حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلاةَ سَنَتَيْنِ أَوْ سِنِينَ لا أُصَلِّي ، فَقَالَتِ : انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ ، فَقَالَتْ : هَذِهِ فَاطِمَةُ ، تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلا وَاحِدًا ثُمَّ الطَّهُورُ بَعْدُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِيَ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ " .ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں: ”مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں جہنم میں نہ چلی جاؤں کیونکہ میں نے دو برس سے (راوی کو شک ہے اس میں یہ الفاظ ہیں) کئی برس سے نماز ادا نہیں کی۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم انتظار کرو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو (ان سے دریافت کرنا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو سیدہ عائشہ نے بتایا: ”یہ فاطمہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کر دیا کرو۔ پھر روزانہ ایک مرتبہ غسل کر لیا کرو۔ اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو، اور اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ کر رکھو، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو لاحق ہوئی ہے یا یہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہو گئی۔“