حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ . ح وَحَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي إِيَاسَ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَتَهُ نَفِسَتْ وَأَنَّهَا رَأَتِ الطُّهْرَ بَعْدَ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ أَتَتْ فِرَاشَهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " ، قَالَتْ : قَدْ طَهُرْتُ ، قَالَ : فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : " إِلَيْكِ عَنِّي فَلَسْتِ بِالَّذِي تُعْزِبُنِي عَنْ دِينِي حَتَّى تَمْضِيَ لَكِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " . وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، غَيْرُ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین

عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: ان کی اہلیہ کو نفاس آگیا۔ انہوں نے بیس دن کے بعد طہر دیکھ لیا۔ وہ پاک صاف ہو کر ان کے بستر پر آئی تو انہوں نے کہا: ”تمہارا کیا مسئلہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میں پاک ہو چکی ہوں۔“ تو انہوں نے اس خاتون کو اپنے پاؤں سے مارا اور کہا: ”مجھ سے دور ہو جاؤ، تم ایسی چیز نہیں ہو جو مجھے میرے دین سے الگ کر سکے۔ جب تک چالیس دن نہیں گزر جاتے (تم میرے قریب نہیں آ سکتی ہو)۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ وہ شخص ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ اس روایت کو جلد بن ایوب کے حوالے سے صرف معاویہ نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحيض / حدیث: 859
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 996، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 859، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17738، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 23»
«قال الدارقطني: الجلد بن أيوب وهو ضعيف ، سنن الدارقطني: (1 / 411) برقم: (859)»