حدیث نمبر: 476
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتُمْ خَرَجْتُمْ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَصَحُّوا فَأَقْبَلُوا عَلَى الرُّعَاةِ فَقَتَلُوهُمْ ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتُرِكُوا بِالْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”عرینہ“ قبیلے کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے، وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ تندرست ہو گئے، پھر وہ لوگ ان اونٹوں کے چرواہے کے پاس گئے اور اسے قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو اپنے ساتھ ہانک کر لے گئے اور اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگوں کو بھیجا۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور پھر انہیں پتھریلی زمین پر ڈال دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔