حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثُونَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا كُنَّا بِالشَّامِ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا الْمَاءِ ؟ مَا رَأَيْتُ مَاءً عَذْبًا وَلا مَاءَ سَمَاءٍ أَطْيَبَ مِنْهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : جِئْتُ بِهِ مِنْ بَيْتِ هَذِهِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِيَّةِ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاهَا ، فَقَالَ " أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ ، أَسْلِمِي تَسْلَمِي بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ " ، قَالَ : فَكَشَفَتْ رَأْسَهَا فَإِذَا مثل الثَّغَامَةِ ، فَقَالَتْ : عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَإِنَّمَا أَمُوتُ الآنَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ أشْهَدْ " .
محمد محی الدین
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ہم لوگ شام میں تھے تو میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پانی لے کر آیا، انہوں نے اس پانی سے وضو کر لیا اور پھر دریافت کیا: تم یہ پانی کہاں سے لے کر آئے ہو؟ میں نے اس سے زیادہ میٹھا اور اس سے زیادہ صاف کوئی آسمانی پانی بھی نہیں دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں اسے ایک بوڑھی عیسائی عورت کے گھر سے لے کر آیا ہوں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو آپ اس خاتون کے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”اے بوڑھی خاتون! تم اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گی، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے اپنے سر سے چادر ہٹائی تو اس کے بال ثغامہ (پھولوں کی طرح سفید) تھے، وہ بوڑھی عورت بولی: اب تو میں مرنے والی ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا!“
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا ابْنُ خَلادِ بْنِ أَسْلَمَ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، تَوَضَّأَ مِنْ بَيْتِ نَصْرَانِيَّةٍ أَتَاهَا ، فَقَالَ : أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ ، أَسْلِمِي تَسْلَمِي بَعَثَ اللَّهُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَشَفَتْ عَنْ رَأْسِهَا ، فَإِذَا مثل الثَّغَامَةِ ، فَقَالَتْ : عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَأَنَا أَمُوتُ الآنَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ أشْهَدْ " .
محمد محی الدین
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عیسائی کے گھر سے وضو کیا، پھر آپ اس خاتون کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”اے بڑی بی! اسلام قبول کر لو، تم سلامت رہو گی، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔“ اس عورت نے اپنے سر سے چادر ہٹائی تو (اس کے بال ثغامہ پھول کی طرح سفید) تھے، اس بوڑھی عورت نے کہا: اب تو میں مرنے والی ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔“