حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : " أَلا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا عَلَى طُهْرٍ " . مُرْسَلٌ ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھا تھا، اس میں یہ بات بھی تھی: ”تم قرآن کو صرف باوضو حالت میں چھونا۔“ یہ روایت ”مرسل“ ہے اور اس کے راوی ”ثقہ“ ہیں۔
حدیث نمبر: 436
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، قَالَ : كَانَ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى نَجْرَانَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
ابوبکر بن محمد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھا تھا، جب انہیں نجران بھیجا تھا تو اس میں یہ بات بھی تھی: (اس کے بعد حسب سابق روایت ہے)۔
حدیث نمبر: 437
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا طَاهِرًا " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔“
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدٍ ابْنِي أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا فِيهِ : " وَلا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا طَاهِرًا " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خط لکھا تھا، جس میں یہ بات بھی تھی: ”قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔“
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالا : نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فَكَانَ فِيهِ : " لا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا طَاهِرٌ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو یہ خط لکھا تھا جس میں یہ بات بھی تھی: ”قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔“
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِنْقَرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، نا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، نا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " لا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا وَأَنْتَ عَلَى طُهْرٍ " . قَالَ لَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ : سَمِعْتُ جَعْفَرًا ، يَقُولُ : سَمِعَ حَسَّانُ بْنُ بِلالٍ مِنْ عَائِشَةَ ، وَعَمَّارٍ ، قِيلَ لَهُ : سَمِعَ مَطَرٌ مِنْ حَسَّانَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ.
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: ”تم قرآن کو صرف اس وقت چھونا جب تم وضو کی حالت میں ہو۔“
حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ، قَالا : نا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا السَّيْفَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوْا ، فَأَتَاهُمَا عُمَرُ وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، يُقَالُ لَهُ : خَبَّابٌ ، وَكَانُوا يَقْرَؤُونَ طه ، فَقَالَ : أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي عِنْدَكُمْ أَقْرَأَهُ ، وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ لَهُ أُخْتُهُ : إِنَّكَ رِجْسٌ ، وَلا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ ، فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ ، فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ فَقَرَأَ طه " . الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گلے میں تلوار لٹکا کر نکلے تو انہیں بتایا گیا: ”آپ کے بہنوئی اور آپ کی بہن بے دین ہو گئے ہیں (یعنی انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس آئے، ان دونوں کے پاس اس وقت ایک مہاجر شخص بیٹھا ہوا تھا، جس کا نام حباب تھا۔ یہ لوگ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جو یہ کتاب موجود ہے، یہ مجھے بھی دو تاکہ میں اس کو پڑھوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کتاب کو پڑھنا چاہتے تھے لیکن ان کی بہن نے ان سے کہا: ”آپ ناپاک ہیں، اسے صرف پاکیزہ لوگ چھو سکتے ہیں، انہیں اور غسل کریں یا وضو کریں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے، انہوں نے وضو کیا، پھر انہوں نے اس تحریر کو لیا اور سورۃ فاتحہ کو پڑھا۔ اس روایت کا راوی قاسم بن عثمان مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فِي سَفَرٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَقُلْنَا لَهُ : تَوَضَّأْ حَتَّى نَسْأَلَكَ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : سَلُونِي فَإِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا مَا أَرَدْنَا وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ مَاءٌ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ خَالَفَهُ جَمَاعَةٌ.
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے، انہوں نے قضائے حاجت کی، ہم نے ان سے کہا: ”آپ وضو کر لیں تاکہ ہم آپ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کریں۔“ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم مجھ سے سوال کرو، میں قرآن کو چھو تو نہیں رہا۔“ پھر انہوں نے ہمارے سامنے وہ آیت تلاوت کی، جو ہم چاہ رہے تھے اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پانی موجود نہیں تھا۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ایک جماعت نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فَخَرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، لَوْ تَوَضَّأْتَ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَكَ عَنْ آيَاتٍ ، فَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ إِنَّمَا لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا مَا يَشَاءُ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ تشریف لے گئے، انہوں نے قضائے حاجت کی، پھر وہ تشریف لائے تو میں نے عرض کی: ”اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیں تو مناسب ہو گا، تاکہ ہم آپ سے کچھ آیات کے بارے میں دریافت کریں۔“ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں قرآن کو چھو نہیں رہا، اسے صرف باوضو لوگ چھو سکتے ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو ہم چاہتے تھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الصَّغَانِيُّ ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا الأَعْمَشُ ، وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ ، فَقُلْتُ : أَيْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأْ لَعَلَّنَا نَسْأَلُكَ عَنْ آيِ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : سَلُونِي فَإِنِّي لا أَمَسُّهُ إِنَّهُ لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ " ، فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ . الْمَعْنَى قَرِيبٌ كُلُّهَا صِحَاحٌ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں شریک تھے، وہ تشریف لے گئے، انہوں نے قضائے حاجت کی، پھر وہ تشریف لائے تو میں نے عرض کی: ”اے ابوعبداللہ! آپ وضو کر لیں تاکہ ہم آپ سے قرآن کی کچھ آیات کے بارے میں دریافت کر لیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے سوال کرو میں اسے چھو نہیں رہا، اسے صرف باوضو لوگ چھو سکتے ہیں۔“ پھر ہم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے سوالات کیے، اور انہوں نے وضو کرنے سے پہلے ہی ہمارے سامنے کچھ آیات کی تلاوت کی۔ اس روایت کا مضمون قریب قریب ہے، اور تمام اسناد مستند طور پر منقول ہیں۔
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، نا أَبُو الأَحْوَصِ ، قَالَ : وَثنا عُثْمَانُ ، نا جَرِيرٌ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا وَكِيعٌ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، نَحْوَهُ وَهَذَا مِثْلُهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ عبدالرحمن بن یزید کے حوالے سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا وَكِيعٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ سَلْمَانَ " أَنَّهُ قَرَأَ بَعْدَ الْحَدَثِ " . كُلُّهَا صِحَاحٌ.
محمد محی الدین
علقمہ اور اسود کے حوالے سے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے بے وضو ہونے کی حالت میں قرآن کی آیت کی تلاوت کی تھی۔ یہ تمام اسناد مستند ہیں۔