حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَاسِطِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يَقُولُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَكُونُ الْحَيْضُ لِلْجَارِيَةِ وَالثَّيِّبِ الَّتِي قَدْ أَيِسَتْ مِنَ الْحَيْضِ أَقَلَّ مِنْ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ وَلا أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ ، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ فَوْقَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ فَمَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا قَضَتْ ، وَدَمُ الْحَيْضِ أَسْوَدُ خَاثِرٌ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ ، وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتَحْتَشِي كُرْسُفًا ، فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتُعْلِيهَا بِأُخْرَى ، فَإِنْ غَلَبَهَا فِي الصَّلاةِ فَلا تَقْطَعِ الصَّلاةَ وَإِنْ قَطَرَ " . لا يُثْبَتُ عَبْدُ الْمَلِكِ ، وَالْعَلاءُ ضَعِيفَانِ ، وَمَكْحُولٌ لا يُثْبَتُ سَمَاعُهُ.سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کم سن لڑکی اور وہ عورت جو حیض سے مایوس ہو چکی ہو اس کا حیض تین دن سے کم نہیں ہو گا، اور دس دن سے زیادہ نہیں ہو گا۔ اگر دس دن کے بعد بھی اسے خون نظر آئے تو وہ عورت مستحاضہ شمار ہو گی۔ اس کے ایام مخصوص سے زیادہ جو دن ہوں گے ان کی (نمازوں کی وہ) قضاء کرے گی۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:) ”حیض کا خون سیاہ اور گاڑا ہوتا ہے جس میں سرخی غالب ہوتی ہے جبکہ استحاضہ کا خون زرد اور پتلا ہوتا ہے۔ اگر زیادہ خون خارج ہو رہا ہو تو وہ روئی رکھ لیا کرے۔ اگر اور زیادہ ہو تو کوئی پٹی وغیرہ رکھ لے۔ اگر وہ نماز کے دوران بھی خارج ہو رہا ہو تو وہ عورت نماز نہ چھوڑے اگرچہ اس سے قطرے ٹپک رہے ہوں۔“ یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ اس کے دو راوی عبدالملک اور علاء دونوں ضعیف ہیں جبکہ مکحول نامی راوی کا سماع ثابت نہیں ہے۔