَالَ : أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا زَعَمَ أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ اس بارے میں سفیان ثوری جو سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں: حبیب نامی راوی نے عروہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ حَدِيثًا الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " تُصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَفِي الْقُبْلَةِ " . قَالَ يَحْيَى : احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهٌ لا شَيْءَ.
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز ادا کر لیتی تھی، اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوتے تھے۔ اسی طرح بوسہ لینے کے حوالے سے بھی یحییٰ نامی راوی نے بیان کیا ہے: ”اسے میری طرف سے بیان کر دو۔“ ان دونوں کی حیثیت اسی طرح ہے، جیسے ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُقَبِّلُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . هَذَا حَدِيثُ غُنْدَرٍ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، غَيْرُ أَبِي رَوْقٍ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَلا نَعْلَمُ حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ ، وَأَبِي حَنِيفَةَ ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ فَأَسْنَدَهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَسْنَدَهُ أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ وَكِلاهُمَا أَرْسَلَهُ ، وَإِبْرَاهِيمُ التَّمِيمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ وَلا مِنْ حَفْصَةَ وَلا أَدْرَكَ زَمَانَهُمَا . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فَوَصَلَ إِسْنَادَهُ . وَاخْتُلِفَ عَنْهُ فِي لَفْظُهُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ . وَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُقَبِّلُ وَلا يَتَوَضَّأُ " ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے اور وضو کرنے کے بعد آپ (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ وکیع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابن مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس (اپنی اہلیہ) کا بوسہ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوعاصم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کی سند میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لے لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کیا کرتے تھے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے!۔
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْجُرْجَانِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ، ثُمَّ لا يُعِيدُ الْوُضُوءَ ، أَوْ قَالَتْ : يُصَلِّي " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کے بعد (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) آپ نماز ادا کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 502
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُؤَذِّنُ ، نا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، نا قَبِيصَةُ ، نا سُفْيَانُ ، بِإِسْنَادِهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ثُمَّ يُصَلِّي " ، مِثْلَهُ . وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي حَنِيفَةَ .
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ یہ بات منقول ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کے بعد (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور پھر نماز ادا کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 503
فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَارُودِ الْقَطَّانُ ، نا يَحْيَى بْنُ نَصْرِ بْنِ حَاجِبٍ ، نا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ ثُمَّ يُقَبِّلُ وَلا يُحْدِثُ وُضُوءًا " .
محمد محی الدین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے وضو کرتے تھے اور پھر (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " . كَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے تھے، جب کہ آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے۔ عثمان بن ابوشعیب نے اسی طرح نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ الدِّمَشْقِيُّ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نا هِشَامٌ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ وَيَلْمِسُهَا ، أَيَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَتْ : " لَرُبَّمَا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبَّلَنِي ثُمَّ يَمْضِي فَيُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . زَيْنَبُ هَذِهِ مَجْهُولَةٌ وَلا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب، سیدہ زینب کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ جو اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، اسے چھو لیتا ہے، تو کیا اس شخص پر وضو کرنا لازم ہو گا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور پھر میرا بوسہ لے لیتے اور پھر تشریف لے جاتے اور نماز ادا کرتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔“ اس روایت کی راوی زینب مجہول ہے اور اس طرح کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 506
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرٍ الْجَوْهَرِيُّ ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ زَيْنَبَ السَّهْمِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُهَا ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . قَالَ : وَكَانَ عَطَاءٌ لا يَرَى فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب، سیدہ زینب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ عطاء کے نزدیک بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلًّى ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا : نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا أَبُو بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ لا يُحْدِثُ وُضُوءًا " . قَوْلُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ وَهْمٌ ، وَإِنَّمَا أَرَادَ غَالِبَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ هُوَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ضَعِيفٌ ، وَلَيْسَ بِالَّذِي يَرْوِي عَنْهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر از سر نو وضو نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں پر راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت عبداللہ بن غالب سے منقول ہے، یہ وہم ہے۔ ان کی مراد یہ تھی: یہ غالب بن عبیداللہ سے منقول ہے، اور یہ راوی متروک ہے۔
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ " .
محمد محی الدین
عطاء اس بات کے قائل ہیں: ”بوسہ لینے سے وضو لازم نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ ، نا حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ " . هَذَا خَطَأٌ مِنْ وُجُوهٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیتے تھے، جب کہ آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نماز ادا کر لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ اس میں کئی حوالوں سے خطا موجود ہے۔
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان کے نزدیک بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 512
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”بوسہ لینے سے وضو کرنا لازم نہیں ہوتا۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 513
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِنْقَرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، قَالُوا : نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدَيْ عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَانِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَبِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي مَدْحَتَكَ وَثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ كَرَامَةَ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ : بِمُعَافَاتِكَ مِنْ غَضَبِكَ . تَابَعَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَخَالَفَهُمْ وُهَيْبٌ ، وَمُعْتَمِرٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، فَرَوَوْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالُوا عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَا هُرَيْرَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے آپ کو تلاش کیا تو میرا ہاتھ آپ کے دونوں پاؤں پر پڑا، جو سجدے کی حالت میں تھے۔ میں نے سنا کہ آپ یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تونے خود اپنی ذات کی ثناء بیان کی ہے۔“ اس روایت کی سند میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، نا حُرَيْثٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَمْ أَغْتَسِلْ بَعْدُ فَجَاءَنِي فَضَمَمْتُهُ إِلَيَّ وَأَدْفَيْتُهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (سردی کے موسم میں) غسل جنابت کرتے تھے اور میں نے ابھی غسل جنابت نہیں کیا ہوتا تھا، آپ میرے پاس تشریف لاتے، تو میں آپ کو اپنے ساتھ لپٹا لیتی اور آپ کے جسم کو حرارت پہنچاتی۔
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، قَالا : نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، نا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِي ، فَقُلْتُ : قَامَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ ، فَقُمْتُ أَتَجَسَّسُ الْجُدُرَ وَلَيْسَ لَنَا كَمَصَابِيحِكُمْ هَذِهِ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَوَضَعْتُ يَدَيْ عَلَى صَدْرِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ . خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَوُهَيْبٌ وَغَيْرُهُمَا ، رَوَوْهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں اٹھی۔ میں نے سوچا کہ آپ اپنی کنیز ماریہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔ میں اٹھی اور دیواروں کو ٹٹولنے لگی، کیونکہ ان دنوں ہمارے ہاں تم لوگوں کی طرح چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں کی پشت پر رکھا تو آپ سجدے میں یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے اللہ! میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تونے خود اپنی ثناء بیان کی ہے۔“ اس روایت کا ایک راوی فرج بن فضالہ رحمہ اللہ ضعیف ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اسے مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 516
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ أَعَادَ الْوُضُوءَ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے اور وہ وضو کی حالت میں ہو، تو وہ دوبارہ وضو کرے۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي قُتَيْلَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ ، فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”بوسہ لینا لمس (جس کا ذکر قرآن میں ہے) کا حصہ ہے، تو تم اس کے بعد وضو کرو۔“ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسِّهِ بِيَدِهِ مِنَ الْمُلامَسَةِ ، وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انہوں نے آدمی کے اپنی بیوی کو بوسہ دینے اور ہاتھ سے چھونے کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”یہ ملامست کا حصہ ہے، تو جو شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے اور ہاتھ کے ذریعے اسے چھوئے، تو اس پر وضو لازم ہو جاتا ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔
…