حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي ، نا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، نا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ " . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : يَعْنِي الَّذِي لا يُسْكِرُ ، كَذَا قَالَ ، وَوَهِمَ فِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ فِي مَوْضِعَيْنِ : فِي ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَفِي ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى الْمُسَيِّبِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص پانی نہ پائے اس کے لیے نبیذ وضو کا ذریعہ ہے۔“ امام ابومحمد بیان کرتے ہیں: اس سے مراد وہ نبیذ ہے جو نشہ آور نہ ہو۔ امام نے یہ بات بھی بیان کی ہے: اس روایت میں مسیب نامی راوی کو وہم ہوا ہے اور یہ وہم دو جگہ پر ہے، ایک یہ کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا ہے اور دوسرا یہ کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے۔ اس روایت میں مسیب کے حوالے سے کچھ الفاظ میں اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 235
فَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ ، نا محَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نا الْمُسَيِّبُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عِكْرِمَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالْمُسَيِّبُ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مسیب کے حوالے سے ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے، ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نہیں ہے۔ زیادہ مستند طور پر یہ بات ثابت ہے: یہ عکرمہ کا قول ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ”مرفوع“ حدیث نہیں ہے، نہ ہی اس کی نسبت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف درست ہے۔ مسیب نامی راوی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا هِقْلٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : قَالَ عِكْرِمَةُ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ " .
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”نبیذ اس شخص کے لیے وضو کا ذریعہ ہے، جس کو نبیذ کے علاوہ وضو کرنے کے لیے اور کچھ نہ ملے (یعنی اس کو پانی نہ ملے)۔“
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا أَبِي ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ إِذَا لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ " . قَالَ الأَوْزَاعِيُّ : " إِنْ كَانَ مُسْكِرًا فَلا يَتَوَضَّأُ بِهِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ أَبِي : " كُلُّ شَيْءٍ تَحَوَّلَ عَنِ اسْمِ الْمَاءِ لا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتَوَضَّأَ بِهِ وَيَتَيَمَّمُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ " .
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص نبیذ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ پائے، وہ نبیذ کے ذریعے وضو کر سکتا ہے۔“ امام اوزاعی بیان کرتے ہیں: ”اگر وہ نبیذ نشہ آور ہو، تو آدمی اس کے ذریعے وضو نہیں کرے گا۔“ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: ”ہر وہ چیز جسے پانی نہ کہا جا سکے، اس کے بارے میں میرے نزدیک پسندیدہ رائے یہی ہے: آدمی اس کے ذریعے وضو نہ کرے، اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے: آدمی نبیذ کے ذریعے وضو کرنے کی بجائے تیمم کرے۔“
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " الْوُضُوءُ بِالنَّبِيذِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءِ " .
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”نبیذ کے ذریعے وہ شخص وضو کر سکتا ہے، جسے پانی نہیں ملتا۔“
حدیث نمبر: 239
نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ " .
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ”جس شخص کو پانی نہیں ملتا، وہ نبیذ کے ذریعے وضو کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 240
نا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نا أَبُو تُمَيْلَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ لا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : " يَتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ " .
محمد محی الدین
عیسیٰ بن عبید بیان کرتے ہیں: میں نے عکرمہ کو سنا، ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس کو پانی نہیں ملتا۔ عکرمہ نے فرمایا: ”وہ شخص نبیذ کے ذریعے وضو کر لے۔“
حدیث نمبر: 241
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " النَّبِيذُ وُضُوءٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ " . ابْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”نبیذ کے ذریعے وہ شخص وضو کر سکتا ہے، جسے پانی نہیں ملتا۔“ اس روایت کا راوی ابن محرر ”متروک الحدیث“ ہے۔
حدیث نمبر: 242
نا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ، نا أَبُو عُبَيْدَةَ مَجَاعَةُ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ مَاءً وَوَجَدَ النَّبِيذَ فَلْيَتَوَضَّأْ بِهِ " . أَبَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَمَجَاعَةُ ضَعِيفٌ ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّهُ رَأَى عِكْرِمَةَ غَيْرَ مَرْفُوعٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو پانی نہ ملے اور اگر اسے نبیذ مل جائے تو وہ نبیذ کے ذریعے وضو کر لے۔“ اس روایت کا راوی ابان، ابوعیاش کا بیٹا ہے اور یہ ”متروک الحدیث“ ہے جبکہ مجاعہ نامی راوی ”ضعیف“ ہے۔ زیادہ مستند طور پر یہ بات ثابت ہے: یہ عکرمہ کی رائے ہے اور ”مرفوع“ حدیث نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 243
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاعِظُ ، نا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ بِنَبِيذٍ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ ، وَقَالَ : " شَرَابٌ طَهُورٌ " . ابْنُ لَهِيعَةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ، وَقِيلَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ . كَذَلِكَ رَوَاهُ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرُهُمَا عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا شَهِدْتُ لَيْلَةَ الْجِنِّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جنات سے ملاقات (کی رات) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ کے ذریعے وضو کروایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا، آپ نے فرمایا: ”یہ پینے کی چیز ہے اور پاک ہے۔“ ابن لہیعہ نامی راوی مستند نہیں سمجھا جاتا۔ ایک قول یہ بھی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود نہیں تھے۔ علقمہ بن قیس نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابوعبیدہ بن عبداللہ اور دیگر راویوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”جنات سے ملاقات کی رات میں موجود نہیں تھا۔“
حدیث نمبر: 244
نا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ قَانِعٍ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " ، فَقَالَ : مَعِيَ نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُبَّ عَلَيَّ مِنْهُ " ، فَتَوَضَّأَ ، وَقَالَ : " هُوَ شَرَابٌ وَطَهُورٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہ وہ رات تھی جب جنات سے ملاقات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میرے پاس برتن میں نبیذ موجود ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہی مجھ پر بہا دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کیا اور ارشاد فرمایا: ”یہ پینے کی چیز بھی ہے اور اس سے پاکی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں ابن لہیعہ نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف راوی ہے۔
حدیث نمبر: 245
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " أَشَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ لَيْلَةَ أَتَاهُ دَاعِي الْجِنِّ ؟ قَالَ : لا " . هَذَا الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودِ.
محمد محی الدین
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”جناب کے نمائندے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اس رات آپ میں سے کوئی ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”نہیں!“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے حوالے سے یہ روایت مستند ہے۔
حدیث نمبر: 246
نا ابْنُ مَنِيعٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي عُبَيْدَةَ : حَضَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، وہ عمرو بن مرہ سے، انہوں نے کہا: میں نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا عبداللہ بن مسعود جنات کی رات میں شریک ہوئے تھے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“
حدیث نمبر: 247
قُرِئَ عَلَى أَبِي قَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَمَعَكَ نَبِيذٌ ؟ أَحْسَبُهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ " . لا يُثْبَتُ مِنْ وَجْهَيْنِ وَنُكْتَةً ذَكَرْتُهَا فِيهِ .
محمد محی الدین
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعبیدہ سے دریافت کیا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنات سے ملاقات کی رات موجود تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں!“ ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”نہیں!“ آپ نے پھر دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس نبیذ ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نبیذ کے ذریعے وضو کر لیا۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: یہ روایت دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، اس کو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ ، وَأَبُو رَافِعٍ لَمْ يُثْبَتْ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِي مُصَنَّفَاتِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ وَلَيْسَ هُوَ بِقَوِيٍّ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کے مختلف راویوں پر جرح کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ قَالَ : لا مَعِيَ نَبِيذٌ ، قَالَ : فَدَعَى بِهِ فَتَوَضَّأَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات سے ملاقات کی رات دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”نہیں!“ میرے پاس نبیذ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس نبیذ کو لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ صَالِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَأَتَاهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ : " أَمَعَكَ مَاءٌ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ؟ " ، قُلْتُ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا إِدَاوَةً فِيهَا نَبِيذٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى الثِّقَاتِ.
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رات کے کسی حصے میں دریافت کیا: ”اے ابن مسعود! تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میرے پاس برتن میں صرف نبیذ موجود ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور پاکیزہ ہوتی ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ حسین بن عبید اللہ نامی راوی ثقہ راویوں کے حوالے سے روایات ایجاد کر کے اپنی طرف سے بیان کر دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 251
نا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، نا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خُذْ مَعَكَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ " ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَلَمَّا أَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْطَأْتُ بِالنَّبِيذِ ، فَقَالَ : " تَمْرَةٌ حُلْوَةٌ وَمَاءٌ عَذْبٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ساتھ پانی کا برتن لے لو۔“ پھر آپ چلتے رہے، میں بھی آپ کے ساتھ رہا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جنات سے ملاقات والے واقعہ کا تذکرہ کیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں نے اس برتن سے آپ پر پانی انڈیلا تو وہ نبیذ تھی۔ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، میں نبیذ لے آیا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کھجور میٹھی ہوتی ہے اور اس کا پانی میٹھا ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں حسن بن قتیبہ نامی راوی منفرد ہیں اور یہ حسن بن تشیبہ اور محمد بن عیسیٰ نامی راوی دونوں ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، نا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، ثنا الْوَلِيدُ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدٍ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ فُلانِ بْنِ غَيْلانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ الْجِنِّ بِوُضُوءٍ ، فَجِئْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَإِذَا فِيهَا نَبِيذٌ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . الرَّجُلُ الثَّقَفِيُّ الَّذِي رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَجْهُولٌ ، قِيلَ : اسْمُهُ عَمْرٌو وَقِيلَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَيْلانَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنات سے ملاقات کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وضو کا پانی ساتھ لانے کے لیے کہا: تو میں ایک برتن لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس میں نبیذ موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے وضو کر لیا۔ اس روایت کو جس ثقفی نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے: وہ مجہول ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کا نام عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق اس کا نام عبداللہ بن عمرو ہے۔
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نا أَبُو خَلْدَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي الْعَالِيَةِ : رَجُلٌ لَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ عِنْدَهُ نَبِيذٌ أَيَغْتَسِلُ بِهِ فِي جَنَابَةٍ ؟ قَالَ : لا ، فَذَكَرْتُ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، فَقَالَ : " أَنَبْذَتُكُمْ هَذِهِ الْخَبِيثَةُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ زَبِيبٌ وَمَاءٌ " .
محمد محی الدین
ابوخلدہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابوالعالیہ سے دریافت کیا: ایک ایسا شخص جس کے پاس پانی موجود نہ ہو، اس کے پاس نبیذ موجود ہو، تو کیا وہ اس نبیذ کے ذریعے غسل جنابت کر سکتا ہے؟ تو ابوالعالیہ نے جواب دیا: ”نہیں!“ تو میں نے ان کے سامنے جنات سے ملاقات والی حدیث کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارے ہاں جو نبیذ بنائی جاتی ہے، یہ خبیث ہوتی ہے، وہ جو چیز تھی وہ کشمش اور پانی تھا۔“
حدیث نمبر: 254
نا نا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلَّى ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كَانَ لا يَرَى بَأْسًا بِالْوُضُوءِ مِنَ النَّبِيذِ " . تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبیذ کے ذریعے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 255
نا نا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلَّى ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح وَثنا أَبُو سَهْلٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ مَزِيدَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِالْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ فرماتے ہیں: ”نبیذ کے ذریعے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“