کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : نیت کا بیان
حدیث نمبر: 131
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَزِيدَ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ ، أنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
محمد محی الدین
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اعمال (کی جزا) کا دارومدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی ہو گی، جس شخص نے ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف کی ہو گی، اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی، اور جس شخص نے ہجرت دنیا کے لیے کی تھی تاکہ اسے حاصل کرے یا کسی عورت کے لیے کی تھی تاکہ وہ اس سے شادی کر لیتا تو اس کی ہجرت اسی طرف ہو گی جس کی طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 131
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1، 54، 2529، 3898، 5070، 6689، 6953، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1907، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 142، 143، 455، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 388، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 75، 3437، 3803، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2201، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1647، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 4227، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 28، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 131، وأحمد فى ((مسنده))برقم: 170»
حدیث نمبر: 132
نا نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، ثنا الْحَجَبِيُّ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، نا الْحَارِثُ بْنُ غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصُحُفٍ مُخْتَمَةٍ فَتُنْصَبُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلائِكَتِهِ : أَلْقُوا هَذَا وَاقْبَلُوا هَذَا ، فَتَقُولُ الْمَلائِكَةُ : وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْنَا إِلا خَيْرًا ، فَيَقُولُ وَهُوَ أَعْلَمُ : إِنَّ هَذَا كَانَ لِغَيْرِي ، وَلا أَقْبَلُ الْيَوْمَ مِنَ الْعَمَلِ إِلا مَا كَانَ ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهِي " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کچھ صحیفے لائے جائیں گے، جن پر مہر لگی ہوئی ہو گی، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: انہیں پرے کر دو! تو فرشتے عرض کریں گے: ہمیں تیری عزت کی قسم! ہمیں تو ان میں صرف بھلائی نظر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے، یہ سب کام دوسروں کے لیے تھے، آج کے دن میں صرف وہی عمل قبول کروں گا، جو صرف میری رضا کے لیے کیا گیا تھا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 132
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 132، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 7388، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2603، 6133»
حدیث نمبر: 133
نا نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الصَّنْدَلِيُّ ، قَالا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، وَغَيْرُهُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ فَمَنْ أَشْرَكَ مَعِيَ شَرِيكًا فَهُوَ لِشَرِيكِي يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَخْلِصُوا أَعْمَالَكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَقْبَلُ إِلا مَا أُخْلِصَ لَهُ ، وَلا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِلرَّحِمِ ، فَإِنَّهَا لِلرَّحِمِ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَلا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِوُجُوهِكُمْ ، فَإِنَّهَا لِوُجُوهِكُمْ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے: ”میں شریک سے پاک ہوں تو جو شخص میرے ساتھ کسی کو شریک کرے گا، تو وہ عمل میرے شریک کے لیے ہو گا (یعنی اسی سے وہ شخص اپنے بدلے کا طلبگار ہو)۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اے لوگو! اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کر لو! کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اس عمل کو قبول کرے گا جو خالص اس کے لیے ہو، اور تم یہ نہ کہو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور یہ رشتہ داری کی وجہ سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: وہ رشتے داری کے حوالے سے ہو گا، اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور تم یہ بھی نہ کہو: یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور یہ تمہاری وجہ سے ہے، کیونکہ وہ تمہاری وجہ سے ہی ہو گا، اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 133
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 92، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 133، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 35937، قال الهيثمي: وفيه إبراهيم بن مجشر وثقه ابن حبان وغيره وفيه ضعف وبقية رجاله رجال الصحيح ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:221/10»