کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب ، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ ، نا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لا بُدَّ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو کا ایک ایسا حصہ ہے جو ضروری ہے۔“
حدیث نمبر: 276
نا محَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ النَّقَّاشُ ، قَالا : نا محَمَّدُ بْنُ حَمِّ بْنِ يُوسُفَ التِّرْمِذِيُّ ، نا إسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ ، نا عصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لا يَتِمُّ الْوُضُوءُ إِلا بِهِمَا . تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " ، وَأَحْسَبُ عِصَامًا حَدَّثَ بِهِ مِنْ حِفْظِهِ ، فَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ فَاشْتَبَهَ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”یہ وضو کا ایک ایسا حصہ ہے، جس کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عصام نامی راوی منفرد ہیں اور انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے۔ صحیح روایت وہ ہے، جسے ابن جریج نامی راوی نے سلمان بن موسیٰ کے حوالے سے ”مرسل“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: میرا یہ خیال ہے، عصام نامی راوی نے اس حدیث کو اپنے حافظے کے حوالے سے بیان کیا اور یہ بات ان پر مختلط ہو گئی، اور ان پر اس روایت کی سند مشتبہ ہو گئی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 277
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى فِي الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ ، فَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " .
محمد محی الدین
جہاں تک ابن جریج کی سلیمان بن موسیٰ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کا تعلق ہے، جو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں ہے، تو وہ یہ ہے: ابن جریج بیان کرتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے یہ بات بیان کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے، اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " .
محمد محی الدین
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 279
نا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُؤَذِّنُ ، نا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، نا قَبِيصَةُ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " .
محمد محی الدین
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 280
نا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نا الْحُمَيْدِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الشَّامِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
سلیمان بن موسیٰ شامی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاهِرٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ ، بِبَلْخَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " . مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا خَطَأٌ وَالَّذِي قَبْلَهُ وَالْجَوَابُ أَصَحُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنا چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“ اس روایت کا راوی محمد بن ازہر ضعیف ہے اور یہ روایت غلط ہے، اس سے پہلے جو ”مرسل“ روایت نقل کی گئی تھی، وہ زیادہ مستند ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ غَضٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ سُنَّةٌ " . إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(وضو کے دوران) کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے۔“ اس روایت کا راوی اسماعیل بن مسلم ”ضعیف“ ہے۔
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَعَا يَوْمًا بِوُضُوءٍ ثُمَّ دَعَا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَغَسَلَهَا ثَلاثًا ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ رِجْلَيْهِ فَأَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مثل هَذَا الْوُضُوءِ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، ثُمَّ قَالَ : أَكَذَلِكَ يَا فُلانُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَكَذَلِكَ يَا فُلانُ ؟ قَالَ : نَعَمْ حَتَّى اسْتَشْهَدَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَافَقْتُمُونِي عَلَى هَذَا.
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے ایک دن وضو کا پانی منگوایا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کچھ افراد کو بلایا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے تین مرتبہ دھویا۔ انہوں نے تین مرتبہ کلی کی، اس کے بعد ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین، تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح وضو کیا، جیسے ابھی آپ لوگوں نے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر اس کے بعد وہ دو رکعت نماز ادا کرے تو اپنے گناہوں کے حوالے سے وہ اس طرح ہو جاتا ہے، جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔‘“
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نا ابْنُ الأَشْجَعِيِّ ، نا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَرِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا يَتَوَضَّأُ ، يَا هَؤُلاءِ أَكَذَلِكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . عِنْدَهُ صَحِيحٌ إِلا التَّأْخِيرُ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ فَإِنَّهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَهَذَا اللَّفْظِ . وَرَوَاهُ الْعَدَنِيَّانِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، وَالْفِرْيَابِيُّ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَقَالُوا كُلُّهُمْ : إِنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، وَلَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا . وَخَالَفَهُمْ وَكِيعٌ ، رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا " . كَذَا قَالَ وَكِيعٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ.
محمد محی الدین
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، ”مقاعد“ میں تشریف لائے، آپ نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر سر کا مسح کیا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ یاد ہے، آپ نے اسی طرح وضو کیا۔“ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے حضرات! کیا یہ اسی طرح ہے؟“ تو ان حضرات نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہی تھی، جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ یہ روایت مستند ہے، البتہ سر کے مسح میں تاخیر ہونا یہ محفوظ نہیں ہے۔ اس کو نقل کرنے میں ایک راوی منفرد ہے جبکہ دیگر راویوں نے اپنی سند کے ہمراہ اس کو نقل کیا ہے۔ سب راویوں نے یہی بات نقل کی ہے: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تمام اعضاء کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ ان راویوں نے اس کے علاوہ مزید کوئی بات نقل نہیں کی۔ اس کے برخلاف وکیع نامی راوی نے اپنی سند کے ہمراہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو تین، تین مرتبہ دھویا۔ بعض دیگر راویوں نے بھی اس کو اسی حوالے سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّأَ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : أَلَيْسَ هَكَذَا رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . وَتَابَعَهُ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ . وَالصَّوَابُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ.
محمد محی الدین
ابوانس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیٹھک میں وضو کیا، اس وقت ان کے پاس کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہر عضو کو تین، تین مرتبہ دھویا اور پھر یہ دریافت کیا: ”کیا آپ حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟“ تو ان حضرات نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 286
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، وَثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهُمَا ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ خَلَّلَ أَصَابِعَهُ وَخَلَّلَ لِحْيَتِهِ ثَلاثًا ، حِينَ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ " . لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ حَرْفًا بِحَرْفٍ ، قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ : وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَوْضِعٌ فِيهِ عِنْدَنَا وَهْمٌ ؛ لأَنَّ فِيهِ الابْتِدَاءَ بِغَسْلِ الْوَجْهِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، فَبَدَأَ فِيهِ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ غَسْلِ الْوَجْهِ وَتَابَعَهُ أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ فَبَدَأَ فِيهِ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ الْوَجْهِ وَهُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر اور دونوں کانوں کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا مسح کیا اور پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھو لیے، پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کا خلال کیا، جب انہوں نے اپنا چہرہ دھویا تھا تو اس دوران انہوں نے تین مرتبہ اپنی داڑھی کا خلال بھی کیا تھا، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح (وضو) کیا تھا جیسے آپ حضرات نے مجھے (وضو) کرتے دیکھا ہے۔“ یہ روایت ان ہی الفاظ سے منقول ہے تاہم اس روایت میں ایک مقام پر راوی کو وہم لاحق ہوا ہے، کیونکہ اس میں وضو کے آغاز کا تذکرہ چہرہ دھونے سے کیا گیا ہے اور یہ چہرہ دھونا، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے ہے جبکہ عبدالرحمن نامی راوی نے اس روایت کو اسی سند کے ہمراہ نقل کیا ہے اور اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے ذریعے وضو کا آغاز کرنے کا تذکرہ ہے اور یہ عمل چہرہ دھونے سے پہلے ہے۔
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، نا أَبُو غَسَّانَ ، نا إِسْرَائِيلُ ، وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَهْرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا ، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ، وَخَلَّلَ أَصَابِعَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ، وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ " . يَتَقَارَبَانِ فِيهِ.
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا، پہلے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ایسا تین مرتبہ کیا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور پھر دونوں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا، انہوں نے اپنی داڑھی میں تین مرتبہ خلال کیا اور پھر دونوں پاؤں دھوئے، انہوں نے اپنے پاؤں کی انگلیوں کا بھی تین مرتبہ خلال کیا اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح (وضو) کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے میں نے یہ (وضو) کیا ہے۔“ ان دونوں روایات کے الفاظ قریب قریب ہیں۔