حدیث نمبر: 98
نا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ . ح ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالا : ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَعُقَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " هَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا . زَادَ عَقِيلٌ : أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالدِّبَاغِ مَا يُطَهِّرُهَا " . وَقَالَ ابْنُ هَانِئٍ : " أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانا حرام ہے۔“ عقیل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں ”کیا پانی اور دباغت کے ذریعے اسے پاک نہیں کیا جا سکتا۔“ ابن ہانی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”کیا پانی اور کیکر کی چھال کے ذریعہ اسے پاک نہیں کیا جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 99
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَقَالَ : زَادَ عَقِيلٌ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا وَالدِّبَاغِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم عقیل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا پانی اور کیکر کی چھال کے ذریعے دباغت کر کے اسے پاک نہیں کیا جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 100
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالا : ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، فَقَالُوا : أُعْطِيتَهَا مَوْلاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : " أَفَلا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ وَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ " ، فَقَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ أَكْلُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کس کی ہے؟“ لوگوں نے بتایا ہے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو صدقے کے طور پر دی گئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اس کی کھال اتار کر اس کو دباغت کر کے اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار کو کھانا حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، إِمْلاءً ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَقُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ ، قَالُوا : نا أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ دَاجِنٍ لِبَعْضِ أَهْلِهِ قَدْ نَفَقَتْ ، فَقَالَ : " أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : " إِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا " . وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : " إِنَّ دِبَاغَهُ ذَكَاتُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک اہلیہ محترمہ کے پالتو بکری کے پاس سے گزرے جو مر چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دباغت کے ذریعے پاک ہو جاتی ہے۔“ ابن صاعد کی نقل کردہ روایت میں کچھ لفظی اختلاف ہے (یعنی ضمیر مجرد متصل واحد مونث غائب کی بجائے واحد مذکر غائب منقول ہے)۔
حدیث نمبر: 102
نا ابْنُ أَبِي صَاعِدٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، نا أحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ ، قَالا : نا الَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، نا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا وَدِبَاغُ إِهَابِهَا طَهُورُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس کا گوشت حرام ہے، اس کی کھال کو دباغت کے ذریعے پاک کیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 103
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا بلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نا عبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا ، وَقَالَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ لَحْمُهَا وَرُخِّصَ لَكُمْ فِي مَسْكِهَا " . هَذِهِ أَسَانِيدُ صِحَاحٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ زہری سے منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اس کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی کھال (کو استعمال کرنے) کی اجازت دی گئی ہے۔“ اس حدیث کی سند ”صحیح“ ہے۔
حدیث نمبر: 104
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَهْلِ شَاةٍ مَاتَتْ : " أَلا نَزَعْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ وَانْتَفَعْتُمْ بِهِ ؟ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری کے مالک سے فرمایا: ”تم لوگوں نے اس کی کھال کو کیوں نہیں اتارا؟ تم اس کی دباغت کرتے اور اس سے فائدہ حاصل کرتے۔“
حدیث نمبر: 105
نا بِهِ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ أَلا دَبَغْتُمُوهُ ، فَإِنَّهُ ذَكَاةٌ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پالتو بکری مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے، اس کی دباغت کرو، کیونکہ اس طرح وہ پاک ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 106
ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُونَ : " ذَكَاةُ الصُّوفِ غَسْلُهُ " خَالَفَهُ حُسَيْنٌ الْمَرْوَرُوذِيُّ ، عَنْ شَرِيكٍ ، فَقَالَ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مردار کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے: اس کی دباغت کی جائے۔“ ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرات فرمایا کرتے تھے: ”اون کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے: اسے دھو لیا جائے۔“
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ كَامِلٍ ، نا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اس کی دباغت کرنا ہی اسے پاک کرنا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 108
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا ، أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مثل الْحِمَارِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا " ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ " .
محمد محی الدین
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ لوگ اپنی بھیڑ بکری کو اس طرح کھینچ رہے تھے جیسے (مردار) گدھے کو کھینچا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم اس کی کھال حاصل کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور کیکر کے پتے اسے پاک کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 109
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَبْدِيُّ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، نا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ ، فَقَالَتْ : مَا عِنْدِي مَاءٌ إِلا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ قَدْ دَبَغَتْهَا ؟ ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ ذَكَاتَهَا دِبَاغُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے پانی طلب کیا تو اس نے عرض کی: میرے پاس جو پانی ہے وہ ایک ایسے مشکیزے میں ہے جو ایک مردہ (جانور) کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس (کی کھال) کی دباغت نہیں کر لی تھی؟“ اس خاتون نے عرض کی: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے نتیجے میں یہ پاک ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 110
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا قَالَ : " دِبَاغُ الأَدِيمِ ذَكَاتُهُ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”چمڑے کو دباغت کرنے سے وہ پاک ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 111
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الدَّقِيقِيُّ ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا قَالَ : " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اس کی دباغت ہی اسے پاک کر دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 112
نا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا عَفَّانُ ، وَالْحَوْضِيُّ ، وَمُوسَى ، قَالُوا : نا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا وَقَالَ : " دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اس کی دباغت اسے پاک کر دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِبَاغُ كُلِّ إِهَابٍ طُهُورُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہر کھال دباغت کے ذریعے پاک ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 114
ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، نا ابْنُ أَبِي مَذْعُورٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب چمڑے کی دباغت کر لی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، نا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، نا عَمَّارُ بْنُ سَلامٍ أَبُو مُحَمَّدٍ ، نا زَافِرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 ، قَالَ : الطَّاعِمُ الآكِلُ ، فَأَمَّا السِّنُّ ، وَالْقَرْنُ ، وَالْعَظْمُ ، وَالصُّوفُ ، وَالشَّعْرُ ، وَالْوَبَرُ ، وَالْعَصَبُ فَلا بَأْسَ بِهِ لأَنَّهُ يُغْسَلُ " . وَقَالَ شَبَابَةُ : " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُؤْكَلُ مِنْهَا وَهُوَ اللَّحْمُ فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَهُوَ حَلالٌ " ، أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تم یہ فرما دو! میری طرف جو چیز وحی کی گئی ہے، اس میں، میں ایسی کسی چیز کو نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام قرار دی گئی ہو۔“ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: یہاں طاعم (کھانے والے) سے مراد کھانے والا شخص ہے، جہاں تک دانت، سینگ، ہڈی، اون، بال، وبر کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ انہیں دھو لیا جاتا ہے۔ شبابہ نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ”مردار کی وہ چیز حرام ہوتی ہے، جسے کھایا جاتا ہے اور وہ چیز گوشت ہے جہاں تک کھال، ہڈی، دانت، بال، اون کا تعلق ہے، تو انہیں (دوسرے کاموں کے لیے) استعمال کرنا جائز ہے۔“ اس روایت کا راوی ابوبکر ہذلی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 116
نا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِبَيْرُوتَ ، نا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ ، وَلا بَأْسَ بِصُوفِهَا وَشَعْرِهَا وَقُرُونِهَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَاءِ " . يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوكٌ ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ فرماتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب مردار کی کھال کی دباغت کر لی جائے تو پھر اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کی اون، اس کے بال، اس کے سینگ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جب انہیں پانی کے ذریعہ دھو لیا جائے۔“ اس روایت کا راوی یوسف بن سفر، متروک ہے اور اس سے اس روایت کے علاوہ اور کوئی روایت منقول نہیں ہے (یا اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے)۔
حدیث نمبر: 117
نا عبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا إسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ، نا سلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ یوسف بن سفر کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَيْلِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُسْرِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا حَرَّمَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا ، وَأَمَّا الْجِلْدُ ، وَالشَّعْرُ ، وَالصُّوفُ فَلا بَأْسَ بِهِ " . عَبْدُ الْجَبَّارِ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کا گوشت (کھانے) کو حرام قرار دیا ہے، جہاں تک اس کی کھال، اس کے بال اور اون کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس روایت کا راوی ”عبدالجبار“ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَابِدُ ، نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَوْ زَيْنَبَ ، أَوْ غَيْرِهِمَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ مَيْمُونَةَ مَاتَتْ شَاةٌ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَسْتَمْتِعُ بِهَا وَهِيَ مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : " طَهُورُ الأُدْمِ دِبَاغُهُ " . وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ.
محمد محی الدین
ہزیل بن شرحبیل، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یا ان دونوں کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور زوجہ محترمہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں، یہ تو مردار ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے ذریعے چمڑہ پاک ہو جاتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے منقول ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی۔
حدیث نمبر: 120
نا محَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي هَوْذَةَ ، نا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ ، حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 ، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْمَيْتَةِ حَلالٌ إِلا مَا أُكِلَ مِنْهَا ، فَأَمَّا الْجِلْدُ ، وَالْقَرْنُ ، وَالشَّعْرُ ، وَالصُّوفُ ، وَالسِّنُّ ، وَالْعَظْمُ فَكُلُّ هَذَا حَلالٌ لأَنَّهُ لا يُذَكَّى " . أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (اللہ تعالیٰ نے) ارشاد فرمایا: ”تم یہ فرما دو! میری طرف جو چیز وحی کی گئی ہے اس میں، میں نے یہ چیز نہیں پائی جو اس کے کھانے والے کے لیے حرام ہو۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) ”مردار کی ہر چیز حلال ہے ماسوائے اس چیز کے جو کھائی جاتی ہے، جہاں تک کھال، سینگ، بال، اون، دانت، ہڈی کا تعلق ہے، تو یہ سب حلال ہیں، کیونکہ انہیں ذبح نہیں کیا جاتا۔“ اس روایت کا راوی ابوبکر ہذلی ”متروک“ ہے۔
حدیث نمبر: 121
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”جس کھال کی دباغت کر دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے۔
حدیث نمبر: 122
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَرْدَانْشَاهَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ، نا الْوَاقِدِيُّ ، نا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دِبَاغُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ طَهُورُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مردار کی کھال کی دباغت کر دینا اس کو پاک کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، نا سُوَيْدٌ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى شَاةٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " ، قَالُوا : مَيْتَةٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْبُغُوا إِهَابَهَا ، فَإِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورٌ " . الْقَاسِمُ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے، آپ نے دریافت کیا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کی دباغت کرو، کیونکہ اس کی دباغت اسے پاک کر دیتی ہے۔“ اس روایت کا راوی قاسم ”ضعیف“ ہے۔
حدیث نمبر: 124
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، نا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " طَهُورُ كُلِّ أَدِيمٍ دِبَاغُهُ " . إِسْنَادٌ حَسَنٌ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”چمڑے کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے، اس کی دباغت کر لی جائے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 125
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الرَّقِّيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ : نا فرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ لَهَا شَاةٌ تَحْتَلِبُهَا ، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَتِ الشَّاةُ ؟ " ، قَالُوا : مَاتَتْ ، قَالَ : " أَفَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ ، قُلْنَا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ دِبَاغَهَا يَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ خَلُّ الْخَمْرِ " . تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کی ایک بکری تھی جس کا وہ دودھ دوھ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بکری نظر نہیں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”بکری کہاں ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: وہ مر گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ ہم نے عرض کی: وہ تو مردار ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دباغت اسے حلال کر دیتی ہے، جس طرح سرکہ، شراب کو حلال کر دیتا ہے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں فرج بن فضالہ منفرد ہے اور یہ ”ضعیف“ ہے۔
حدیث نمبر: 126
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغَلِّسٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْبَلْخِيُّ ، نا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ ، نا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا هِيَ دُبِغَتْ تُرَابًا كَانَ أَوْ رَمَادًا أَوْ مِلْحًا أَوْ مَا كَانَ ، بَعْدُ أَنْ تُرِيدَ صَلاحَهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردہ جانور کی کھال استعمال کرو، اس کی مٹی، راکھ یا نمک یا کسی بھی چیز کے ذریعے دباغت کر لی گئی ہو یا (راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں:) یا جس چیز کے (ذریعے دباغت کر لینے) کے بعد وہ استعمال کے قابل ہو جائے۔“