کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : تر یا خشک منی کے پاک ہونے اور اس کے حکم کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الأَزْهَرِ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : إِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ وَالْبُزَاقِ ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَمْسَحَهُ بِخِرْقَةٍ أَوْ بِإِذْخِرَةٍ " . لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، ثِقَةٌ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں پر منی لگ جانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بلغم اور تھوک کی طرح ہے، تمہارے لیے اتنا کافی ہو گا، تم اسے کسی کپڑے یا گھاس کے ذریعے صاف کر لو۔“ صرف اسحاق نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي " الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : إِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ النُّخَامَةِ وَالْبُزَاقِ أَمِطْهُ عَنْكَ بِإِذْخِرَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کپڑوں پر منی لگ جانے کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے یہ بات فرمائی ہے: ”یہ بلغم اور تھوک کی طرح ہے، تم اسے گھاس کے ذریعے صاف کر لو۔“
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَابِسًا ، وَأَغْسِلُهُ إِذَا كَانَ رَطْبًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی، جب وہ خشک ہوتی تھی اور اگر وہ تر ہوتی تھی تو میں اسے دھو لیتی تھی۔
حدیث نمبر: 450
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لأَتْبَعُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْسِلُهُ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں (منی کا) داغ دیکھتی تھی تو اسے دھو دیتی تھی۔ یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ مَنِيٌّ غَسَلَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ مِنْ أَثَرِ الْغُسْلِ فِي ثَوْبِهِ " . صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر منی لگ جاتی تو آپ اسے دھو لیتے اور نماز کے لیے تشریف لے جاتے، جب کہ آپ کے کپڑے پر دھونے کے اثر کے نشان میں دیکھ رہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ أَبِي الْفُضَيْلِ ، عَنْ أُمِّ الْقَلُوصِ عَمْرَةَ الْغَاضِرِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَرَى عَلَى الثَّوْبِ جَنَابَةً ، وَلا الأَرْضِ جَنَابَةً ، وَلا يُجَنِّبُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ " . لا يُثْبَتُ هَذَا ، أُمُّ الْقَلُوصِ ، لا تُثْبَتُ بِهَا حُجَّةٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے: ”کپڑے کو جنابت لاحق نہیں ہوتی، زمین کو جنابت لاحق نہیں ہوتی اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو جنبی نہیں کرتا۔“ یہ روایت ثابت نہیں ہے، اس روایت کی راوی ام قلوص نامی خاتون کو مستند تسلیم نہیں کیا گیا۔