حدیث نمبر: 144
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ يَسْتهْزِئُ بِهِ : إِنِّي لأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : أَجَلْ أَمَرَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلا نَسْتَدْبِرَهَا ، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، وَلا نَسْتَكْفِيَ بِدُونِ ثَلاثِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا عَظْمٌ وَلا رَجِيعٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کسی مشرک نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے یہ کہا: میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ رفع حاجت کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے، ہم استنجا کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کریں اور دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم کے ذریعہ استنجا نہ کریں، ان پتھروں میں کوئی ہڈی یا مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 145
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا حمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : نا الأَعْمَشُ ، بِإِسْنَادٍ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 146
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : أَجَلْ إِنَّهُ لَيَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ ، وَقَالَ : " لا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کچھ مشرکین نے ان سے یہ کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر طرح کی بات کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ آپ کو استنجا کرنے کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے یا قبلہ کی طرف رخ کر کے استنجا کرے، اور آپ نے ہمیں مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی شخص تین پتھروں سے کم (پتھروں کے ذریعے) استنجا نہ کرے۔“ اس حدیث کی سند ”صحیح“ ہے۔
حدیث نمبر: 147
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، نا أَبِي ، عَنْ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَةٍ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلاثِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِيهِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ تین پتھروں کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے، ایسا کرنا اس کے لیے کافی ہو گا۔“ اس روایت کی سند ”حسن“ ہے۔
حدیث نمبر: 148
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالُوا : أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ ائْتِنِي بِحَجَرٍ " تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ۔.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی: ”وہ آپ کے لیے تین پتھر لے کر آئیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو پتھر اور ایک مینگنی لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو پھینک دیا اور فرمایا: ”یہ گندگی ہے، تم پتھر لے کر آؤ۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کہیں جا رہا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی: ”میں آپ کے لیے تین پتھر لے کر آؤں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں آپ کے پاس دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو ایک طرف ڈال دیا اور ارشاد فرمایا: ”یہ گندگی ہے، تم اس کی بجائے دوسری چیز (پتھر) میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس روایت میں ابواسحاق نامی راوی پر اختلاف کیا گیا ہے، (امام دارقطنی کہتے ہیں:) میں نے کسی دوسرے مقام پر اس اختلاف کی وضاحت کر دی ہے۔
حدیث نمبر: 149
نا تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا جَدِّي ، نا أَبِي ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ ، قَالَ : فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّهَا رِكْسٌ فَأْتِنِي بِغَيْرِهَا " . اخْتُلِفَ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَدْ بَيَّنْتُ الاخْتِلافَ فِي مَوَاضِعِ أُخَرَ ۔ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَجْمِرَ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ أَوْ حُمَمَةٍ " . إِسْنَادٌ شَامِيُّ لَيْسَ بِثَابِتٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم ہڈی، مینگنی یا کوئلے کے ذریعے استنجا کریں۔ اس روایت کی سند شامی ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 150
نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ حَائِلٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ " . عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ لا يُثْبَتُ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلا يَصِحُّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، ہم بوسیدہ ہڈی، مینگنی یا کوئلے کے ذریعہ استنجا کریں۔ اس روایت کے راوی علی بن رباح کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو طَاهِرٍ ، وعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالا : نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ أَوْ جِلْدٍ " . هَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ ثَابِتٍ أَيْضًا . عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبدالرحمن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی، جو انصاری تھے، کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: ”کوئی شخص ہڈی، مینگنی یا چمڑے کے ذریعے استنجا کرے۔“ اس روایت کی سند ثابت نہیں ہے۔ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عبدالرحمن مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 152
نا أبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، نا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِرَوْثٍ أَوْ عَظْمٍ " ، وَقَالَ : " إِنَّهُمَا لا تُطَهِّرَانِ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، ”مینگنی یا ہڈی کے ذریعے استنجا کیا جائے۔“ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ دونوں چیزیں پاک نہیں کرتی ہیں۔“ اس روایت کی سند ”صحیح“ ہے۔
حدیث نمبر: 153
نا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْعَسْكَرِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا أُبَيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الاسْتِطَابَةِ ، فَقَالَ : " أَوَلا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلاثَةَ أَحْجَارٍ ، حَجَرَيْنِ لِلصَّفْحَتَيْنِ وَحَجَرٌ لِلْمَسْرُبَةِ " . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
محمد محی الدین
ابی بن عباس اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجا کرنے کے طریقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں تین پتھر نہیں ملتے ہیں؟ دو پتھر مخرج کے کناروں (کو صاف کرنے کے لیے) اور ایک پتھر مخرج (کو صاف کرنے) کے لیے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے۔
حدیث نمبر: 154
نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَرَّ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ ، وَلا يَسْتَقْبِلُهَا وَلا يَسْتَدْبِرُهَا ، وَلا يَسْتَقْبِلُ الرِّيحَ وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ ، أَوْ ثَلاثَةِ أَعْوَادٍ ، أَوْ ثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ " . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ . وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سراقہ بن مالک مدلجی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ سے قضائے حاجت کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ قبلہ کی طرف سے ہٹ کر بیٹھے، اس کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے اور جس طرف ہوا چل رہی ہو اس طرف منہ نہ کرے، اور وہ تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرے، جس میں کوئی مینگنی شامل نہ ہو یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا مٹی کے تین لپ کے ذریعے کرے۔“
حدیث نمبر: 155
نا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُضَرِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، نا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَاجَتَهُ فَلْيَسْتَنْجِ بِثَلاثَةِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ ، أَوْ بِثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنَ التُّرَابِ " . قَالَ زَمْعَةُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ طَاوُسٍ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ بِهَذَا سَوَاءً . لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ الْمُضَرِيِّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، مُرْسَلا لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ وَهْبٍ ، وَوَكِيعٌ ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ زَمْعَةَ ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَوْلَهُ . وَقَدْ سَأَلْتُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَوْلِ زَمْعَةَ : إِنَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کرے تو وہ تین لکڑیوں کے ذریعے یا تین پتھروں کے ذریعے یا تین مرتبہ مٹھی میں مٹی بھر کر اس کے ذریعے استنجا کرے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے اور اس کی سند میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 156
نا محَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْبَرَازَ فَلْيُكْرِمَنَّ قِبْلَةَ اللَّهِ فَلا يَسْتَقْبِلْهَا وَلا يَسْتَدْبِرْهَا ، ثُمَّ لِيَسْتَطِبْ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ ثَلاثَةِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنَ التُّرَابِ ، ثُمَّ لِيَقُلِ : الْحَمْدُ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَ عَنِّي مَا يُؤْذِينِي وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي " .
محمد محی الدین
سلمہ بن وہرام بیان کرتے ہیں: میں نے طاؤس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”جب کوئی شخص پاخانہ کرنے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قبلے کا احترام کرے اور اس کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے، پھر تین پتھروں کے ذریعے طہارت حاصل کرے یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا پھر تین مرتبہ مٹھی بھر مٹی کے ذریعہ طہارت حاصل کرے اور پھر یہ پڑھے: ہر طرح کی حمد اس اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میرے اندر سے اس چیز کو باہر نکال دیا جو مجھے اذیت دے سکتی تھی اور میرے اندر اس چیز کو باقی رکھا جو میرے لیے فائدہ مند ہے۔“
حدیث نمبر: 157
نا أبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا إبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا هارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، نا زمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، مُرْسَلا .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس کے حوالے سے ”مرسل“ حدیث کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 158
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا محَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 159
نا إسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ ، وَحَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَلِيٌّ ، نا سُفْيَانُ ، نا سَلَمَةُ بْنُ وَهْرَامَ ، أنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . قَالَ عَلِيٌّ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : أَكَانَ زَمْعَةُ يَرْفَعُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَسَأَلْتُ سَلَمَةَ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، يَعْنِي لَمْ يَرْفَعْهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس سے منقول ہے اور ان کے قول کے طور پر منقول ہے، انہوں نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے۔ علی نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے دریافت کیا: کیا زمعہ نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر میں نے سلمہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو وہ اس چیز سے واقف نہیں تھے، یعنی یہ روایت ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول ہے۔