کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا
حدیث نمبر: 161
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " بَلَى ، إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ ، فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلا بَأْسَ " . هَذَا صَحِيحٌ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
مروان اصفر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی اونٹنی کو قبلہ کی طرف رخ کر کے بٹھایا اور پھر بیٹھ کر اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگے۔ میں نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کیا اس بات سے منع نہیں کیا گیا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں! لیکن کھلی فضا میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ یہ روایت مستند ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 35، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 60، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 553، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 11، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 442، 443، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 161»
«قال ابن حجر: سند لا بأس به ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: 297/1»
حدیث نمبر: 162
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ ، ثُمَّ قَدْ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ : أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ يَسْتَدْبِرَهَا.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ”ہم (پاخانہ کرتے ہوئے اور اس کے بعد) اپنی شرمگاہوں پر پانی ڈالیں تو اس وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کریں یا رخ کریں۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کر رہے تھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ابن شوکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ہم قبلہ کی طرف رخ کریں یا پیٹھ کریں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: [إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 34، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 58، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1420، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 554، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 13، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 9، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 325، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 444، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 162، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15101، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 6597»
«قال الشيخ الألباني: صحيح ابن ماجة 325»
حدیث نمبر: 163
نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، حَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو سَهْلٍ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْضِعِ خَلائِهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةَ " . بَيْنَ خَالِدٍ وَعِرَاكٍ ، خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، کچھ لوگ پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے اور پیٹھ کرنے کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پاخانہ کی ایسی جگہ پر جا کر قضائے حاجت کرنے کی ہدایت کی جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: اس روایت کی سند میں خالد نامی راوی اور عراک نامی راوی کے درمیان خالد بن ابوصلت نامی راوی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 164
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : كَانُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ مُذْ كُنْتُ رَجُلا . وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَهُ ، فَقَالَ عِرَاكٌ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَهُ فَأَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَحُوِّلَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ " ، وَهَذَا مِثْلُهُ . تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ خَالِدٍ.
محمد محی الدین
خالد جزء بیان کرتے ہیں: وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھے، انہوں نے یہ فرمایا: ”میں جب سے جوان ہوا ہوں، میں نے کبھی بھی قبلہ کی طرف رخ کر کے پاخانہ نہیں کیا۔“ عراک بن مالک ان کے پاس موجود تھے، عراک نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیت الخلا کے بارے میں یہ حکم دیا، تو اس بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ اسی کی مانند ایک اور روایت منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 165
نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نا عَمِّي ، نا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ ، نا يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَحَوَّلَ مَقْعَدَتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ " . هَذَا الْقَوْلُ أَصَحُّ ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ويَحْيَى بْنُ مَطَرٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِرَاكٍ . وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكٍ ، وَتَابَعَهُمَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، إِلا إِنَّهُ قَالَ : عَنْ رَجُلٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے بارے میں یہ بات سنی کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے پاخانے کے لیے بیٹھنے کی جگہ کو قبلہ کے رخ کی طرف پھیر دیا گیا۔ یہ روایت زیادہ مستند ہے۔ اس روایت کو بعض دیگر راویوں نے بھی نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 166
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ ، وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلا غَائِطٍ مُذْ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ عِرَاكٌ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ " . هَذَا أَضْبَطُ إِسْنَادٍ ، وَزَادَ فِيهِ خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
خالد بن ابوصلت بیان کرتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس عراک بن مالک بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمایا: ”میں نے اتنے عرصے سے کبھی بھی پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا اور پیٹھ نہیں کی۔“ تو عراک نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث سنائی تھی، وہ فرماتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض لوگوں کی اس رائے کے بارے میں پتہ چلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے پاخانے کی جگہ کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ اس روایت کی سند میں زیادہ ضبط پایا جاتا ہے اور اس میں خالد بن ابوصلت نامی راوی کا اضافہ ہے اور یہ درست ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 167
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . ح وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ " . وَقَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَذْكُرُونَ كَرَاهِيَةَ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْفُرُوجِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ فَعَلُوهَا حَوِّلُوا مَقْعَدَتِي إِلَى الْقِبْلَةِ " ، وَهَذَا مِثْلُهُ.
محمد محی الدین
عراک بن مالک، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”میرے بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دو۔“ یحییٰ بن اسحاق نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو لوگ پیشاب یا پاخانے کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کا تذکرہ کر رہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ ایسا کہہ رہے ہیں، تم میرے بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِخَلائِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الْقِبْلَةِ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ كَرِهُوا ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کے بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا تھا، جب آپ کو اس بات کا پتہ چلا تھا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الأَحْوَلُ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، نا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَلَمَّا دَخَلْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرَجِ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " . عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں کسی کام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت الخلا میں دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضائے حاجت کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔ شیخ ابوالحسن (امام دارقطنی) فرماتے ہیں: عیسیٰ بن ابوعیسیٰ حناط نامی راوی ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 145، 148، 149، 3102، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 266، 266، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 661 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 59، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1418، 1421، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 23، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 22، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 12، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 11، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 694، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 322، 323، ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 169، 172، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4696»
«وقال الدارقطني: ضعفه بعيسى الحناط ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: 182/1»
حدیث نمبر: 170
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، نا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، نا وَرْقَاءُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاخانہ کرتے ہوئے یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہ کرو، اس کی طرف پیٹھ نہ کرو، بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 144، 394، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 264، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 658 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 57، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1416، 1417، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 20، برقم: 21، برقم: 22، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 20، 21، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 9، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 8، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 692، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 318، ، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 382، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 552، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 170، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23997»
حدیث نمبر: 171
نا إسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ : عَجِبْتُ لِقَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَمَا قَالا ؟ قُلْتُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا " . وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ " فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَفِي الصَّحْرَاءِ : " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى خَلْقًا مِنْ عِبَادِهِ يُصَلُّونَ فِي الصَّحْرَاءِ فَلا تَسْتَقْبِلُوهُمْ وَلا تَسْتَدْبِرُوهُمْ ، وَأَمَّا بُيُوتِكُمْ هَذِهِ الَّتِي يَتَّخِذُونَهَا لنَّتْنِ فَإِنَّهُ لا قِبْلَةَ لَهَا " . عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ وَهُوَ عِيسَى بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
عیسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے امام شعبی سے یہ کہا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول، اور نافع کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کردہ روایت، پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ امام شعبی نے دریافت کیا: ان دونوں حضرات نے کیا بات بیان کی ہے؟ تو میں نے جواب دیا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو یہ فرماتے ہیں: ”(قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو۔“ جبکہ نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا تشریف لے گئے، جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔“ تو امام شعبی نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کا تعلق ہے، تو وہ صحرا کے بارے میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو صحرا میں نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگوں کو استنجا کرتے ہوئے ان کی طرف رخ یا پیٹھ نہیں کرنی چاہیے، لیکن جہاں تک گھروں میں بنائے جانے والے بیت الخلا کا تعلق ہے، تو ان میں قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 171
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 446، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 171»
«قال الدارقطني : عيسى بن أبى عيسى هو الحناط وهو عيسى بن ميسرة ؛ وهو ضعيف»
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا : نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " ظَهَرْتُ عَلَى إِجَّارٍ عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ فِي سَاعَةٍ لَمْ أَظُنَّ أَحَدًا يَخْرُجُ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ ، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ " .
محمد محی الدین
واسع بن حبان بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا، ایک ایسے وقت میں جب مجھے یہ گمان تھا کہ اس وقت میں کوئی گھر سے نہیں نکلتا۔ جب میں نے توجہ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت) کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 172
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 145، 148، 149، 3102، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 266، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 661 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 59، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1418، 1421، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 23، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 22، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 12، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 11، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 694، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 322، 323، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 169، 172، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4696»