حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : " تَعُدُّ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ وَتُصَلِّي " . تَفَرَّدَ بِهِ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَلا يَصِحُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَهِمَ فِيهِ ، وَإِنَّمَا هِيَ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فاطمہ بنت قیس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ عورت کا مسئلہ دریافت کیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے مخصوص ایام کا شمار کرے۔ پھر جب وہ پاک ہو جائے تو غسل کر لے اور نماز ادا کیا کرے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں جعفر بن سلیمان نامی راوی منفرد ہے۔ ابن جریج نے ابوزبیر کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ اس میں راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ اس خاتون کا نام فاطمہ بنت ابوحبیش تھا۔