حدیث نمبر: 98
نا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ . ح ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالا : ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يُونُسَ ، وَعُقَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " هَلا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا . زَادَ عَقِيلٌ : أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالدِّبَاغِ مَا يُطَهِّرُهَا " . وَقَالَ ابْنُ هَانِئٍ : " أَوَلَيْسَ فِي الْمَاءِ وَالْقَرَظِ مَا يُطَهِّرُهَا " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانا حرام ہے۔“ عقیل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں ”کیا پانی اور دباغت کے ذریعے اسے پاک نہیں کیا جا سکتا۔“ ابن ہانی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”کیا پانی اور کیکر کی چھال کے ذریعہ اسے پاک نہیں کیا جا سکتا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 98
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 2221، 5531، 5532، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 363، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1829، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1280، 1282، 1284، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4246، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4120، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1727، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 98، 99، 100، 101، 102، 103، 104، 105، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 498، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2030»
«قال الدارقطني: هذه أسانيد صحاح ، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 601/1»