حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَر ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ هَكَذَا " . إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ کلی کی، پھر تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا، دونوں بازوؤں میں سے ہر ایک کو تین، تین مرتبہ دھویا، اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اس روایت کا راوی اسحاق یحییٰ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 302
نا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا أَبِي ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقِ بْنِ جَمْرَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا " .
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو پہلے کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی داڑھی کا تین مرتبہ خلال کیا، پھر دونوں بازوؤں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، دونوں پاؤں کو تین، تین مرتبہ دھویا اور پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح (وضو) کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَرْدَانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ حُمْرَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوُضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، وَوَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ، وَقَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ هَكَذَا ، وَقَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَجْزَأَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، انہوں نے یہ بھی فرمایا: ’جو شخص اس سے کم وضو کرے تو ایسا کرنا بھی جائز ہو گا۔‘“
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، يَعْنِي عَلَى عُثْمَانَ مَنْزِلَهُ ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَتَمَضْمَضُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ ، قَالَ : أَلا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَاءٍ وَهُوَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ فَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَنَثَرَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا " ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ " .
محمد محی الدین
ابن دارہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے گھر داخل ہوا، انہوں نے میری آواز سنی کہ میں کلی کر رہا ہوں تو آواز دی: ”اے محمد!“ میں نے کہا: ”میں حاضر ہوں!“ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھی طرح یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا گیا، آپ اس وقت صحن میں تشریف فرما تھے، آپ نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا، تین، تین مرتبہ دونوں بازوؤں کو دھویا، تین مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، تین، تین مرتبہ اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور (پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے) یہ بات بیان کی: ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح ہے، میں نے یہ بات پسند کی کہ میں تمہیں یہ دکھا دوں۔‘“
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، بِمَكَّةَ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ، وَالْمَقَاعِدُ بِالْمَدِينَةِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ، وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ، فَلَمَّا فَرَغَ كَلَّمَهُ مُعْتَذِرًا إِلَيْهِ ، وَقَالَ : لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلا أَنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا وَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے مقاعد (کھلی جگہ) میں وضو کیا، مدینہ منورہ میں مقاعد (کھلی جگہ) وہ ہے جہاں مسجد کے قریب نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ کلی کی، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے۔ ایک شخص نے انہیں سلام کیا، وہ ابھی وضو کر رہے تھے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ وضو کر کے فارغ ہوگئے، فارغ ہوئے تو اس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس کے سامنے عذر پیش کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص اس طرح وضو کرے اور وضو کے دوران کوئی کلام نہ کرے اور یہ (وضو کے بعد) پڑھے: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور خاص رسول ہیں“ تو اس شخص کے دو مرتبہ وضو کرنے کے درمیان کیے جانے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘“
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ثَلاثًا ، وَقَالَ : " هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ " .
محمد محی الدین
عبدخیر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: ”انہوں نے وضو کرتے ہوئے ہر عضو کو تین، تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا تین مرتبہ مسح کیا اور یہ بات بیان کی: ’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا یہی طریقہ ہے، میں نے یہ بات پسند کی کہ میں تمہیں یہ دکھا دوں۔‘“
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَضْرَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صُبَيْحٍ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، تین مرتبہ کلی کرے، اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کو تین، تین مرتبہ دھوئے، اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کرے، اپنے دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر یہ پڑھے: ’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔‘ کسی بھی شخص سے بات کرنے سے پہلے وہ ایسا کرے تو اس شخص کے اس وضو اور (سابقہ یا اگلے) وضو کے درمیان والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوُضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، وَتَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، كُنْتُ عَلَى وُضُوءٍ وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت تشریف لائے اور مقاعد (کھلی جگہ) میں تشریف فرما ہوئے، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے اور پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں پہلے سے باوضو حالت میں تھا، لیکن میں نے یہ بات پسند کی، میں تم لوگوں کو دکھاؤں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے ہر عضو کو دو مرتبہ دھویا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 310
نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كَامِلٍ ، إِمْلاءً ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو مرتبہ وضو کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ حَرَّكَ خَاتَمَهُ فِي إِصْبَعِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے وضو کرتے تھے تو اپنی انگلی میں موجود انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔